Al-Quran-al-Kareem - Al-Haaqqa : 15
فَیَوْمَئِذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُۙ
فَيَوْمَئِذٍ : تو اس دن وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُ : واقع ہوجائے گی واقع ہونے والی
تو اس دن ہونے والی ہوجائے گی۔
فیومئذ وقعت الواقعۃ :”الواقعۃ“ واقع ہونے والی۔ یعنی قیامت کے منکروں کا دنیا میں انجام ذکر کرنے کے بعد اب اس کے واقع ہونے کی کیفیت بیان ہوتی ہے کہ صور میں اچانک ایک پھونک ماری جائے گی، اس کے ساتھ ہی زمین اور پہاڑوں کو اٹھا کر ایک ہی بار ٹکرا کر ریزہ ریزہ کردیا جائے گا اور تمام زندہ لوگ مر کر گرجائیں گے۔ یہ واقعہ یک لخت ہوگا، اس کے وقت کا کسی کو بھی علم نہیں، حتیٰ کہ صور میں پھونکنے والے کو بھی نہیں۔ ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(کیف انعم و صاحب القرن قد التقم القرن واستمع الاذن متی یومر بالنفع فینفخ (ترمذی، صفۃ القیامۃ و الرفاق، باب ماجاء فی شان الصور، 2331، وصححہ الالبانی، انظر صحیح الجامع الصغیر : 3592)”میں کیسے خوش حال ہو کر رہوں جب کہ صور والا (فرشتہ) صور منہ میں لئے ہوئے اور کان لگائے ہوئے ہے (اور پیشاین جھکا کر انتظار کر رہا ہے) کہ اسے صور میں پھونکنے کا حکم کب ہوتا ہے، تو وہ (صور میں) پھونکے۔“
Top