Baseerat-e-Quran - Hud : 49
وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ
وَيَوْمَ : اور جس دن يُنَادِيْهِمْ : وہ پکارے گا انہیں فَيَقُوْلُ : پس کہے گا وہ اَيْنَ : کہاں شُرَكَآءِيَ : میرے شریک الَّذِيْنَ : وہ جنہیں كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ : تم گمان کرتے تھے
اور جس دن وہ پکارے گا اور پوچھے گا کہ کہاں ہیں میرے شریک جنہیں تم میرا شریک سمجھتے تھے ؟
لغات القرآن آیت نمبر 62 تا 67) ۔ ینا دی (وہ آواز دیتا ہے ) ۔ این (کہاں ) ۔ شرکاء ی (میرے شریک ) ۔ تزعمون (تم گھمنڈ کرتے ہو۔ تم گمان کرتے ہو ) ۔ حق علیھم (جن پا ثابت ہوگیا ) ۔ اغوینا (ہم نے بہکایا ) ۔ تبرءنا (ہم نے بیزاری کا اظہار کیا ) ۔ عمیت علیھم ( ان پر اندھی ہوگئی۔ ان کو نہ سوجھی ) ۔ تشریح : آیت نمبر (62 تا 67 ) ۔ ” ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان مشرکین کی بےچارگی اور حسرت و افسوس کی تفصیل بیان کی ہے جو قیامت کے ہولناک دن بری طرح ذلیل و خوار ہوجائیں گے اور مجرم کی حیثیت سے اللہ کے سامنے حاضر ہوں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ آج کے دن اپنے ان معبودوں کو پکارو جنہیں تم میر شریک بنا کر گھمنڈ کرتے تھے ان کو اپنا مشکل کشا مانتے تھے۔ اس دن سب سے آگے بڑھ کر وہ جھوٹے معبود بولیں گے جن پر عذاب کا فیصلہ ثابت ہوچکا ہوگا کہ اے ہمارے پروردگار یہ وہی ہیں جن کو ہم نے بہکایا اور گمراہ کیا تھا کیونکہ ہم تو خود ہی گمراہ تھے۔ اگر ہم نے ان کو گمراہ کیا تو اس میں تنہا ہمارا قصور نہیں ہے کیونکہ ہم نے ان کو گمراہی پر مجبور نہیں کیا تھا۔ اس گمراہی میں ان کی اپنی مرضی بھی شامل تھی۔ اللہ تعالیٰ ان مشرکین سے فرمائیں گے کہ اب تم اپنے معبودوں کو اپنی مدد اور چائو کے لئے پکارو۔ جب وہ ان کو اپنی مدد کے لئے پکاریں گے تو انہیں کوئی جواب نہ ملے گا کیونکہ وہ خود مصیبت اور مشکل میں پھنسے ہوئے ہوں گے۔ اس وقت جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تہ کہہ اٹھیں گے کہ کاش ہم دنیا میں کسی سیدھے راستے پر ہوتے تو یہ دن دیکھنا نہ پڑتا۔ ابھی وہ مشرکین اپنے معبودوں سے مایوسی پر افسوس کر رہے ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ ان سے پوچھیں گے کہ بتائو تم نے اللہ کے پیغمبروں کی بات کیوں نہ مانی اور جو پیغام وہ سنانے آئے تھے اسے کیون نہ سنا ؟ اس سوال سے ان پر ایسی گھبراہٹ طاری ہوجائے گی کہ ان کے ہوش اڑ جائیں گے اور انہیں کچھ بھی یاد نہ آئے گا اور ایسا لگے گا جیسے ان کے منہ پر تالے پڑگئے ہیں وہ اس حالت میں ایک دوسرے سے اس سوال کا جواب پوچھنے کے قابل بھی نہ رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جن لوگوں نے اسی دنیا میں توبہ کرلی وہ گی اور ایمان لا کر عمل صالح کا راستہ اختیار کرلیا ہوگا وہ اس بات کی امید رکھ سکتے ہیں کہ انہیں آخرت میں ہر طرح کی کامیابیاں عطا کی جائیں گی۔
Top