Mutaliya-e-Quran - An-Nisaa : 53
فَتَقَطَّعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ زُبُرًا١ؕ كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَیْهِمْ فَرِحُوْنَ
فَتَقَطَّعُوْٓا : پھر انہوں نے کاٹ لیا اَمْرَهُمْ : اپنا کام بَيْنَهُمْ : آپس میں زُبُرًا : ٹکڑے ٹکڑے كُلُّ حِزْبٍ : ہر گروہ بِمَا : اس پر جو لَدَيْهِمْ : ان کے پاس فَرِحُوْنَ : خوش
پھر انہوں نے آپس میں اپنے کام کو متفرق کردیا اور ٹکڑے ٹکڑے کردیا جو چیز جس فرقے کے پاس ہے وہ اس سے خوش ہو رہا ہے۔
فرقہ بندی کا وبال تشریح : جیسا کہ کئی مرتبہ بتایا جا چکا ہے کہ انسان تخلیق کے لحاظ سے جسمانی طور پر اور روحانی طور پر ایک ہی بناوٹ سے پیدا کیا گیا ہے مگر لوگوں نے اپنی طرف سے بیشمار نئے نئے روحانی راستے نکال لیے ہیں، یعنی کوئی رسولوں کو ہی پوجنے لگا، کوئی سورج، چاند، ستارے، سانپ، گائے، پتھر کو اللہ بنا بیٹھا۔ کسی نے قبروں اور مزاروں کو پوجنا شروع کردیا اور پھر اپنے ان غلط عقیدوں پر اس قدر سختی سے قائم ہے کہ اس کی مت مار دی گئی ہے۔ شرک کی غلاظت میں اس قدر ڈوب چکے ہیں کہ ان کے دل توحید کو ہرگز ماننے کو تیار نہیں ایسے ہی لوگوں کے لیے کہا گیا ہے کہ آنکھیں ہیں مگر حق کو دیکھتی نہیں کان ہیں مگر حق کو سنتے نہیں ‘ زبان ہے مگر حق کو بیان یا اقرار نہیں کرتی یعنی یہ لوگ اپنے بنائے ہوئے غلط عقیدوں پر اس مضبوطی سے ڈٹے ہوئے ہیں کہ حق کی طرف سے یہ گونگے اور بہرے ہوچکے ہیں تو ایسے ہی لوگوں کے لیے آنحضرت ﷺ کو کہا گیا ہے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ اور کڑھنے کی ضرورت نہیں بلکہ ان کو اپنے حال پر چھوڑ دو اب اللہ ہی ان سے سمجھ لے گا۔ باقی رہا نعمتوں کا تو اللہ خالق کل ہے اس کی عطا سب کے لیے برابر ہے وہ مشرک کافر اور مسلم سب کو نعمتیں عطا کرتا ہے اور انہی نعمتوں سے ہی تو وہ انسانوں کو آزماتا ہے۔ کون شکر ادا کرتے ہوئے رب کے سامنے جھکتا ہے اور کون غرور میں اکڑ کر اللہ سے غافل ہوجاتا ہے۔ اگلی آیات میں بھلے لوگوں کا ذکر ہے۔
Top