Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
View Ayah In
Navigate
Surah
1 Al-Faatiha
2 Al-Baqara
3 Aal-i-Imraan
4 An-Nisaa
5 Al-Maaida
6 Al-An'aam
7 Al-A'raaf
8 Al-Anfaal
9 At-Tawba
10 Yunus
11 Hud
12 Yusuf
13 Ar-Ra'd
14 Ibrahim
15 Al-Hijr
16 An-Nahl
17 Al-Israa
18 Al-Kahf
19 Maryam
20 Taa-Haa
21 Al-Anbiyaa
22 Al-Hajj
23 Al-Muminoon
24 An-Noor
25 Al-Furqaan
26 Ash-Shu'araa
27 An-Naml
28 Al-Qasas
29 Al-Ankaboot
30 Ar-Room
31 Luqman
32 As-Sajda
33 Al-Ahzaab
34 Saba
35 Faatir
36 Yaseen
37 As-Saaffaat
38 Saad
39 Az-Zumar
40 Al-Ghaafir
41 Fussilat
42 Ash-Shura
43 Az-Zukhruf
44 Ad-Dukhaan
45 Al-Jaathiya
46 Al-Ahqaf
47 Muhammad
48 Al-Fath
49 Al-Hujuraat
50 Qaaf
51 Adh-Dhaariyat
52 At-Tur
53 An-Najm
54 Al-Qamar
55 Ar-Rahmaan
56 Al-Waaqia
57 Al-Hadid
58 Al-Mujaadila
59 Al-Hashr
60 Al-Mumtahana
61 As-Saff
62 Al-Jumu'a
63 Al-Munaafiqoon
64 At-Taghaabun
65 At-Talaaq
66 At-Tahrim
67 Al-Mulk
68 Al-Qalam
69 Al-Haaqqa
70 Al-Ma'aarij
71 Nooh
72 Al-Jinn
73 Al-Muzzammil
74 Al-Muddaththir
75 Al-Qiyaama
76 Al-Insaan
77 Al-Mursalaat
78 An-Naba
79 An-Naazi'aat
80 Abasa
81 At-Takwir
82 Al-Infitaar
83 Al-Mutaffifin
84 Al-Inshiqaaq
85 Al-Burooj
86 At-Taariq
87 Al-A'laa
88 Al-Ghaashiya
89 Al-Fajr
90 Al-Balad
91 Ash-Shams
92 Al-Lail
93 Ad-Dhuhaa
94 Ash-Sharh
95 At-Tin
96 Al-Alaq
97 Al-Qadr
98 Al-Bayyina
99 Az-Zalzala
100 Al-Aadiyaat
101 Al-Qaari'a
102 At-Takaathur
103 Al-Asr
104 Al-Humaza
105 Al-Fil
106 Quraish
107 Al-Maa'un
108 Al-Kawthar
109 Al-Kaafiroon
110 An-Nasr
111 Al-Masad
112 Al-Ikhlaas
113 Al-Falaq
114 An-Naas
Ayah
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66
67
68
69
70
71
72
73
74
75
76
77
78
79
80
81
82
83
84
85
86
87
88
89
90
91
92
93
94
95
96
97
98
99
100
101
102
103
104
105
106
107
108
109
110
111
112
113
114
115
116
117
118
119
120
121
122
123
124
125
126
127
128
Get Android App
Tafaseer Collection
تفسیر ابنِ کثیر
اردو ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑہی
تفہیم القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی
معارف القرآن
مفتی محمد شفیع
تدبرِ قرآن
مولانا امین احسن اصلاحی
احسن البیان
مولانا صلاح الدین یوسف
آسان قرآن
مفتی محمد تقی عثمانی
فی ظلال القرآن
سید قطب
تفسیرِ عثمانی
مولانا شبیر احمد عثمانی
تفسیر بیان القرآن
ڈاکٹر اسرار احمد
تیسیر القرآن
مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
تفسیرِ ماجدی
مولانا عبد الماجد دریابادی
تفسیرِ جلالین
امام جلال الدین السیوطی
تفسیرِ مظہری
قاضی ثنا اللہ پانی پتی
تفسیر ابن عباس
اردو ترجمہ: حافظ محمد سعید احمد عاطف
تفسیر القرآن الکریم
مولانا عبد السلام بھٹوی
تفسیر تبیان القرآن
مولانا غلام رسول سعیدی
تفسیر القرطبی
ابو عبدالله القرطبي
تفسیر درِ منثور
امام جلال الدین السیوطی
تفسیر مطالعہ قرآن
پروفیسر حافظ احمد یار
تفسیر انوار البیان
مولانا عاشق الٰہی مدنی
معارف القرآن
مولانا محمد ادریس کاندھلوی
جواھر القرآن
مولانا غلام اللہ خان
معالم العرفان
مولانا عبدالحمید سواتی
مفردات القرآن
اردو ترجمہ: مولانا عبدہ فیروزپوری
تفسیرِ حقانی
مولانا محمد عبدالحق حقانی
روح القرآن
ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی
فہم القرآن
میاں محمد جمیل
مدارک التنزیل
اردو ترجمہ: فتح محمد جالندھری
تفسیرِ بغوی
حسین بن مسعود البغوی
احسن التفاسیر
حافظ محمد سید احمد حسن
تفسیرِ سعدی
عبدالرحمٰن ابن ناصر السعدی
احکام القرآن
امام ابوبکر الجصاص
تفسیرِ مدنی
مولانا اسحاق مدنی
مفہوم القرآن
محترمہ رفعت اعجاز
اسرار التنزیل
مولانا محمد اکرم اعوان
اشرف الحواشی
شیخ محمد عبدالفلاح
انوار البیان
محمد علی پی سی ایس
بصیرتِ قرآن
مولانا محمد آصف قاسمی
مظہر القرآن
شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی
تفسیر الکتاب
ڈاکٹر محمد عثمان
سراج البیان
علامہ محمد حنیف ندوی
کشف الرحمٰن
مولانا احمد سعید دہلوی
بیان القرآن
مولانا اشرف علی تھانوی
عروۃ الوثقٰی
علامہ عبدالکریم اسری
معارف القرآن انگلش
مفتی محمد شفیع
تفہیم القرآن انگلش
سید ابو الاعلیٰ مودودی
Maarif-ul-Quran - Al-Qasas : 3
وَ قَالَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا عَبَدْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ نَّحْنُ وَ لَاۤ اٰبَآؤُنَا وَ لَا حَرَّمْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ١ؕ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ۚ فَهَلْ عَلَى الرُّسُلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ
وَقَالَ
: اور کہا
الَّذِيْنَ
: وہ لوگ جو
اَشْرَكُوْا
: انہوں نے شرک کیا
لَوْ
: اگر
شَآءَ اللّٰهُ
: چاہتا اللہ
مَا
: نہ
عَبَدْنَا
: ہم پرستش کرتے
مِنْ دُوْنِهٖ
: اس کے سوائے
مِنْ شَيْءٍ
: کوئی۔ کسی شے
نَّحْنُ
: ہم
وَلَآ
: اور نہ
اٰبَآؤُنَا
: ہمارے باپ دادا
وَلَا حَرَّمْنَا
: اور نہ حرام ٹھہراتے ہم
مِنْ دُوْنِهٖ
: اس کے (حکم کے) سوا
مِنْ شَيْءٍ
: کوئی شے
كَذٰلِكَ
: اسی طرح
فَعَلَ
: کیا
الَّذِيْنَ
: وہ لوگ جو
مِنْ قَبْلِهِمْ
: ان سے پہلے
فَهَلْ
: پس کیا
عَلَي
: پر (ذمے)
الرُّسُلِ
: رسول (جمع)
اِلَّا
: مگر
الْبَلٰغُ
: پہنچا دینا
الْمُبِيْنُ
: صاف صاف
اور مشرک کہتے ہیں کہ اگر خدا چاہتا تو نہ ہم ہی اس کے سوا کسی چیز کو پوجتے اور نہ ہمارے بڑے ہی (پوجتے) اور نہ اس کے (فرمان کے) بغیر ہم کسی چیز کو حرام ٹھراتے۔ (اے پیغمبر) اسی طرح ان سے اگلے لوگوں نے کیا تھا۔ تو پیغمبروں کے ذمے (خدا کے احکام کو) کھول کر پہنچا دینے کے سوا اور کچھ نہیں۔
تیسرا شبہ قال اللہ تعالیٰ : وقال الذین اشرکوا لوشاء اللہ ما عبدنا من دونہ من شیء ... الیٰ .... وما لہم من نصرین (ربط) اس آیت میں مشرکین کے تیسرے شبہ کا ذکر ہے جس کو وہ اپنے اعمال شرکیہ و کفریہ کا جواز اور استحسان ثابت کرنے کے لیے پیش کرتے تھے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کو ہمارا کفر اور شرک اور ہمارے شرکیہ مثلا بحیرہ و سائبہ وغیرہ ناپسند ہوتے تو ہم کو کرنے ہی کیوں دیتا۔ اگر خدا تعالیٰ کو ہماری یہ باتیں ناپسند ہوتیں تو وہ ہمیں ایسی باتیں کرنے سے روک دیتا اور اگر ہم نہ رکتے تو ہم کو فوراً سزا دیتا معلوم ہوا کہ خدا ہمارے اس کفر و شرک سے راضی اور خوش ہے اور باالفاظ دیگر ہم مجبور اور معذور ہیں خدا کے ارادہ اور مشیت کے خلاف نہیں کرسکتے۔ اس آیت میں مشرکین کے اس شبہ کا جواب دیتے ہیں حاصل جواب یہ ہے کہ یہ جہالت کی باتیں ہیں اگلے کافر بھی اپنے رسولوں کے مقابلہ میں اس قسم کی باتیں کیا کرتے تھے یعنی اپنے آپ کو بالکل مجبور محض بتاتے تھے یہ بالکل غلط ہے اللہ تعالیٰ نے انسان کو مجبور محض نہیں بنایا۔ بلکہ حق اور باطل کے سمجھنے کے لیے عقل عطا فرمائی اور پھر اس کو عمل کی قدرت بھی دی کہ اپنے اختیار سے خیرو شر کرسکے اور ہر گروہ میں اللہ تعالیٰ نے رہبری اور راہنمائی کے لیے رسول بھیجے جو بالاتفاق شرک اور بت پرستی اور برے کاموں سے منع کرتے رہے اور صاف یہ اعلان کرتے رہے کہ یہ کام خدا کے نزدیک ناپسندیدہ ہے انبیاء (علیہ السلام) کا کام تبلیغ تھا سو انہوں نے اللہ تعالیٰ کے احکام کو بندوں تک پہنچا دیا۔ اس کے بعد جس نے انبیاء (علیہ السلام) کا کہنا نہ مانا اس کو سزا ملی اس طرح ان پر اللہ کی حجت پوری ہوئی لہٰذا تم کو ان عبرتناک سزاؤں سے عبرت حاصل کرنی چاہئے کہ اگر کفر اور شرک خدا کو پسند ہوتا تو ان کو یہ عبرتناک سزائیں دے کر ہلاک نہ کرتا اور خوب سمجھ لو کہ اللہ کو پہلے سے معلوم تھا کہ کون ایمان لائے گا اور کون کفر کرے گا۔ اتمام حجت کے لیے اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں کے ذریعہ اپنی مرضیات اور نامرضیات سے تم کو آگاہ کردیا ہے اور اس حلیم و کریم نے کفر و شرک پر فورا نہیں پکڑا۔ جب جرم کا پیمانہ لبریز ہوگیا تو عذاب سے تباہ اور ہلاک کردیا لہٰذا تم کو خدا کی مہلت سے یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ یہ بات خدا کے نزدیک پسندیدہ ہے۔ اور خدا تعالیٰ اس سے راضی اور خوش ہیں۔ مجرم کا اپنے جرم کے جواز اور استحسان ثابت کرنے کے لیے یہ کہنا کہ حکومت نے مجھ کو فورا کیوں نہیں پکڑا۔ ماہر قانون کی نظر میں اس قسم کا عذر دیوانہ کی بڑ ہے۔ قانون دان یہی کہے گا کہ جب حکومت نے یہ قانون بنا دیا اور اس کا اعلان بھی کردیا کہ فلاں چیز قانونا جرم ہے تو اب اگر حکومت پر بنائے شفقت یا بربنائے مصلحت کسی مجرم کو فورا نہ پکڑے اور اس کو کچھ مہلت دے تو حکومت کا کسی مجرم کو فورا نہ پکڑنا اور اس کی مہلت دینا یہ اس جرم کے جواز کی دلیل نہیں بن سکتا۔ اور چونکہ آنحضرت ﷺ رحمۃ للعالمین تھے اس لیے آپ ﷺ یہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح یہ لوگ اسلام قبول کرلیں اور عذاب الٰہی سے بچ جائیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی تسلی کے لیے ارشاد فرمایا ان تحرص علی ھدھم یعنی آپ ﷺ ان بدبختوں کے ایمان لانے کی حرص اور طمع میں نہ پڑئیے کیونکہ جو شخص دیدہ و دانستہ باختیار خود گمراہی کو اختیار کرے اللہ ایسے ماند کو ہدایت اور توفیق سے نہیں نوازتا۔ ان کا عناد اس بات کی علامت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی ہدایت کا ارادہ نہیں فرمایا چناچہ فرماتے ہیں۔ اور مشرکین نے یہ کہا کہ اگر اللہ چاہتا تو ہم اس کے سوا کسی چیز کو نہ پوجتے نہ ہم اور نہ ہمارے آباؤ اجداد اور نہ ہم اس کے حکم کے بغیر کسی چیز کو حرام قرار دیتے خدا تعالیٰ تو ہر امر پر قادر ہے کوئی اس کے ارادہ اور مشیت کو روک نہیں سکتا جو وہ چاہتا ہے اگر خدا ہم سے شرک چھڑانا چاہتا تو ہم کبھی شرک نہ کرتے اور نہ بحیرہ اور سائبہ اور وصیلہ کو حرام ٹھہراتے مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ ہمارے ان افعال سے ناخوش ہوتا تو ہم کو اس کام کے کرنے کی قدرت ہی نہ دیتا۔ اور زجاج (رح) یہ کہتے ہیں کہ ” مشرکین کا یہ کلام بطور استہزاء اور تمسخر تھا اور اگر بطور اعتقاد ہوتا تو مومن ہوجاتے ان کا مقصود آنحضرت ﷺ کے ساتھ استہزاء کرنا تھا اور مطلب یہ تھا کہ خدا کو نبی بھیجنے کی کیا ضرورت ہے اگر خدا ہم سے شرک چھڑانا چاہتا تو ہم کبھی شرک نہ کرتے۔ خواہ تو آتا یا نہ آتا اب جب ہم تیرے خیال میں کفر کر رہے ہیں تو اس سے معلوم ہوا کہ خدا کو ہم سے کفر کرانا ہی منظور تھا “۔ بعض علماء نے زجاج (رح) کے قول کو اختیار کیا اور اس تفسیر پر یہ آیت گزشتہ آیت وحاق بھم ما کانوا بہ یستھزؤن کے ساتھ غایت درجہ مربوط ہوجائے گی۔ مگر راجح اور صحیح بات وہی ہے جو اول مذکور ہوئی کہ اس قول سے مشرکین کا اصلی مقصود اپنے کفر و شرک کا جواز اور استحسان ثابت کرنا تھا نہ کہ استہزاء و تمسخر۔ حق جل شانہ ان کے اس جاہلانہ اور معاندانہ سوال با استدلال کے جواب میں فرماتے ہیں کہ یہ کوئی ان کی نئی بات نہیں بلکہ ان سے پہلے جتنے مشرک گزرے ہیں۔ انہوں نے بھی انبیاء کرام (علیہ السلام) کی تکذیب کے لیے اسی قسم کا حیلہ بہانہ اور یہی مہمل شبہ کیا تھا اور اسی طرح انہوں نے بھی رسولوں کا مقابلہ کیا اور ہلاک ہوئے پس اس سے رسولوں کا کیا بگڑ گیا۔ رسولوں پر تو صرف اس قدر فرض ہے کہ صاف صاف حکم اللہ کا پہنچا دیں۔ ماننا نہ ماننا لوگوں کا اختیار ہے۔ انبیاء کا کام تو پہنچا دینا ہے باقی ہدایت دینا یہ اللہ کا کام ہے وہ مالک ہے جس کو چاہے گمراہ کرے اس کو اختیار ہے کہ جس کو چاہے بینا بنائے اور جس کو چاہے نابینا بنائے بعثت کا فریضہ صرف دعوت الی الحو ہے باقی سعادت و شقاوت اور ہدایت و ضلالت وہ سب اللہ کے اختیار میں ہے اس میں کسی نبی اور ولی کو دخل نہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے وقت سے لے کر خاتم الانبیاء ﷺ کے زمانہ تک تمام انبیاء ومرسلین نے بالاتفاق سختی کے ساتھ سڑک سے منع کیا اور بتلا دیا کہ جو ایمان لائے گا وہ نجات پائے گا اور جو کفر کریگا وہ ہلاک ہوگا اور برباد ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو خیر و شر کرنے کی قدرت دی اور انبیاء کے ذریعے یہ بتلا دیا کہ یہ چیز خیر ہے اور یہ چیز شر ہے پھر جس نے شرک کا ارتکاب کیا وہ عذاب الٰہی سے ہلاک ہوا معلوم ہوا کہ یہ چیز اللہ کے نزدیک ناپسندیدہ ہے۔ ابتداء میں انبیاء کرام (علیہ السلام) نے آگاہ کیا اور کفر و شرک سے منع کیا اور آخر میں اس کے ارتکاب پر قہر الٰہی نازل ہوا جس کے آثار اب بھی زمین میں موجود ہیں پس ثابت ہوا کہ یہ چیز اللہ کے نزدیک قطعا ناپسندیدہ ہے کفار اور مشرکین کو عبرت ناک سزائیں دینا۔ یہ اس امر کی واضح دلیل ہے کہ کفر اور شرک کے نزدیک جرم عظیم ہیں۔ پسندیدہ چیز کے نجالانے پر تو عذاب نازل نہیں ہوتا۔ حضرت شاہ عبد القادر قدس اللہ سرہ لکھتے ہیں کہ یہ نادانوں کی باتیں ہیں کہ اللہ کو یہ کام برا لگتا تو کیوں کرنے دیتا آخر ہر فرقے کے نزدیک بعض کام برے ہیں پھر وہ کیوں ہوتے ہیں (کیا ان کے نزدیک خدا تعالیٰ ان کے روکنے سے عاجز تھا) دنیا میں اعمال اور افعال مختلف ہو رہے ہیں پس کیا یہ مختلف اور متضاد کام اللہ کے نزدیک پسندیدہ ہیں اور سب اس کی مرضی سے ہو رہے ہیں یہاں حق تعالیٰ نے مجمل جواب فرمایا کہ ہمیشہ رسول منع کرتے آئے ہیں جن کی قسمت میں ہدایت تھی انہوں نے ہدایت پائی اور جو خراب ہونا تھا وہ خراب ہوا اللہ کو یہی منظور ہے۔ (انتہی) ۔ انسان کو فی الجملہ ایسی قدرت اور ایسا اختیار دے دیا گیا کہ جو خیر و شر دونوں کے کرنے پر قادر ہو اینٹ اور پتھر کی طرح مجبور نہ ہو مگر اس کے علم ازلی میں یہ مقدر ہوچکا ہے کہ بعض ایمان لائیں گے اور بعض کفر پر قائم رہیں گے اتمام حجت کے لیے اللہ نے پیغمبروں کو بھیجا کہ وہ تم کو آگاہ کردیں کہ کفر اور شرک صریح گمراہی وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا غرض یہ کہ انبیاء و رسل کا تبلیغ اور دعوت سے اور پھر کافروں اور مشرکوں پر قہر الٰہی کے نزول سے یہ واضح ہوگیا کہ کفر و شرک خدا کے نزدیک جرم عظیم ہیں اور البتہ تحقیق ہم نے محمد رسول اللہ ﷺ کی طرح ہر امت میں ایک رسول بھیجا اس صریح حکم کے ساتھ کہ ایک اللہ کی عبادت کرو اور شیطان کے راستے سے یعنی کفر و شرک سے بچو مطلب یہ ہے کہ توحید کی دعوت کوئی نئی دعوت نہیں قدیم سے یہی تعلیم چلی آرہی ہے سارے پیغمبر یہی کہتے رہے کہ خالص اللہ کی عبادت کرو اور غیر اللہ سے بچو۔ انبیاء (علیہ السلام) نے تو اللہ کا پیغام پہنچا دیا لیکن لوگ مختلف اور متفرق ہوگئے کسی نے مانا اور کسی نے نہ مانا چناچہ فرماتے ہیں۔ پھر ان ائم میں سے جن کے پاس گئے کسی کو اللہ نے ہدایت دی کہ اس نے حق قبول کیا اور کسی پر یہ قضائے الٰہی گمراہی ثابت ہوئی یعنی گمراہی اس کو ایسی چمٹی کہ مرتے دم تک اس کا پیچھا نہ چھوڑا جیسا کہ دوسری آیت فریقا ھدی وفریقا حق علیہم الضلالۃ ایک گروہ کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی اور ایک گروہ پر گمراہی ثابت اور قائم ہوئی اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ کا حکم اور اس کی رضا مندی اور شئی ہے اور اس کا ارادہ اور مشیت اور شق ہے۔ دونوں میں بڑا فرق ہے۔ اللہ کا حکم تو یہ ہے کہ سب اس کی عبادت کریں اور کفر و شرک سے بچیں اور یہ حکم عام ہے اور سب کے لیے ہے مگر اس کا ارادہ اور مشیت یہ ہے کہ بعض کو ہدایت دے اور بعض کو گمراہ کرے در کار خانہ عشق از کفر ناگزیر است دوزخ کرا بسوزدگر بو لہب نباشد اگر وہ سب کی ہدایت چاہتا تو سب ہدایت پر ہوجاتے کما قال تعالیٰ ولوشاء لھداکم اجمعین۔ یعنی اگر اللہ چاہتا تو سب کو ہی ہدایت دیتا لیکن اللہ کا یہ ارادہ اور یہ مشیت کہ بعض ایمان لائیں اور بعض کفر کریں۔ یہ اس کی تقدیر ازلی ہے اس کا علم سوائے حق تعالیٰ کے کسی کو نہیں اس نے اپنی تقدیر ازلی کو پوشیدہ رکھا اور اپنے حکم کو پیغمبروں کی زبانی ظاہر فرما دیا اور بندوں کو آگاہ کردیا کہ سب اس کی عبادت کریں بندوں کو چاہئے کہ اس کے حکم کی تعمیل کریں اور اس کی مشیت اور اس کی تقدیر پر ازلی میں نہ پڑیں وہ ایک سر مکتوم ہے جس کا سوائے حق تعالیٰ کے کسی کو علم نہیں۔ مشرکین کے اس شبہ کا منشا یہ تھا کہ انہوں نے مشیت خداوندی اور رضائے خداوندی میں فرق نہ کیا اللہ نے جواب میں فرق کی طرف اشارہ فرما دیا۔ خلاصہ جواب یہ ہے کہ بیشک ہر چیز اللہ کی مشیت سے ہے مگر اس کی مشیت اور چیز ہے۔ اور اس کا حکم اور رضا مندی اور چیز ہے۔ اللہ ہر کام سے راضی نہیں انبیاء کرام (علیہ السلام) کے ذریعے اس نے اپنے احکام اور مرضیات سے تم کو باخبر کردیا اور اپنی رضا مندی کو تم پر ظاہر کردیا اور اپنے ارادہ اور مشیت کو تم سے پوشیدہ رکھا۔ پس تم ملک میں پھرو، پھر دیکھو کہ تکذیب کرنے والوں اور انبیاء (علیہ السلام) کے جھٹلانے کا انجام کیا ہوا اگر خدا کے نزدیک کفر و شرک اور انبیاء کی تکذیب کرنے والوں اور انبیاء (علیہ السلام) کے جھٹلانے کا انجام کیا ہوا اگر خدا کے نزدیک کفر و شرک اور انبیاء کی تکذیب پسندیدہ ہوتی تو گزشتہ قومیں اس ذلت اور رسوائی کے ساتھ تباہ نہ ہوتیں اور مشرکین اور مکذبین کا عذاب الٰہی سے مسلسل اس طرح تباہ و برباد ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ یہ واقعات اتفاقی نہ تھے بلکہ ان کی تکذیب اور کفر کی سزا تھی جو انبیاء کرام کی پیشن گوئی کے بعد پیش آئے جس سے کفار ہلاک ہوئے اور اہل ایمان عذاب سے محفوظ رہے عذاب ایک ہے مگر بحکم خداوندی کافروں کو تہ وبالا کر رہا ہے اور مومنین سے کنارہ کشی کر رہا ہے پس کفار اور مشرکین پر اس طرح مسلسل قہر خداوندی کا نزول اس امر کی دلیل ہے کہ کفر اور شرک خدا تعالیٰ کے نزدیک غایت درجہ مبغوض ہے اور ابتہا درجہ کا جرم ہے زمانہ حال کے مشرکین کو چاہئے کہ گزشتہ زمانے کے مشرکین کی عبرتناک سزاؤں کے آثار دیکھ کر عبرت پکڑیں اور خدا کے ارادہ اور مشیت کو بہانہ نہ بنائیں بیشک عالم میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب اسی کی مشیت اور ارادہ سے ہو رہا ہے عالم کا کوئی ذرہ بغیر اس کے ارادہ اور مشیت کے حرکت نہیں کرسکتا لیکن کسی چور اور قزاق کو اپنی چوری کے جواز کے لیے یہ کہنا کہ اگر خدا چاہتا تو میں چوری نہ کرتا اس سے اس کے جرم میں مزید اضافہ ہوجائے گا اور چور کا یہ عذر جرم بالائے جرم متصور ہوگا۔ اور چونکہ آنحضرت ﷺ کو ان کی گمراہی سے غایت درجہ رنج و غم ہوتا تھا اس لیے آئندہ آیت میں آنحضرت ﷺ کی تسلی فرماتے ہیں۔ اے نبی ! اگر آپ ﷺ ان کی ہدایت پر حریص ہیں۔ اور آپ ﷺ کی دلی تمنا یہ ہے کہ یہ گمراہی سے نکل کر راہ راست پر آجائیں تاکہ دوزخ میں نہ جائیں۔ اس امید سے آپ ﷺ اپنے دل کو خالی کر دیجئے۔ تحقیق اللہ اس کو ہدایت نہیں دیتا جس کو علم ازلی میں گمراہ کرنے کا ارادہ فرماتا ہے۔ اللہ کا سابق ارادہ ازلی اور قدیم ہے وہ کسی حادث کو روکنے سے رک نہیں سکتا۔ لہٰذا آپ ﷺ کی یہ حرص اور طمع ان کی ہدایت کے بارے میں بےفائدہ اور بےنتیجہ ہے ان کا کوئی مددگار نہیں کہ جو ان کو اللہ کی مشیت سے بچا سکے مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کو ان سرکشوں کی ہدایت منظور نہیں یہ کسی طرح ہدایت پر نہیں آئیں گے۔ آپ ﷺ ان کی فکر میں نہ پڑیں اور تنگ دل نہ ہوں۔ ازلی گمراہ کو کون ہدایت پر لاسکتا ہے جس پر اللہ کی گمراہی ثابت ہوچکی ہے اس کی ہدایت کی حوص میں نہ پڑیں۔ شروع آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتلا دیا کہ اللہ نے ہر امت میں جو رسول بھیجا اس نے اللہ کے تمام بندوں کو ایمان کی دعوت دی اور کفر و شرک سے سب کو منع کیا اب ان اخیر آیات میں یہ بتلایا اللہ تعالیٰ نے کسی حکمت اور مصلحت کی بناء پر سب بندوں کی ہدایت کا ارادہ نہیں فرمایا ہدایت اور توفیق اس کا عطیہ ہے۔ اس کو اختیار ہے جس کو چاہے اپنی عطا سے نوازے اور جس کو چاہے نہ نوازے اس کے ذمہ کسی کا قرض نہیں۔ واللہ یختص برحمتہ۔ خلاصہ کلام یہ کہ پیغمبروں کے ذمے اللہ تعالیٰ کے احکامات پہنچا دینا ہے سو انبیاء کرام (علیہ السلام) نے یہ بتلا دیا کہ تکوینی طور پر اسکی بارگاہ لم یزل ولا یزال میں یہ طے ہوچکا ہے کہ سب ایمان نہیں لائیں گے۔ مگر تشریعی طور پر انبیاء کرام (علیہ السلام) کی زبانی یہ بتلا دیا کہ حکم خداوندی یہ ہے کہ کفر اور شرک سراسر گمراہی ہے اور سم قاتل اور ایمان اور اطاعت سراسر ہدایت ہے اور تریاق ہے اور عالم میں جو کچھ بھی ہے اور جو ہو رہا ہے وہ سب اس کے ارادے اور مشیت کے دائرہ سے باہر نہیں۔ ہدایت اور ضلالت اور سعادت و شقاوت ازل میں جاری ہوچکی ہے۔ ان میں تبدیل و تحویل کی گنجائش نہیں۔ عطر اور گلاب (ایمان و اطاعت) تمہارے سامنے ہے اور پاخانہ اور پیشاب (کفر و شرک) بھی تمہارے سامنے ہے اگر کوئی دیوانہ نجائے عرق گلاب کے پیشاب پینے لگے اور دلیل یہ بیان کرے کہ ہر چیز اللہ کی مخلوق ہے اور میرا ہر کام اللہ کی مشیت اور ارادہ سے ہے لہٰذا پیشاب پینا جائز ہے تو یہ دلیل نہیں بلکہ دیوانہ کی بڑ ہے۔ (اطلاع) اسی قسم کی آیت پارہ ہشتم میں گزر چکی ہے وہاں اس کی مفصل تفسیر آچکی ہے وہاں دیکھ لی جائے۔
Top