Maarif-ul-Quran - Al-Hashr : 91
هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ اَلْمَلِكُ الْقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَیْمِنُ الْعَزِیْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ
هُوَ اللّٰهُ : وہ اللہ الَّذِيْ : وہ جس لَآ اِلٰهَ : نہیں کوئی معبود اِلَّا هُوَ ۚ : اس کے سوا اَلْمَلِكُ : بادشاہ الْقُدُّوْسُ : نہایت پاک السَّلٰمُ : سلامتی الْمُؤْمِنُ : امن دینے والا الْمُهَيْمِنُ : نگہبان الْعَزِيْزُ : غالب الْجَبَّارُ : زبردست الْمُتَكَبِّرُ ۭ : بڑائی والا سُبْحٰنَ : پاک اللّٰهِ : اللہ عَمَّا : اس سے جو يُشْرِكُوْنَ : وہ شریک کرتے ہیں
وہ اللہ ہے جس کے سوائے بندگی نہیں کسی کی وہ بادشاہ ہے پاک ذات سب عیبوں سے سالم امان دینے والا پناہ میں لینے والا زبردست دباؤ والا صاحب عظمت پاک ہے اللہ ان کے شریک بتلانے سے
الْقُدُّوْسُ ، بضم قاف وہ ذات جو ہر عیب سے پاک اور ہر ایسی چیز سے بری ہو جو اس کے شایان شان نہیں، الْمُؤْمِنُ ، یہ لفظ جب انسان کے لئے بولا جاتا ہے تو اس کے معنی ایمان لانے والے اور اللہ و رسول کے کلام کی تصدیق کرنے والے کے آتے ہیں اور جب یہ لفظ اللہ تعالیٰ کے لئے بولا جاتا ہے تو اس کے معنی امن دینے والے کے ہوتے ہیں (کماقالہ ابن عباس) یعنی وہ اللہ رسول پر ایمان لانے والوں کو ہر طرح کے عذاب و مصیبت سے امن اور سلامتی دینے والا ہے۔
الْمُهَيْمِنُ ، اس کے معنی ہیں نگرانی کرنے والا (کذاقال ابن عباس و مجاہد و قتادہ ؒ قاموس میں ہے کہ ہمن یہیمن کے معنی دیکھ بھال اور نگرانی کرنے کے آتے ہیں (مظہری)
الْعَزِيْزُ بمعنی قوی، الْجَبَّارُ ، صاحب جبروت و عظمت اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لفظ جبر سے مشتق ہو جس کے معنی ٹوٹی ہڈی وغیرہ کو جوڑنے کے آتے ہیں، اسی لئے جبیرہ اس پٹی کو کہا جاتا ہے جو ٹوٹی ہوئی ہڈی کو جوڑنے کے بعد اس پر باندھی جاتی ہے، تو معنی اس لفظ کے یہ ہوں گے کہ وہ ہر ٹوٹی ہوئی شکستہ و ناکارہ چیز کی اصلاح کر کے درست کردینے والا ہے (مظہری)
الْمُتَكَبِّرُ تکبر سے اور وہ کبریاء سے مشتق ہے، جس کے معنی بڑائی کے ہیں اور ہر بڑائی .... درحقیقت اللہ جل شانہ کے لئے مخصوص ہے جو کسی چیز میں کسی کا متحاج نہیں اور جو محتاج ہو وہ بڑا نہیں ہوسکتا، اس لئے اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کے لئے یہ لفظ عیب اور گناہ ہے، کیونکہ حقیقت میں بڑائی حاصل نہ ہونے کے باوجود بڑائی کا دعویٰ جھوٹا ہے اور وہ ذات جو حقیقت میں سب سے بڑی اور بےنیاز ہے اس کی خاص صفت میں شرکت کا دعوی ہے، اس لئے متکبر کا لفظ اللہ تعالیٰ کے لئے صفت کمال ہے اور غیر اللہ کے لئے جھوٹا دعویٰ۔
Top