Tafseer-Ibne-Abbas - Al-Muminoon : 90
بَلْ اَتَیْنٰهُمْ بِالْحَقِّ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ
بَلْ : بلکہ اَتَيْنٰهُمْ : ہم لائے ہیں ان کے پاس بِالْحَقِّ : سچی بات وَاِنَّهُمْ : اور بیشک وہ لَكٰذِبُوْنَ : البتہ جھوٹے ہیں
بات یہ ہے کہ ہم نے ان کے پاس حق پہنچا دیا ہے اور جو (بت پرستی کئے جاتے ہیں) بیشک جھوٹے ہیں
(90۔ 91) بلکہ ہم نے تو ان کے نبی کریم ﷺ کے پاس قرآن کریم بذریعہ جبریل ؑ پہنچایا ہے جس میں صاف طور پر یہ موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک ہے اور یقینا یہ خود ہی اپنے اس قول میں کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں جھوٹے ہیں اللہ تعالیٰ نے کسی کو اولاد قرار نہیں دیا، نہ انسانوں میں اور نہ بقول ان کے فرشتوں میں سے اور نہ ان کے ساتھ اور کوئی شریک ہے، اگر بقول ان کے ایسا ہوتا تو ہر ایک اللہ اپنی مخلوق کو تقسیم کر کے جدا کرلیتا ہے اور اس پر اپنی سلطنت جما لیتا اور پھر ایک دوسرے پر چڑھائی کرکے غالب آجاتا۔ اللہ تعالیٰ تو ان نازیبا باتوں سے ماوراء، پاک اور برتر ہے جو لوگ اس کی نسبت بیان کرتے ہیں۔
Top