Maarif-ul-Quran - Al-Qasas : 3
وَ قَالَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا عَبَدْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ نَّحْنُ وَ لَاۤ اٰبَآؤُنَا وَ لَا حَرَّمْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ١ؕ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ۚ فَهَلْ عَلَى الرُّسُلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ
وَقَالَ : اور کہا الَّذِيْنَ : وہ لوگ جو اَشْرَكُوْا : انہوں نے شرک کیا لَوْ : اگر شَآءَ اللّٰهُ : چاہتا اللہ مَا : نہ عَبَدْنَا : ہم پرستش کرتے مِنْ دُوْنِهٖ : اس کے سوائے مِنْ شَيْءٍ : کوئی۔ کسی شے نَّحْنُ : ہم وَلَآ : اور نہ اٰبَآؤُنَا : ہمارے باپ دادا وَلَا حَرَّمْنَا : اور نہ حرام ٹھہراتے ہم مِنْ دُوْنِهٖ : اس کے (حکم کے) سوا مِنْ شَيْءٍ : کوئی شے كَذٰلِكَ : اسی طرح فَعَلَ : کیا الَّذِيْنَ : وہ لوگ جو مِنْ قَبْلِهِمْ : ان سے پہلے فَهَلْ : پس کیا عَلَي : پر (ذمے) الرُّسُلِ : رسول (جمع) اِلَّا : مگر الْبَلٰغُ : پہنچا دینا الْمُبِيْنُ : صاف صاف
اور مشرک کہتے ہیں کہ اگر خدا چاہتا تو نہ ہم ہی اس کے سوا کسی چیز کو پوجتے اور نہ ہمارے بڑے ہی (پوجتے) اور نہ اس کے (فرمان کے) بغیر ہم کسی چیز کو حرام ٹھراتے۔ (اے پیغمبر) اسی طرح ان سے اگلے لوگوں نے کیا تھا۔ تو پیغمبروں کے ذمے (خدا کے احکام کو) کھول کر پہنچا دینے کے سوا اور کچھ نہیں۔
تیسرا شبہ قال اللہ تعالیٰ : وقال الذین اشرکوا لوشاء اللہ ما عبدنا من دونہ من شیء ... الیٰ .... وما لہم من نصرین (ربط) اس آیت میں مشرکین کے تیسرے شبہ کا ذکر ہے جس کو وہ اپنے اعمال شرکیہ و کفریہ کا جواز اور استحسان ثابت کرنے کے لیے پیش کرتے تھے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کو ہمارا کفر اور شرک اور ہمارے شرکیہ مثلا بحیرہ و سائبہ وغیرہ ناپسند ہوتے تو ہم کو کرنے ہی کیوں دیتا۔ اگر خدا تعالیٰ کو ہماری یہ باتیں ناپسند ہوتیں تو وہ ہمیں ایسی باتیں کرنے سے روک دیتا اور اگر ہم نہ رکتے تو ہم کو فوراً سزا دیتا معلوم ہوا کہ خدا ہمارے اس کفر و شرک سے راضی اور خوش ہے اور باالفاظ دیگر ہم مجبور اور معذور ہیں خدا کے ارادہ اور مشیت کے خلاف نہیں کرسکتے۔ اس آیت میں مشرکین کے اس شبہ کا جواب دیتے ہیں حاصل جواب یہ ہے کہ یہ جہالت کی باتیں ہیں اگلے کافر بھی اپنے رسولوں کے مقابلہ میں اس قسم کی باتیں کیا کرتے تھے یعنی اپنے آپ کو بالکل مجبور محض بتاتے تھے یہ بالکل غلط ہے اللہ تعالیٰ نے انسان کو مجبور محض نہیں بنایا۔ بلکہ حق اور باطل کے سمجھنے کے لیے عقل عطا فرمائی اور پھر اس کو عمل کی قدرت بھی دی کہ اپنے اختیار سے خیرو شر کرسکے اور ہر گروہ میں اللہ تعالیٰ نے رہبری اور راہنمائی کے لیے رسول بھیجے جو بالاتفاق شرک اور بت پرستی اور برے کاموں سے منع کرتے رہے اور صاف یہ اعلان کرتے رہے کہ یہ کام خدا کے نزدیک ناپسندیدہ ہے انبیاء (علیہ السلام) کا کام تبلیغ تھا سو انہوں نے اللہ تعالیٰ کے احکام کو بندوں تک پہنچا دیا۔ اس کے بعد جس نے انبیاء (علیہ السلام) کا کہنا نہ مانا اس کو سزا ملی اس طرح ان پر اللہ کی حجت پوری ہوئی لہٰذا تم کو ان عبرتناک سزاؤں سے عبرت حاصل کرنی چاہئے کہ اگر کفر اور شرک خدا کو پسند ہوتا تو ان کو یہ عبرتناک سزائیں دے کر ہلاک نہ کرتا اور خوب سمجھ لو کہ اللہ کو پہلے سے معلوم تھا کہ کون ایمان لائے گا اور کون کفر کرے گا۔ اتمام حجت کے لیے اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں کے ذریعہ اپنی مرضیات اور نامرضیات سے تم کو آگاہ کردیا ہے اور اس حلیم و کریم نے کفر و شرک پر فورا نہیں پکڑا۔ جب جرم کا پیمانہ لبریز ہوگیا تو عذاب سے تباہ اور ہلاک کردیا لہٰذا تم کو خدا کی مہلت سے یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ یہ بات خدا کے نزدیک پسندیدہ ہے۔ اور خدا تعالیٰ اس سے راضی اور خوش ہیں۔ مجرم کا اپنے جرم کے جواز اور استحسان ثابت کرنے کے لیے یہ کہنا کہ حکومت نے مجھ کو فورا کیوں نہیں پکڑا۔ ماہر قانون کی نظر میں اس قسم کا عذر دیوانہ کی بڑ ہے۔ قانون دان یہی کہے گا کہ جب حکومت نے یہ قانون بنا دیا اور اس کا اعلان بھی کردیا کہ فلاں چیز قانونا جرم ہے تو اب اگر حکومت پر بنائے شفقت یا بربنائے مصلحت کسی مجرم کو فورا نہ پکڑے اور اس کو کچھ مہلت دے تو حکومت کا کسی مجرم کو فورا نہ پکڑنا اور اس کی مہلت دینا یہ اس جرم کے جواز کی دلیل نہیں بن سکتا۔ اور چونکہ آنحضرت ﷺ رحمۃ للعالمین تھے اس لیے آپ ﷺ یہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح یہ لوگ اسلام قبول کرلیں اور عذاب الٰہی سے بچ جائیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی تسلی کے لیے ارشاد فرمایا ان تحرص علی ھدھم یعنی آپ ﷺ ان بدبختوں کے ایمان لانے کی حرص اور طمع میں نہ پڑئیے کیونکہ جو شخص دیدہ و دانستہ باختیار خود گمراہی کو اختیار کرے اللہ ایسے ماند کو ہدایت اور توفیق سے نہیں نوازتا۔ ان کا عناد اس بات کی علامت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی ہدایت کا ارادہ نہیں فرمایا چناچہ فرماتے ہیں۔ اور مشرکین نے یہ کہا کہ اگر اللہ چاہتا تو ہم اس کے سوا کسی چیز کو نہ پوجتے نہ ہم اور نہ ہمارے آباؤ اجداد اور نہ ہم اس کے حکم کے بغیر کسی چیز کو حرام قرار دیتے خدا تعالیٰ تو ہر امر پر قادر ہے کوئی اس کے ارادہ اور مشیت کو روک نہیں سکتا جو وہ چاہتا ہے اگر خدا ہم سے شرک چھڑانا چاہتا تو ہم کبھی شرک نہ کرتے اور نہ بحیرہ اور سائبہ اور وصیلہ کو حرام ٹھہراتے مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ ہمارے ان افعال سے ناخوش ہوتا تو ہم کو اس کام کے کرنے کی قدرت ہی نہ دیتا۔ اور زجاج (رح) یہ کہتے ہیں کہ ” مشرکین کا یہ کلام بطور استہزاء اور تمسخر تھا اور اگر بطور اعتقاد ہوتا تو مومن ہوجاتے ان کا مقصود آنحضرت ﷺ کے ساتھ استہزاء کرنا تھا اور مطلب یہ تھا کہ خدا کو نبی بھیجنے کی کیا ضرورت ہے اگر خدا ہم سے شرک چھڑانا چاہتا تو ہم کبھی شرک نہ کرتے۔ خواہ تو آتا یا نہ آتا اب جب ہم تیرے خیال میں کفر کر رہے ہیں تو اس سے معلوم ہوا کہ خدا کو ہم سے کفر کرانا ہی منظور تھا “۔ بعض علماء نے زجاج (رح) کے قول کو اختیار کیا اور اس تفسیر پر یہ آیت گزشتہ آیت وحاق بھم ما کانوا بہ یستھزؤن کے ساتھ غایت درجہ مربوط ہوجائے گی۔ مگر راجح اور صحیح بات وہی ہے جو اول مذکور ہوئی کہ اس قول سے مشرکین کا اصلی مقصود اپنے کفر و شرک کا جواز اور استحسان ثابت کرنا تھا نہ کہ استہزاء و تمسخر۔ حق جل شانہ ان کے اس جاہلانہ اور معاندانہ سوال با استدلال کے جواب میں فرماتے ہیں کہ یہ کوئی ان کی نئی بات نہیں بلکہ ان سے پہلے جتنے مشرک گزرے ہیں۔ انہوں نے بھی انبیاء کرام (علیہ السلام) کی تکذیب کے لیے اسی قسم کا حیلہ بہانہ اور یہی مہمل شبہ کیا تھا اور اسی طرح انہوں نے بھی رسولوں کا مقابلہ کیا اور ہلاک ہوئے پس اس سے رسولوں کا کیا بگڑ گیا۔ رسولوں پر تو صرف اس قدر فرض ہے کہ صاف صاف حکم اللہ کا پہنچا دیں۔ ماننا نہ ماننا لوگوں کا اختیار ہے۔ انبیاء کا کام تو پہنچا دینا ہے باقی ہدایت دینا یہ اللہ کا کام ہے وہ مالک ہے جس کو چاہے گمراہ کرے اس کو اختیار ہے کہ جس کو چاہے بینا بنائے اور جس کو چاہے نابینا بنائے بعثت کا فریضہ صرف دعوت الی الحو ہے باقی سعادت و شقاوت اور ہدایت و ضلالت وہ سب اللہ کے اختیار میں ہے اس میں کسی نبی اور ولی کو دخل نہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے وقت سے لے کر خاتم الانبیاء ﷺ کے زمانہ تک تمام انبیاء ومرسلین نے بالاتفاق سختی کے ساتھ سڑک سے منع کیا اور بتلا دیا کہ جو ایمان لائے گا وہ نجات پائے گا اور جو کفر کریگا وہ ہلاک ہوگا اور برباد ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو خیر و شر کرنے کی قدرت دی اور انبیاء کے ذریعے یہ بتلا دیا کہ یہ چیز خیر ہے اور یہ چیز شر ہے پھر جس نے شرک کا ارتکاب کیا وہ عذاب الٰہی سے ہلاک ہوا معلوم ہوا کہ یہ چیز اللہ کے نزدیک ناپسندیدہ ہے۔ ابتداء میں انبیاء کرام (علیہ السلام) نے آگاہ کیا اور کفر و شرک سے منع کیا اور آخر میں اس کے ارتکاب پر قہر الٰہی نازل ہوا جس کے آثار اب بھی زمین میں موجود ہیں پس ثابت ہوا کہ یہ چیز اللہ کے نزدیک قطعا ناپسندیدہ ہے کفار اور مشرکین کو عبرت ناک سزائیں دینا۔ یہ اس امر کی واضح دلیل ہے کہ کفر اور شرک کے نزدیک جرم عظیم ہیں۔ پسندیدہ چیز کے نجالانے پر تو عذاب نازل نہیں ہوتا۔ حضرت شاہ عبد القادر قدس اللہ سرہ لکھتے ہیں کہ یہ نادانوں کی باتیں ہیں کہ اللہ کو یہ کام برا لگتا تو کیوں کرنے دیتا آخر ہر فرقے کے نزدیک بعض کام برے ہیں پھر وہ کیوں ہوتے ہیں (کیا ان کے نزدیک خدا تعالیٰ ان کے روکنے سے عاجز تھا) دنیا میں اعمال اور افعال مختلف ہو رہے ہیں پس کیا یہ مختلف اور متضاد کام اللہ کے نزدیک پسندیدہ ہیں اور سب اس کی مرضی سے ہو رہے ہیں یہاں حق تعالیٰ نے مجمل جواب فرمایا کہ ہمیشہ رسول منع کرتے آئے ہیں جن کی قسمت میں ہدایت تھی انہوں نے ہدایت پائی اور جو خراب ہونا تھا وہ خراب ہوا اللہ کو یہی منظور ہے۔ (انتہی) ۔ انسان کو فی الجملہ ایسی قدرت اور ایسا اختیار دے دیا گیا کہ جو خیر و شر دونوں کے کرنے پر قادر ہو اینٹ اور پتھر کی طرح مجبور نہ ہو مگر اس کے علم ازلی میں یہ مقدر ہوچکا ہے کہ بعض ایمان لائیں گے اور بعض کفر پر قائم رہیں گے اتمام حجت کے لیے اللہ نے پیغمبروں کو بھیجا کہ وہ تم کو آگاہ کردیں کہ کفر اور شرک صریح گمراہی وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا غرض یہ کہ انبیاء و رسل کا تبلیغ اور دعوت سے اور پھر کافروں اور مشرکوں پر قہر الٰہی کے نزول سے یہ واضح ہوگیا کہ کفر و شرک خدا کے نزدیک جرم عظیم ہیں اور البتہ تحقیق ہم نے محمد رسول اللہ ﷺ کی طرح ہر امت میں ایک رسول بھیجا اس صریح حکم کے ساتھ کہ ایک اللہ کی عبادت کرو اور شیطان کے راستے سے یعنی کفر و شرک سے بچو مطلب یہ ہے کہ توحید کی دعوت کوئی نئی دعوت نہیں قدیم سے یہی تعلیم چلی آرہی ہے سارے پیغمبر یہی کہتے رہے کہ خالص اللہ کی عبادت کرو اور غیر اللہ سے بچو۔ انبیاء (علیہ السلام) نے تو اللہ کا پیغام پہنچا دیا لیکن لوگ مختلف اور متفرق ہوگئے کسی نے مانا اور کسی نے نہ مانا چناچہ فرماتے ہیں۔ پھر ان ائم میں سے جن کے پاس گئے کسی کو اللہ نے ہدایت دی کہ اس نے حق قبول کیا اور کسی پر یہ قضائے الٰہی گمراہی ثابت ہوئی یعنی گمراہی اس کو ایسی چمٹی کہ مرتے دم تک اس کا پیچھا نہ چھوڑا جیسا کہ دوسری آیت فریقا ھدی وفریقا حق علیہم الضلالۃ ایک گروہ کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی اور ایک گروہ پر گمراہی ثابت اور قائم ہوئی اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ کا حکم اور اس کی رضا مندی اور شئی ہے اور اس کا ارادہ اور مشیت اور شق ہے۔ دونوں میں بڑا فرق ہے۔ اللہ کا حکم تو یہ ہے کہ سب اس کی عبادت کریں اور کفر و شرک سے بچیں اور یہ حکم عام ہے اور سب کے لیے ہے مگر اس کا ارادہ اور مشیت یہ ہے کہ بعض کو ہدایت دے اور بعض کو گمراہ کرے در کار خانہ عشق از کفر ناگزیر است دوزخ کرا بسوزدگر بو لہب نباشد اگر وہ سب کی ہدایت چاہتا تو سب ہدایت پر ہوجاتے کما قال تعالیٰ ولوشاء لھداکم اجمعین۔ یعنی اگر اللہ چاہتا تو سب کو ہی ہدایت دیتا لیکن اللہ کا یہ ارادہ اور یہ مشیت کہ بعض ایمان لائیں اور بعض کفر کریں۔ یہ اس کی تقدیر ازلی ہے اس کا علم سوائے حق تعالیٰ کے کسی کو نہیں اس نے اپنی تقدیر ازلی کو پوشیدہ رکھا اور اپنے حکم کو پیغمبروں کی زبانی ظاہر فرما دیا اور بندوں کو آگاہ کردیا کہ سب اس کی عبادت کریں بندوں کو چاہئے کہ اس کے حکم کی تعمیل کریں اور اس کی مشیت اور اس کی تقدیر پر ازلی میں نہ پڑیں وہ ایک سر مکتوم ہے جس کا سوائے حق تعالیٰ کے کسی کو علم نہیں۔ مشرکین کے اس شبہ کا منشا یہ تھا کہ انہوں نے مشیت خداوندی اور رضائے خداوندی میں فرق نہ کیا اللہ نے جواب میں فرق کی طرف اشارہ فرما دیا۔ خلاصہ جواب یہ ہے کہ بیشک ہر چیز اللہ کی مشیت سے ہے مگر اس کی مشیت اور چیز ہے۔ اور اس کا حکم اور رضا مندی اور چیز ہے۔ اللہ ہر کام سے راضی نہیں انبیاء کرام (علیہ السلام) کے ذریعے اس نے اپنے احکام اور مرضیات سے تم کو باخبر کردیا اور اپنی رضا مندی کو تم پر ظاہر کردیا اور اپنے ارادہ اور مشیت کو تم سے پوشیدہ رکھا۔ پس تم ملک میں پھرو، پھر دیکھو کہ تکذیب کرنے والوں اور انبیاء (علیہ السلام) کے جھٹلانے کا انجام کیا ہوا اگر خدا کے نزدیک کفر و شرک اور انبیاء کی تکذیب کرنے والوں اور انبیاء (علیہ السلام) کے جھٹلانے کا انجام کیا ہوا اگر خدا کے نزدیک کفر و شرک اور انبیاء کی تکذیب پسندیدہ ہوتی تو گزشتہ قومیں اس ذلت اور رسوائی کے ساتھ تباہ نہ ہوتیں اور مشرکین اور مکذبین کا عذاب الٰہی سے مسلسل اس طرح تباہ و برباد ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ یہ واقعات اتفاقی نہ تھے بلکہ ان کی تکذیب اور کفر کی سزا تھی جو انبیاء کرام کی پیشن گوئی کے بعد پیش آئے جس سے کفار ہلاک ہوئے اور اہل ایمان عذاب سے محفوظ رہے عذاب ایک ہے مگر بحکم خداوندی کافروں کو تہ وبالا کر رہا ہے اور مومنین سے کنارہ کشی کر رہا ہے پس کفار اور مشرکین پر اس طرح مسلسل قہر خداوندی کا نزول اس امر کی دلیل ہے کہ کفر اور شرک خدا تعالیٰ کے نزدیک غایت درجہ مبغوض ہے اور ابتہا درجہ کا جرم ہے زمانہ حال کے مشرکین کو چاہئے کہ گزشتہ زمانے کے مشرکین کی عبرتناک سزاؤں کے آثار دیکھ کر عبرت پکڑیں اور خدا کے ارادہ اور مشیت کو بہانہ نہ بنائیں بیشک عالم میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب اسی کی مشیت اور ارادہ سے ہو رہا ہے عالم کا کوئی ذرہ بغیر اس کے ارادہ اور مشیت کے حرکت نہیں کرسکتا لیکن کسی چور اور قزاق کو اپنی چوری کے جواز کے لیے یہ کہنا کہ اگر خدا چاہتا تو میں چوری نہ کرتا اس سے اس کے جرم میں مزید اضافہ ہوجائے گا اور چور کا یہ عذر جرم بالائے جرم متصور ہوگا۔ اور چونکہ آنحضرت ﷺ کو ان کی گمراہی سے غایت درجہ رنج و غم ہوتا تھا اس لیے آئندہ آیت میں آنحضرت ﷺ کی تسلی فرماتے ہیں۔ اے نبی ! اگر آپ ﷺ ان کی ہدایت پر حریص ہیں۔ اور آپ ﷺ کی دلی تمنا یہ ہے کہ یہ گمراہی سے نکل کر راہ راست پر آجائیں تاکہ دوزخ میں نہ جائیں۔ اس امید سے آپ ﷺ اپنے دل کو خالی کر دیجئے۔ تحقیق اللہ اس کو ہدایت نہیں دیتا جس کو علم ازلی میں گمراہ کرنے کا ارادہ فرماتا ہے۔ اللہ کا سابق ارادہ ازلی اور قدیم ہے وہ کسی حادث کو روکنے سے رک نہیں سکتا۔ لہٰذا آپ ﷺ کی یہ حرص اور طمع ان کی ہدایت کے بارے میں بےفائدہ اور بےنتیجہ ہے ان کا کوئی مددگار نہیں کہ جو ان کو اللہ کی مشیت سے بچا سکے مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کو ان سرکشوں کی ہدایت منظور نہیں یہ کسی طرح ہدایت پر نہیں آئیں گے۔ آپ ﷺ ان کی فکر میں نہ پڑیں اور تنگ دل نہ ہوں۔ ازلی گمراہ کو کون ہدایت پر لاسکتا ہے جس پر اللہ کی گمراہی ثابت ہوچکی ہے اس کی ہدایت کی حوص میں نہ پڑیں۔ شروع آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتلا دیا کہ اللہ نے ہر امت میں جو رسول بھیجا اس نے اللہ کے تمام بندوں کو ایمان کی دعوت دی اور کفر و شرک سے سب کو منع کیا اب ان اخیر آیات میں یہ بتلایا اللہ تعالیٰ نے کسی حکمت اور مصلحت کی بناء پر سب بندوں کی ہدایت کا ارادہ نہیں فرمایا ہدایت اور توفیق اس کا عطیہ ہے۔ اس کو اختیار ہے جس کو چاہے اپنی عطا سے نوازے اور جس کو چاہے نہ نوازے اس کے ذمہ کسی کا قرض نہیں۔ واللہ یختص برحمتہ۔ خلاصہ کلام یہ کہ پیغمبروں کے ذمے اللہ تعالیٰ کے احکامات پہنچا دینا ہے سو انبیاء کرام (علیہ السلام) نے یہ بتلا دیا کہ تکوینی طور پر اسکی بارگاہ لم یزل ولا یزال میں یہ طے ہوچکا ہے کہ سب ایمان نہیں لائیں گے۔ مگر تشریعی طور پر انبیاء کرام (علیہ السلام) کی زبانی یہ بتلا دیا کہ حکم خداوندی یہ ہے کہ کفر اور شرک سراسر گمراہی ہے اور سم قاتل اور ایمان اور اطاعت سراسر ہدایت ہے اور تریاق ہے اور عالم میں جو کچھ بھی ہے اور جو ہو رہا ہے وہ سب اس کے ارادے اور مشیت کے دائرہ سے باہر نہیں۔ ہدایت اور ضلالت اور سعادت و شقاوت ازل میں جاری ہوچکی ہے۔ ان میں تبدیل و تحویل کی گنجائش نہیں۔ عطر اور گلاب (ایمان و اطاعت) تمہارے سامنے ہے اور پاخانہ اور پیشاب (کفر و شرک) بھی تمہارے سامنے ہے اگر کوئی دیوانہ نجائے عرق گلاب کے پیشاب پینے لگے اور دلیل یہ بیان کرے کہ ہر چیز اللہ کی مخلوق ہے اور میرا ہر کام اللہ کی مشیت اور ارادہ سے ہے لہٰذا پیشاب پینا جائز ہے تو یہ دلیل نہیں بلکہ دیوانہ کی بڑ ہے۔ (اطلاع) اسی قسم کی آیت پارہ ہشتم میں گزر چکی ہے وہاں اس کی مفصل تفسیر آچکی ہے وہاں دیکھ لی جائے۔
Top