Madarik-ut-Tanzil - Al-Ankaboot : 89
سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ فَاَنّٰى تُسْحَرُوْنَ
سَيَقُوْلُوْنَ : جلد (ضرور) وہ کہیں گے لِلّٰهِ : اللہ کے لیے قُلْ : فرما دیں فَاَنّٰى : پھر کہاں سے تُسْحَرُوْنَ : تم جادو میں پھنس گئے ہو
فوراً کہہ دیں گے کہ (ایسی بادشاہی تو) خدا ہی کی ہے تو کہو پھر تم پر جادو کہاں سے پڑجاتا ہے
89: سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰہِ قُلْ فَاَنّٰی تُسْحَرُوْنَ (وہ عنقریب کہیں گے اللہ ہی کی ہے کہہ دیں پھر تم کو کیسا خبط ہو رہا ہے) تُسحرون کا معنی تخدعون ہے۔ نمبر 1۔ تخدعون عن الحق کا مطلب یہ ہے کہ کس فریب میں پڑ کر حق و ہدایت سے روگرداں ہو رہے ہو۔ نمبر 2۔ تم پھر حق کو باطل کس طرح خیال کرتے ہو۔ نمبر 3۔ تم اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی اطاعت کے متعلق کیوں دھوکہ میں مبتلا ہو۔ دھوکہ باز شیطان اور خواہشات ہیں۔ من اولؔ کا جواب تو للہ سے درست ہے کیونکہ منؔ کے ساتھ بھی لام آیا ہے۔ اسی طرح دوسرے اور تیسرے من کا جواب اہل بصرہ کے علاوہ دیگر علماء کے ہاں درست ہے کیونکہ اس کا معنی جب تم کہو : من رب ھذا ؟ تو مطلب یہ ہے لمن ھذا ؟ تو جواب میں لفلان کہا جائے گا۔ جیسا شاعر کا قول اذا قیل من رب المزالف بالقریٰ ورب الجیاد الجرد ؟ قیل : لخالد۔ مطلب یہ ہے کہ مزالف کس کے ہیں ؟ تو جواب ملا خالد کے ہیں۔ دوسراقول : جنہوں نے حذف سے پڑھا تو انہوں نے ظاہر پر رکھا۔ کیونکہ جب اس طرح کہیں گے من رب ھذا ؟ تو اس کے جواب میں کہتے ہیں فلان۔
Top