Mutaliya-e-Quran - Al-Waaqia : 57
قُلْ هُوَ الَّذِیْ ذَرَاَكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ
قُلْ : کہہ دیجئے هُوَ الَّذِيْ : وہ اللہ وہ ذات ہے ذَرَاَكُمْ : جس نے پھیلایا تم کو فِي الْاَرْضِ : زمین میں وَاِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ : اور اسی کی طرف تم سمیٹے جاؤ گے
اِن سے کہو، اللہ ہی ہے جس نے تمہیں زمین میں پھیلایا اور اسی کی طرف تم سمیٹے جاؤ گے
[قُلْ هُوَ الَّذِي : آپ کہیے وہ، وہ ہے جس نے ][ ذَرَاَكُمْ فِي الْاَرْضِ : بکھیرا تم لوگوں کو زمین میں ][ وَاِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ : اور اس کی طرف ہی تم لوگ اکٹھا کیے جائو گے ] نوٹ۔ 2: آیت۔ 24 ۔ میں اس حقیقت کی یاد دہانی کردی ہے کہ ایک کسان اپنے کھیت میں کوئی فصل بوتا ہے، اس کو کھاد اور پانی دیتا ہے، چرند و پرندے اس کی حفاظت کرتے ہیں تو ہر دیکھنے والا بن بتائے یہ جانتا ہے کہ ایک دن وہ اس کو کاٹے گا اور اس کے دانے اور بھس کو الگ الگ کرے گا۔ آکر یہ واضح حقیقت خدا کے متعلق تمہاری سمجھ میں کیوں نہیں آتی۔ اگر تم عقل سے کام لو (آیت۔ 23 کے حوالے سے) تو یہ واضح حقیقت نہایت آسانی سے سمجھ میں آ جانی چاہیے کہ جس خدا نے تم کو زمین میں بویا (پھیلایا) ہے اور تمہاری پرورش کر رہا ہے وہ تم کو یونہی نہیں چھوڑ رکھے گا، بلکہ وہ اپنی بوئی ہوئی فصل کاٹ کر اپنے کھلیان میں جمع کرے گا۔ پھر اس کے دانے کو بھس سے الگ کرے گا اور اس کو کھتے میں جمع کر کے بھس کو جلا دے گا۔ یہ امر واضح رہے کہ قرآن نے یہاں جو حقیقت نہایت سادہ لفظوں میں بیان کردی ہے، قدیم ضحیفوں خصوصاً انجیل میں مختلف اسلوبوں سے بیان ہوتی ہے۔ (تدبر قرآن)
Top