Tafseer-e-Majidi - An-Nahl : 35
وَ قَالَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا عَبَدْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ نَّحْنُ وَ لَاۤ اٰبَآؤُنَا وَ لَا حَرَّمْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ١ؕ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ۚ فَهَلْ عَلَى الرُّسُلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ
وَقَالَ : اور کہا الَّذِيْنَ : وہ لوگ جو اَشْرَكُوْا : انہوں نے شرک کیا لَوْ : اگر شَآءَ اللّٰهُ : چاہتا اللہ مَا : نہ عَبَدْنَا : ہم پرستش کرتے مِنْ دُوْنِهٖ : اس کے سوائے مِنْ شَيْءٍ : کوئی۔ کسی شے نَّحْنُ : ہم وَلَآ : اور نہ اٰبَآؤُنَا : ہمارے باپ دادا وَلَا حَرَّمْنَا : اور نہ حرام ٹھہراتے ہم مِنْ دُوْنِهٖ : اس کے (حکم کے) سوا مِنْ شَيْءٍ : کوئی شے كَذٰلِكَ : اسی طرح فَعَلَ : کیا الَّذِيْنَ : وہ لوگ جو مِنْ قَبْلِهِمْ : ان سے پہلے فَهَلْ : پس کیا عَلَي : پر (ذمے) الرُّسُلِ : رسول (جمع) اِلَّا : مگر الْبَلٰغُ : پہنچا دینا الْمُبِيْنُ : صاف صاف
اور یقیناً ہم نے ہر امت میں ایک پیامبر بھیجا ہے کہ اللہ کی عبادت کرو اور شیطان (کی راہ) سے بچو،53۔ سو ان میں وہ بھی ہوئے جنہیں اللہ نے ہدایت دی اور وہ بھی جن پر گمراہی ثابت ہو کر رہی تو زمین پر چلو پھر و دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیسا (برا) انجام ہوا،54۔
53۔ (سو یہ توحید اور دین حق کی تعلیم کوئی نئی تعلیم نہیں، شروع سے چلی آرہی ہے) (آیت) ” رسولا “۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ہر ملک وقوم میں، مستقلا کوئی رسول ہی (اصطلاحی معنی میں) آیا ہو۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ ہر قوم تک پیغمبر کی تعلیم پہنچ گئی ہو، خواہ اس کے کسی نائب ہی کے ذریعہ سے۔ ہندوستان میں کوئی پیغمبر ہوئے یہاں نہیں ؟ یہ سوال ایک مدت سے چھڑا ہوا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہاں پیغمبر کی بعثت کا امکان تو بہرحال ہے، لیکن جزم ویقین کے ساتھ کسی صاحب کو پیغمبر قرار دے لینا، جب تک کہ ان کی پیغمبری پر کوئی مستقل دلیل نہ مل جائے، زیادتی ہے۔ (آیت) ” الطاغوت “۔ یہ منجملہ ان الفاظ کے ہے، جن کا ترجمہ اردو میں ایک لفظ سے ہونا دشوار ہے۔ اس لفظ پر حاشیہ سورة آل عمران پ 3) (آیت) ” ومن یکفر بالطاغوت ویؤمن باللہ “ کے ذیل میں گزر چکا۔ 54۔ اور تاریخ وعلم الآثار سے مدد لے کر دیکھو کہ وہ سرکش وخود فراموش قوموں کا کیا انجام بیان کررہی ہیں) (آیت) ” فسیروا “۔ خطاب مشرکوں سے ہے۔ ایھا المشرکون المکذبون (روح) (آیت) ” فمنھم۔۔۔ الضللۃ “ ، پیغمبر (علیہ السلام) کو تسکین دی ہے کہ آپ زیادہ غم وتردد نہ کیجئے، ضلالت وہدایت کے یہ معا ملات تو قدیم سے چلے آرہے ہیں۔
Top