Maarif-ul-Quran - Aal-i-Imraan : 200
سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ فَاَنّٰى تُسْحَرُوْنَ
سَيَقُوْلُوْنَ : جلد (ضرور) وہ کہیں گے لِلّٰهِ : اللہ کے لیے قُلْ : فرما دیں فَاَنّٰى : پھر کہاں سے تُسْحَرُوْنَ : تم جادو میں پھنس گئے ہو
وہ کہیں گے یہ صفتیں تو اللہ ہی کے لیے ہیں ، تو کہہ پھر تمہاری عقل کیوں ماری گئی ؟
اے پیغمبر اسلام ! ﷺ ان سے کہئے کہ تمہاری عقل کیوں ماری گئی ہے ؟ 89۔ بہرحال بات تو ان مشرکوں کی تھی ان مشرکوں کا تو باوا آدم ہی نرالا ہے ۔ قرآن کریم ان ہی سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ (انی تسحرون) کہاں تمہاری عقل ماری گئی ہے کہ تم ہر سوال کے جواب میں اللہ ‘ اللہ بھی کہتے اور جب عمل کا وقت آتا ہے تو وہی کرتے ہو جو تمہارے آباؤ اجداد کیا کرتے تھے ” یہ جادو تم پر کہاں سے کیا گیا ؟ “ ذرا عقل وفکر سے جواب دو ۔ سحر وجادو کی حقیقت کیا ہے ؟ اس کو ہم پیچھے کئی ایک مقامات پر بیان کرچکے ہیں خصوصا سورة البقرہ کی آیت 102 کے تحت ‘ تفصیل وہیں دیکھیں ۔ مختصر یہ کہ وہ سراسر دھوکا اور فریب ہے علاوہ ازیں کچھ نہیں کہ مکاری اور فریب سے دوسرے کی قوت وہمہ کو متاثر کرلیا جاتا ہے اور ایک چیز کو اس کی اصلی ماہیت اور صحیح صورت کے خلاف بنا کر دکھایا جاتا ہے اور دیکھنے والے کے ذہن میں یہ غلط تاثر پیدا کرتا ہے کہ اس شے کی حقیقت وہ ہے جو بناوٹی طور پر یہ دھوکا باز پیش کر رہا ہے اس لئے آیت میں جو سوال کیا گیا ہے اس کا مطلب یہی ہے کہ کسی نے تم کو اس دھوکا و فریب میں مبتلا کردیا ہے کہ یہ سب باتیں جانتے اور ماننے کے باوجود حقیقت تمہاری سمجھ میں نہیں آتی ؟ کس کا جادو تم پر چل گیا ہے کہ جو مالک نہیں ہیں وہ تم کو مالک نظر آتے ہیں اور جنہیں کوئی اقتدار حاصل نہیں وہ تم کو اصل صاحب اقتدار دکھائی دیتے ہیں بلکہ اس سے بڑھ کر تم کو بندگی کی مستحق محسوس ہوتے ہیں ؟ وہ کون ہے جس نے تمہاری عقل مار دی ہے اور تمہاری آنکھوں پر پٹی باندھ دی ہے ؟ کس نے تم کو اس فریب میں مبتلا کردیا ہے کہ جو ہرچیز کا مالک حقیقی ہے وہ تم سے کبھی نہیں پوچھے گا کہ تم نے میری عطا کردہ چیز کو کس طرح استعمال کیا اور جو ساری کائنات کا بادشاہ ہے وہ کبھی تم سے اس کی باز پرس نہ کرے گا کہ میری بادشاہی میں تم پانی بادشاہیاں چلانے یا دوسروں کی بادشاہیاں ماننے کے کیسے مجاز ہوگئے ؟ سوال کی اس نوعیت پر مزید غور کرو کہ قریش کے لوگ نبی کریم ﷺ پر سحر کا الزام رکھتے تھے کہ اس پر کسی نے جادو کردیا ہے اس طرح گویا سوال کے انہی الفاظ میں یہ مضمون بھی ادا ہوگیا کہ کتنے بیوقوف ہو تم کہ جو شخص تمہیں اصل حقیقت بتاتا ہے اس کو تم سحر زدہ خیال کرتے ہو اور جو لوگ رات دن تم کو خلاف حقیقت باتیں بتاتے ہیں ‘ جنہوں نے تم کو صریح عقل ومنطق کے خلاف ‘ تجربے اور مشاہدے کے خلاف ‘ تمہاری اپنی اعتراف کردہ صداقتوں کے خلاف ‘ سراسر جھوٹی اور بےاصل باتوں کا معتقد بنا دیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ سحر زدہ تم ہو لیکن تمہاری عجیب منطق ہے کہ تم رسول اللہ ﷺ کو سحر زدہ ہی مانتے اور کہتے ہو ۔ یہ حالت تو ان کفار مکہ کی بیان کی جارہی ہے لیکن بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ آج مسلمانوں کی اکثریت بھی نبی اعظم وآخر ﷺ کو سحر زدہ ہی مانتی اور تسلیم کرتی ہے حالانکہ آپ ﷺ پر سحر کا الزام بذات خود سراسر جھوٹ ‘ فریب اور مکاری کی واضح دلیل ہے ، قرآن کریم ایسے لوگوں کو مخاطب فرماتے ہوئے کہتا ہے کہ ” پھر کیا ہوا کہ تمہاری عقل ماری گئی ؟ “۔
Top