Tafseer-e-Majidi - Al-Muminoon : 54
نُسَارِعُ لَهُمْ فِی الْخَیْرٰتِ١ؕ بَلْ لَّا یَشْعُرُوْنَ
نُسَارِعُ : ہم جلدی کر رہے ہیں لَهُمْ : ان کے لیے فِي الْخَيْرٰتِ : بھلائی میں بَلْ : بلکہ لَّا يَشْعُرُوْنَ : وہ شعور (سمجھ) نہیں رکھتے
تو ہم ان کو جلدی جلدی فائدے پہنچا رہے ہیں نہیں بلکہ یہ لوگ سمجھتے نہیں،52۔
52۔ یہ دھوکا عام وعالمگیر ہے۔ آج تک ہزاروں لاکھوں مذہب اسی میں مبتلا ہیں۔ تکوینی عیش و راحت کو اپنی حقانیت ومقبولیت کی دلیل سمجھ رہے ہیں ! حالانکہ نظام تکوینی میں قانون ربوبیت کے ماتحت تو سانپوں، بچھوؤں سب ہی کی پرورش و کفالت ہوتی رہتی ہے۔ محققین عارفین نے کہا ہے کہ جس طرح ظاہری نعمتوں سے دھوکا نہ کھانا چاہیے اسی طرح باطنی نعمتوں (احوال ومواجید وغیرہا) پر مطمئن ومغرور نہ ہوجانا چاہیے۔
Top