Anwar-ul-Bayan - Ash-Shura : 11
فَلِذٰلِكَ فَادْعُ١ۚ وَ اسْتَقِمْ كَمَاۤ اُمِرْتَ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ١ۚ وَ قُلْ اٰمَنْتُ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنْ كِتٰبٍ١ۚ وَ اُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَیْنَكُمْ١ؕ اَللّٰهُ رَبُّنَا وَ رَبُّكُمْ١ؕ لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١ؕ لَا حُجَّةَ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ١ؕ اَللّٰهُ یَجْمَعُ بَیْنَنَا١ۚ وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُؕ
فَلِذٰلِكَ : پس اس لیے فَادْعُ : پس بلاؤ۔ دعوت دو وَاسْتَقِمْ : اور قائم رہو كَمَآ اُمِرْتَ : جیسا کہ آپ کو حکم دیا گیا وَلَا تَتَّبِعْ : اور نہ تم پیروی کرو اَهْوَآءَهُمْ : ان کی خواہشات کی وَقُلْ : اور کہہ دیجئے اٰمَنْتُ : میں ایمان لایا بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ : ساتھ اس کے جو نازل کیا اللہ نے مِنْ كِتٰبٍ : کتاب میں سے وَاُمِرْتُ : اور مجھے حکم دیا گیا ہے لِاَعْدِلَ بَيْنَكُمْ : کہ میں عدل کروں تمہارے درمیان اَللّٰهُ : اللہ تعالیٰ رَبُّنَا وَرَبُّكُمْ : ہمارا رب ہے اور تمہارا رب لَنَآ اَعْمَالُنَا : ہمارے لیے ہمارے اعمال وَلَكُمْ اَعْمَالُكُمْ : اور تمہارے لیے تمہارے اعمال ۭلَا حُجَّةَ : نہیں کوئی جھگڑا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ : ہمارے درمیان اور تمہارے درمیان اَللّٰهُ : اللہ تعالیٰ يَجْمَعُ بَيْنَنَا : جمع کردے گا ہمارے درمیان وَاِلَيْهِ الْمَصِيْرُ : اور اسی کی طرف لوٹنا ہے
اور یہ لوگ متفرق نہیں ہوئے مگر ضدا ضدی میں اس کے بعد کہ ان کے پاس علم آگیا، اور اگر آپ کے رب کی طرف سے وقت متعین تک ایک بات پہلے سے طے شدہ نہ ہوتی تو ان کے درمیان فیصلہ ہوچکا ہوتا اور بلاشبہ ان کے بعد جنہیں کتاب دی گئی وہ اس کی طرف سے شک میں پڑے ہیں جو تردد میں ڈالنے والا ہے۔
علم آنے کے بعد لوگ متفرق ہوئے ﴿وَ مَا تَفَرَّقُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ ﴾ اور لوگ ضدا ضدی کے باعث اس کے بعد متفرق ہوئے جبکہ ان کے پاس علم آچکا تھا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ یہ قریش مکہ کے بارے میں فرمایا ہے یہ لوگ آرزو کرتے تھے کہ ان کی طرف کوئی نبی بھیجا جائے اور قسمیں کھاتے تھے کہ ہمارے پاس کوئی نبی آگیا تو ہم پرانی امتوں سے بڑھ کر ہدایت والے ہوں گے جب رسول اللہ ﷺ کی بعثت ہوگئی تو منکر ہوگئے آپس کی ضدا ضدی نے ان کے فرقے بنا دئیے کچھ لوگوں نے ایمان قبول کیا اور کچھ لوگ کفر و شرک پر جمے رہے اور حضرت ابن عباس ؓ کا ایک قول یہ ہے کہ اس سے اہل کتاب مراد ہیں یہودیوں کو حسد کھا گیا اور جانتے بوجھتے ایمان نہ لائے اور نصاریٰ بھی انہیں کی راہ پر چل پڑے ان لوگوں کا متفرق ہونا اور رسول اللہ ﷺ سے اختلاف کرنا اس وجہ سے نہیں تھا کہ آپ کے بیان میں اور اظہار حجت میں کوئی کمی تھی حب ّدنیا اور مال و جاہ کی طلب نے انہیں ایمان سے روکا۔ ھذا ما ذکرہ القرطبی ص 12 ج 22 وذکر قولا ثالثا قال قیل امم الانبیاء المتقدمین فانھم فی بینھم اختلفوا لما طال بھم المدی فامن قوم فکفر قوم۔ اھ (یہ وہ ہے جو علامہ قرطبی نے ذکر کیا ہے اور تیسرا قول بھی ذکر کیا ہے کہ بعض نے کہا ہے سابقہ انبیاء کی امتوں میں اختلاف ہوا جب لمبا عرصہ گزرا تو ایک گروہ ایمان والا رہا اور ایک کافر ہوگیا۔ ) ﴿وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى لَّقُضِيَ بَيْنَهُمْ 1ؕ﴾ اور اگر آپ کے رب کی طرف سے پہلے بات طے نہ کی جاتی (یعنی یہ فیصلہ نہ ہوگیا ہوتا کہ انہیں قیامت کے دن عذاب دینا ہے دنیا) میں عذاب نہیں دینا تو اب تک فیصلہ ہوچکا ہوتا یعنی عذاب آچکا ہوتا اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اَجَلٍ مُّسَمًّى سے دنیا میں عذاب بھی آگیا کما کان فی بدر ﴿ وَ اِنَّ الَّذِيْنَ اُوْرِثُوا الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لَفِيْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِيْبٍ 0014﴾ (اور بلاشبہ جن لوگوں کو ان کے بعد کتاب دی گئی وہ شک میں پڑے ہوئے ہیں جو تردد میں ڈالنے والا ہے۔ ) علامہ قرطبی لکھتے ہیں کہ اس سے یہود و نصاریٰ مراد ہیں جنہیں ان لوگوں کے بعد کتاب دی گئی جو حق میں ان سے پہلے اختلاف کرچکے تھے اور ایک قول یہ ہے کہ ﴿ اُوْرِثُوا الْكِتٰبَ ﴾ سے قریش مراد ہیں جن کے پاس قرآن مجید آیا اور ﴿ مِنْۢ بَعْدِهِمْ﴾ سے یہود و نصاریٰ مراد ہیں اور ” منہ “ کی ضمیر قرآن کریم کی طرف یا محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف راجع ہے۔
Top