Al-Qurtubi - Al-Haaqqa : 15
فَیَوْمَئِذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُۙ
فَيَوْمَئِذٍ : تو اس دن وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُ : واقع ہوجائے گی واقع ہونے والی
تو اس روز ہو پڑنے والی (یعنی قیامت) ہو پڑے گی
فیومئذ وقعت الواقعۃ۔ جس روز قیامت قائم ہوگی (1) وانشقت السمآء آسمان پھٹ جائے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، وہ پھٹ جائے گا کہ جو فرشتے اس میں ہیں وہ نیچے اتر آئیں گے۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : ویوم تشق السمآء بالغمام ونزل الملٓئکۃ تنزیلاً ۔ (الفرقان) یہ بحث پہلے گزر چکی ہے فھی یومئذ واھیۃ وہ اس دن کمزور ہوگا۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : وھی البناء یھی وھیافھو واہ جب وہ بہت کمزور ہوجائے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : کلام واہ ضعیف کلام۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ اپنی سختی کے بعد کمزوری میں اون کی طرح ہوجائیں گے۔ یہ فرشتوں کے نازل ہونے کے لئے ہوگا جس طرح ہم نے ذکر کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : قیامت کی ہولناکی کی وجہ سے ایسا ہوگا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : واھیۃ کا معنی ہے اس میں سوراخ ہوجائیں گے، یہ ابن شجرہ نے کہا ہے (2) یہ عربوں کے اس قول سے ماخوذ ہے : وھی السقاء جب اس میں سوراخ ہوجائیں۔ ان کی امثال میں سے ہے : خل سبیل من وھی سقاءہ ومن ھریق بالفلاۃ ماء ہ اس آدمی کا راستہ چھوڑ دے جس کا مشکیزہ پھٹ گیا ہو اور جس کا پانی جنگل میں بہہ گیا ہو۔ یعنی جو کمزور عقل والا ہو وہ اپنا دفاع نہیں کرسکتا۔ والملک اس سے مراد فرشتے ہیں یہ اہم جنس ہے علی ارجآء ئھا جب آسمان پھٹ جائے گا تو فرشتے اس کی اطراف میں ہوں گے کیونکہ آسمان میں ان کا امکان تھا یہ حضرت ابن عباس سے مروی ہے۔ مادری نے کہا، شاید یہ مجاہد اور قتادہ کا قول ہے۔ ثعلبی نے اسے ضحاک سے روایت کیا ہے۔ کہا : اس کے ان اطرفا پر جو پھٹی نہیں۔ یہ ارادہ کیا کہ آسمان فرشتوں کا مکان ہے جب وہ پھٹ گیا تو وہ اس کی اطراف میں چلے گئے۔ سعید بن جبیر نے کہا، معنی ہے فرشتے دنیا کی اطراف میں ہونگے یعنی زمین کی طرفا تریں گے اور اس کی اطرفا کی نگہبانی کریں گے ایک قول یہ کیا گیا ہے : جب آسمانٹ کڑیٹ کڑے ہوجائے گا تو فرشتے ان ٹکڑوں پر کھڑے ہوجائیں گے جو خود نہیں پھٹے ہونگے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : لوگ جب جہنم دیکھیں گے تو جہنم ان کو خوفزدہ کر دے گی تو وہ یوں بھاگ کھڑے ہونگے جس طرح اونٹ بھاگتا ہے وہ زمین کے کسی کونے میں نہیں آئیں گے مگر وہ فرشتوں کو دیکھیں گے تو جہاں سے آئے تھے واپس چلے جائیں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ اس کی اطراف میں انتظار کر رہے ہونگے کہ جہنمیوں کے بارے میں انہیں جو حکم دیا جاتا ہے کہ انہیں جہنم میں ہانک دیا جائے اور اہل جنت کے بارے میں سلام اور کرامت کا حکم دیا جائے۔ یہ سب ابن جبیر کے قول کے معنی کی طرف راجع ہے اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان : ونزل الملئکۃ تنزیلاً ۔ (الفرقان) اور یمعشر الجن والارنس ان استطعتم ان تنفذوا من اقطار السموت والارض (الرحمٰن : 33) اس پر دلالت کرتا ہے جس طرح ہم نے وہاں بیان کیا ہے۔ ارجاء کا معنی اطراف ہے، یہ بذیل کی لغت ہے اس کا واحد رجا ہے اس کی تثنیہ رجوان ہے جس طرح عصا اور عصوان ہے۔ شاعر نے کہا : فلا یرمی بی الرجوان ان اقتل القفوم من یغنی مکان مجھے دونوں طرفوں میں نہیں پھینکا جاسکتا میں قوم میں سب سے قلیل ہوں میرے مکان سے کون بےنیاز ہو سکتا ہے۔ یہ لفظ کنوئیں اورق بر کے کنارے کے لئے بھی بولا جاتا ہے۔ ویحمل عرش ربک فوقھم یومئذ ثمنیۃ۔ حضرت ابن عباس نے کہا : فرشتوں کی آٹھ صفیں ہوں گی (1) جن کی تعداد کو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ ابن زید نے کہا، یہ آٹھ فرشتے ہیں (2) حضرت حسن بصری سے مروی ہے : اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ آٹھ ہیں یا آٹھ ہزار ہیں (3) نبی کریم ﷺ سے مروی ہے :” آج عرش کو اٹھانے والے چار ہیں جب قیامت کا روز ہوگا تو اللہ تعالیٰ چار اور سے ان کی مدد کرے گا وہ آٹھ ہوجائیں گے۔ “ ثعلبی نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ماوردی نے اسے حضرت ابوہریرہ سے نقل کیا ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا، یحملہ الیوم اربعۃ وھم یوم القیامۃ ثمانیہ آج چار اسے اٹھائے ہوئے ہیں قیامت کے روز وہ آٹھ ہونگے۔ عباس بن عبدالملک نے کہا، وہ پہاڑی بکروں کی شکل میں آٹھ فرشتے ہیں، اسے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے۔ حدیث طیبہ میں ہے : ” ان فرشتوں میں سے ہر ایک کے چار منہ ہیں انس ان کا چرہ، شیر کا چہرہ، بیل کا چہرہ اور گدھ کا چہرہ۔ ہر چہرہ اپنی جنس کے لئے رزق طلب کرتا ہے۔ “ (4) جب امیہ بن بی صلت کے اشعار نبی کریم ﷺ کے سامنے پڑھے گئے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا :” اس نے سچ کا۔ “ رجل و ثور تحت رجل یمینہ والنسر للاخری و لیث مرصد والشمس تطلع کل آخر لیلۃ حمراء یصبح لونھا یتورد لیست بطلالعۃ لھم فی رسلھا الا معذبۃ و الا تجلد حدیث طیبہ میں ہے : ” استویں آسمان کے اوپر آٹھ پہاڑی بکرے ہیں ان کے کھروں کے گھنٹوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا فاصلہ ایک آسمان سے دوسرے آسمان کے درمیان ہے ان کی پشتوں پر عرش ہے۔ “ (5) قشیری نے یہ ذکر کیا ہے۔ امام ترمذی نے حضرت عباس بن عبدالمطلب کی حیدث تخریج کی ہے : سورة بقرہ میں وہ مکمل گزر چکی ہے۔ ثعلبی نے اسی کی مثل اور اس کے الفاظ ذکر کئے ہیں۔ حدیث مرفوع میں ہے : ” عرش کو اٹھانے والے آٹھ فرشتے ہیں جو پہاڑی بکروں کی شکل پر ہیں ان کے کھروں اور گھٹنوں کے درمیان تیز رفتار پرندے کے لئے ستر سال کی مسافت ہے۔ “ کلبی کی تفسیر میں یہ الفاظ ہیں ثمانیۃ اجزا من تسعۃ اجزاء من الملائکۃ ان سے یہ بھی مروی ہے ثمانیۃ اجزاء من عشرۃ اجزاء من الملائکۃ کی تعداد کا ذکر کیا جس کا ذکر طویل ہے۔ پہلا قول ثعلبی نے ان سے نقل کیا اور دوسرا قول قشیری نے نقل کیا ہے۔ ماوردی نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے : ثمانیۃ اجزاء من تسعۃ یہی مقرب فرشتے ہیں (6) ۔ عرش کی اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت اسی طرح ہے جس طرح بیت کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہے، بیت رہائش کے لئے نہیں یہی کیفیت عرش کی ہے۔ فوقھم کا معنی ہے ان کے سروں کے اوپر۔ سدی نے کہا، عرش کو حاملین عرش اپنے اوٹر اٹھائے ہوئے ہونگے جبکہ عرش کو اٹھانے والوں پر رکھنے والا صرف اللہ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، فوقھم سے مراد ہے عرش کو اٹھانے والے فرشتے ان فرشتوں کے اوپر ہوں گے (1) جو آسمان میں اس کی اطراف میں ہوں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : فوقھم سے مراد فوق اھل القیامۃ ہے۔ یومئذ تعرضون لاتخفی منکم خافیۃ ” وہ دن جب تم پیش کئے جائو گے تمہارا کوئی راز پوشیدہ نہ رہے گا۔ “ یومئذ تعرضون جس روز تمہیں اللہ تعالیٰ پر پیش کیا جائے گا۔ اس کی دلیل یہ آیت ہے : وعرضوا علی ربک صفا (الہکف : 48) یہ وہ پیشی نہیں جس کے ذریعے اس چیز کو جانا جائے جس سے پہلے آگاہ نہ ہ، بلکہ اس کا معنی حساب ہے اور جزا کے لئے ان پر اعمال واضح کرتا ہے۔ حضرت حسن بصری نے حضرت ابوہریرہ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ؓ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” قیامت کے روز لوگوں کی تین پیشیاں ہونگی جہاں تک دو پیشیوں کا تعلق ہے وہ جھگڑا اور معذرت ہے، جہاں تک تیسری پیشی کا تعلق ہے اس موقع پر صحیفے ہاتھوں میں اڑ کر پہنچیں گے کوئی اپنے دائیں ہاتھ میں پکڑے گا اور کوئی اپنے بائیں ہاتھ میں پکڑے گا۔ “ (2) اسے امام ترمذی نے نقل کیا ہے۔ یہ روایت صحیح نہیں کیونکہ حضرت حسن بصری نے حضرت ابوہریرہ سے روایت نقل نہیں کی۔
Top