Dure-Mansoor - Al-Muminoon : 54
اِنَّ الَّذِیْنَ هُمْ مِّنْ خَشْیَةِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُوْنَۙ
اِنَّ : بیشک الَّذِيْنَ : جو لوگ هُمْ : وہ مِّنْ : سے خَشْيَةِ : ڈر رَبِّهِمْ : اپنا رب مُّشْفِقُوْنَ : ڈرنے والے (سہمے ہوئے)
بلا شبہ جو لوگ اپنے رب کی ہبیت سے ڈرتے ہیں
1۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ مومن جمع کرتا ہے احسان کو اور شفقت کو اور منافق جمع کرتا ہے گناہ کو اور بےخوفی کو۔ پھر (یہ آیت) آیت ” ان الذین ہم من خشیۃ ربہم مشفقون “ سے لے کر آیت ” انہم الی ربہم رجعون “ تک تلاوت کی اور منافق نے کہا آیت ” انما اوتیتہ علی علم عندی “ (القصص آیت 7) (یعنی میں اپنے علم کے ذریعہ مال دیا گیا اللہ کی طرف سے نہیں ملا) ۔ 2۔ الفریابی واحمد وعبد بن حمید والترمذی وابن ماجہ وابن ابی الدنیا فی نعت الخائفین وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ وابن مردویہ والبیہقی نے شعب الایمان میں عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے آیت ” والذین یؤتون ما اٰتوا و قلوبہم وجلۃ “ کیا اس سے مراد وہ آدمی ہے جو چوری کرتا ہے اور زنا کرتا ہے۔ اور شراب پیتا ہے اور وہ اس کے باوجود اللہ سے ڈرتا ہے آپ نے فرمایا بلکہ اس سے مراد وہ آدمی ہے جو روزہ رکھتا ہے صدقہ کرتا ہے اور نماز پڑھتا ہے اس کے باوجود وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے کہ شاید اس کی طرف سے یہ اعمال قبول نہ کئے جائیں۔ 3۔ ابن ابی الدنیا وابن جریر وابن الانباری فی المصاحف وابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ عائشہ ؓ نے عرض کیا یارسول اللہ ! آیت ” والذین یؤتون ما اٰتوا وقلوبہم وجلۃ “ سے مراد کیا وہ لوگ ہیں جو خطا کرنے والے اور گناہ کا ارتکاب کرنے والے ہیں جو نماز پڑھتے ہیں اور روزے رکھتے ہیں اور صدقہ کرتے ہیں اور پھر بھی ان کے دل ڈرتے ہیں کہ شاید ہمارے یہ اعمال قبول نہ ہوں۔ 4۔ عبدالرزاق نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” والذین یؤتون ما اٰتوا وقلوبہم وجلۃ “ یعنی وہ دیتے ہیں جو ان کو (اللہ کی طرف سے) عطا کیا جاتا ہے۔ نیک عمل کر کے بھی اللہ سے ڈرتے رہنا چاہیے 6۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” والذین یؤتون ما اٰتوا وقلوبہم وجلۃ “ یعنی وہ نیک عمل بھی کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے بھی ہیں۔ 7۔ الفریابی وابن جریر نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” والذین یؤتون ما اٰتوا “ سے مراد ہے کہ وہ زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ 8۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن المنذر نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” والذین یؤتون ما اٰتوا “ سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں اور اس کی اطاعت کرتے ہیں۔ 9۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” والذین یؤتون ما اٰتوا “ سے مراد ہے کہ وہ دیتے ہیں جو ان کو عطا کیا جاتا ہے آیت ” وقلوبہم وجلۃ “ یعنی اور ان کے دل قیامت اور حساب کے برے انجام سے ڈرتے ہیں۔ 10۔ عبد بن حمید وابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” والذین یؤتون ما اٰتوا “ سے مراد ہے کہ وہ دیتے ہیں جو ان کو عطا کیا جاتا ہے (اللہ کی طرف) آیت ” وقلوبہم وجلۃ “ سے مراد ہے کہ مومن اپنے مال کو خرچ بھی کرتا ہے اور اس کا دل ڈرتا ہے۔ (شاید قبول نہ ہو) 11۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر حسن اور قتادہ رحمہما اللہ سے روایت کیا کہ وہ اسی طرح پڑھتے تھے آیت ” والذین یؤتون ما اٰتوا “ اور فرمایا کہ وہ جو کچھ نیک کاموں میں عمل کرتے ہیں اور دیتے ہیں جو کچھ عطا کیے گئے اللہ تعالیٰ سے خوف کرتے ہوئے کہ (شاید قبول نہ ہو) 12۔ ابن المبارک فی الزہد وعبد بن حمید وابن جریر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” والذین یؤتون ما اتوا وقلوبہم وجلۃ “ یعنی وہ بھلائی کے کام کرتے ہیں اور ڈرتے ہیں کہ شاید یہ اعمال ان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات نہ دیں۔ 13۔ عبد بن حمید نے ابن ابی ملیکہ (رح) سے روایت کیا کہ عائشہ ؓ نے فرمایا کہ جب میں یہ آیت پڑھتی ہوں یہ آیت مجھے سرخ اونٹ ﷺ ں سے زیادہ محبوب ہے ابن عباس نے ان سے پوچھا کہ وہ کو سی آیت ہے ؟ فرمایا آیت ” والذین یؤتون ما اٰتوا “۔ 14۔ سعید بن منصور وابن مردویہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے یوں پڑھا آیت ” والذین یؤتون ما اتوا “ کو مقصورپڑھا۔ (یعنی صیغہ مجرد کے ساتھ جس کا معنی ہے آیا) 15۔ سعید بن منصور واحمد والبخاری فی تاریخہ وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی شیبہ وابن الانباری معافی المصاحفہ والداقطنی فی الافراد والحاکم وصححہ وابن مردویہ عبید بن عمیر (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے عائشہ ؓ سے سوال کیا کہ رسول اللہ ﷺ کس طرح یہ آیت پڑھتے تھے۔ آیت والذین یؤتون ما اٰتوا وقلوبہم وجلۃ “ یا آیت ” والذین یؤتون ما اٰتوا “ تو انہوں نے فرمایا ان میں سے کون سی آیت تیرے نزدیک زیادہ محبوب ہے میں نے عرض کیا اس ذت کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے ان میں سے ہر ایک میرے نزدیک ساری دنیا سے زیادہ محبوب ہے حضرت عائشہ نے پوچھا ان میں سے کونسی آیت (تجھے زیادہ پسند ہے) میں نے عرض کیا آیت ” والذین یؤتون ما اٰتوا “ عائشہ ؓ نے ی فرمایا میں گواہی دیتی ہوں کہ رسول اللہ ﷺ اسی طرح پڑھتے تھے اور اسی طرح اتاری گئی لیکن یہ ہجا حرف ہے۔ 16۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” اولئک یسرعون فی الخیرات وہم لہا سبقون “ سے مراد ہے کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے سعادت پہلے ہی مقدر کی جا چکی ہے۔
Top