نبی کریم ﷺ اور آپ ﷺ کے ذریعے سے امت کے لیے خاص احکامات
15 ؎ زیر نظر آیت ان نظریات کریمات میں سے ہے جن میں بہت سے احکامات ایک ہی جگہ بیان کردیئے گئے ہیں اور ہر حکم ایک دوسرے سے بالکل جدا اور واضح ہے ہم اس جگہ ہر حکم کو علیحدہ علیحدہ بیان کریں گے تاکہ بات اچھی طرح سمجھ میں آجائے اور یہ بھی کہ ان احکامات کی پابندی کرنے میں ہم کو مدد مل سکے۔ وہ احکامات درج ذیل ہیں :
1۔ { فلذلک فادع } پس اس طرح آپ ﷺ دعوت دیتے رہیں۔ نبی اعظم و آخر ﷺ کو مخاطب کر کے ہدایت خاص کے طور پر کہا جا رہا ہے کہ جس دین کی دعوت سرے نبی ور سول دیتے رہے اور جس طرح انہوں نے دعوت دی آپ ﷺ بھی اسی طرح اس دعوت کو جاری رکھیں اور آپ ﷺ کے بعد آپ ﷺ کی امت کے ہر فرد کے ذمہ یہ لازم ہے کہ جو شخص جس بات کو جانتا اور سمجھتا ہے وہ دوسروں تک پہنچا دے ، خود اس کے مطابق عمل کرے اور دوسروں کو اس کے مطابق عمل کی دعوت دے لیکن داعی الی اللہ کے لیے ضروری ہے کہ کوئی مانے یا نہ مانے وہ اپنا کام جاری رکھے اور اس سلسلہ میں جو دکھ بھی پہنچے اس کو رضائے الٰہی کے لیے برداشت کرے۔ اس دعوت کے بہت سے فضائل آپ ﷺ نے بیان کیے ہیں اور ایک ان میں یہ ہے کہ وہ جنت میں نبیوں اور رسولوں کے ساتھ ہوگا اور یہ وہ انعام ہے جس سے بڑا کوئی انعام نہیں ہو سکتا۔
2۔ { واستقم کما امرت } جس چیز کا آپ ﷺ کو حکم دیا گیا ہے اس پر ہمیشہ قائم رہیے۔ مخالفین و معاندین آپ ﷺ کو ہٹانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگائیں گے لیکن آپ ﷺ ان کی پرواہ نہ کریں اور حق پر سختی سے قائم رہیں اور اس راہ میں جو آلام و مصائب بھی برداشت کرنے پڑیں رضائے الٰہی کے لیے بخوشی برداشت کرتے رہیں یہی حکم آپ ﷺ کو سورة ہود کی آیت 112 میں دیا گیا ہے اس لیے اس کی وضاحت وہیں سے دیکھ لیں۔ سورة ہود عزوۃ الوثقی کی جلد چہارم میں ملے گی۔
3۔ { ولا تتبع اہوأئَ ہم } ” اور ان کی خواہشات کا اتباع نہ کیجئے۔ “ قریش مکہ ہوں یا یہود و نصاریٰ یہ سب لوگ اپنی اپنی خواہشات کی پیروی کر رہے ہیں اور جو کچھ انہوں نے اپنے آباؤ اجداد سے پایا ہے آنکھیں بند کر کے اس کے پیچھے چلے جا رہے ہیں اور یہ بھی کہ جو کچھ وہ کرتے ہیں اس پر کوئی دلیل وبرہان ان کے پاس نہیں ہے اور آپ ﷺ کو ان کے مقابلہ میں جو کچھ دیا گیا ہے وہ من حیث العقل دلیل و حجت کے ساتھ دیا گیا ہے اور اس کے لیے سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ آپ ﷺ سے پہلے نبیوں اور رسولوں کو بھی بعینہٖ یہی کچھ دیا گیا تھا اس لیے آپ ﷺ کے لیے ضروری ہے کہ آپ ﷺ اس ہدایت کی پیروی کریں اور ان لوگوں کے لیے بھی ضروری ہے جو آپ ﷺ کی پیروی کرنے والے ہیں۔ یہ بات قرآن کریم میں بار بار ارشاد فرمائی گئی اور یہاں تک ارشاد فرمایا گیا کہ اگر آپ ﷺ نے علم آجانے کے بعد ان کی خواہشات کی پیروی کی تو اللہ تعالیٰ کی مدد آپ ﷺ سے روک لی جائے گی اگرچہ اس کا مطلب آپ ﷺ کو مخاطب کر کے آپ ﷺ کی امت کو سبق دینا تھا تاہم اتنا سخت حکم آپ ﷺ کو سنایا گیا جیسا کہ سورة البقرہ کی آیت 145 , 120 میں دیا گیا اور سورة الحاقہ کی آیت 49 , 48 میں بھی یہ حکم دیا گیا۔ پھر سورة الرعد کی آیت 73 ، سورة المومنون کی آیت 71 ، سورة القصص کی آیت 50 ، سورة الروم کی آیت 29 میں اس کی وضاحت کی گئی۔
4۔ { و قل امنت بما انزل اللہ من کتب } ” اور اس بات کا اعلان کرو کہ میں ایمان لایا ہر اس کتاب پر جو اللہ نے نازل کی۔ “ یہ چوتھا حکم ہے جس میں کہا جا رہا ہے کہ آپ ﷺ اس بات کا اعلان کردیں کہ میں تمہاری اور تمہارے آباؤ اجداد کی ، اپنی اور اپنے آباؤ اجداد کی خواہشوں کی پیروی نہیں کرتا میں تو ساری انسانیت کی شیراہ بندی کے لیے آیا ہوں اور یہ اس طرح ممکن نہیں ہے کہ انسانوں کے درمیان ایک مشترک ہدایت کی پیروی کی جائے اور وہ اسی طرح ممکن ہے کہ آپ ﷺ اسی دعوت کی طرف بلائیں جو سارے نبیوں اور رسولوں کی دعوت تھی کیونکہ حق ہمیشہ ایک رہا ہے اگرچہ باطل نے کئی روپ بدلے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو پیغام بھی اور جس نبی و رسول پر بھی آیا وہ ایک ہی جیسا تھا اسی لیے آپ ﷺ برملا کہہ دیں کہ میں صرف اسی کلام پر ہی ایمان نہیں لایا جو مجھ پر نازل ہوئی بلکہ میرے رب نے جو کتابیں نازل کی میں ان سب پر ایمان لاتا ہوں اور ان کو حق سمجھتا ہوں۔ ہاں ! تم کو تماہری تحریف کے متعلق بھی آگاہ کرتا ہوں کہ یہ اللہ تعالیٰ نے نازل نہیں کیا تھا بلکہ تم نے خود اور تمہارے مذہبی راہنماؤں نے تم کو خوش کرنے کے لیے داخل دین کردیا ہے اور اس کا تفصیلی ذکر پیچھے سورة آل عمران اور سورة المائدہ میں بڑی وضاحت سے گزر چکا ہے۔
5۔ { و امرت لا عدل بینکم } اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان عدل و انصاف کروں۔ “ گروہی مذاہب اور سیاست میں ، پارٹی سسٹم میں عدل و انصاف ممکن ہی نہیں۔ جس زمانہ اور جس ملک میں بھی ایسا مذہب اور ایسی سیاست پائی جائے اس زمانہ یا اس ملک میں عدل و انصاف کا جنازہ نکل جاتا ہے چونکہ نبی اعظم و آخر ﷺ کی بعثت کے وقت یہ دونوں چیزیں موجود تھیں گروہی مذاہب بھی اور سیاست میں پارٹی سسٹم بھی اسی لیے وہاں عدل و انصاف عنقا ہوچکا تھا اسی لیے آپ ﷺ سے اس بات کا اعلان کرایا گیا اور جس بات کا آپ ﷺ نے اعلان فرمایا وہ بات بلاشبہ حق تھی اس لیے جس عدل و انصاف کا حکم اس آیت میں ہے اس کے کئی پہلو ہیں ایک یہ کہ جو سچائی مجھ تک پہنچی ہے اس کو میں برابر برابر تم سب کو پہنچا دوں۔ دوسرا یہ کہ محض دینی مخالفت کی وجہ سے تمہارے ساتھ بےانصافی نہ کی جائے بلکہ وہ کچھ کیا جائے جس کا تقاضا عدل و انصاف کرتا ہے اور تیسرا یہ کہ اب تک تم میں مقدمات کے فیصلہ کی جو یہ صورت جاری ہے کہ دولت مندوں اور دنیوی عزت رکھنے والوں کے ساتھ رعایت کا اور عام لوگوں کے ساتھ سختی کا قانون برتا جائے میرے اللہ نے ایسا کرنے سے مجھے منع کیا ہے اور یہ حکم دیا ہے کہ عام و خاص اور امیر و غریب سب کے ساتھ یکساں اور برابری کا سلوک کیا جائے۔ دنیا نے دیکھا اور غیروں نے بھی اس کی شہادتیں دیں کہ جب اسلام کو غلبہ و اقتدار نصیب ہوا تو دوست و دشمن نے دیکھا ، اپنوں اور بیگانوں نے دیکھا اور ساری دنیا نے دیکھا کہ نبی اعظم و آخر ﷺ نے اور آپ ﷺ کے صحابہ کرام ؓ نے اس ذمہ داری کو کس طرح پورا کیا یہاں تک کہ خون کے پیاسوں کے ساتھ بھی عدل و انصاف کیا اور عزیز و اقارب کے ساتھ بھی بےجا رعایت نہیں کی اس کی مثالیں کتب احادیث اور کتب تاریخ میں آج بھی موجود ہیں۔
6۔ { اللہ ربنا و ربکم } ” اللہ ہمارا رب بھی ہے اور متہارا رب بھی۔ “ یعنی ہم سب کا جب رب ایک ہے اور ہم سب کے سب اسی کے غلام و بندے ہیں اس لیے اس کے سب غلاموں اور بندوں کے لیے ایک ہی قانون ہونا چاہئے ہم کو ہمارے اعمال اور تم کو تمہارے اعمال کا بدلہ ملے گا اس میں جھگڑنے اور لڑنے کی کوئی بات نیں و۔ ہم سب کو قیامت کے دن اسی مالک حقیقی کے سامنے پیش ہونا ہے جس کا کام اس کو پسند آئے گا اس کو بلاشبہ وہ انعام و اکرام دے گا اور اگر کام برا ہے جو اس کو پسند نہیں تو بلاشبہ اس کی ویسی ہی سزا بھی ملے گی۔ یاد رہے کہ عدل و انصاف کی راہ میں جو سب سے زیادہ کٹھن منزل ہے وہ یہ ہے کہ اپنے نفس کے مقابلہ میں عدل و انصاف کا سررشتہ ہاتھ سے نہ چھوٹے اور نبی اعظم و آخر ﷺ کی تعلیمات میں ابھی ایمان کی اس کٹھن منزل کی راہنمائی بھی پوری طرح ملتی ہے اور اس کی وضاحت ہم پیچھے عزوۃ الوثقی کی جلد دوم سورة النساء کی آیت 135 میں کرچکے ہیں وہاں سے دیکھی جاسکتی ہے۔
7۔ { لنا اعمالنا و لکم اعمالکم } ” ہمارے لیے ہمارے اعمال اور تمہارے لیے تمہارے اعمال ہیں۔ “ جب ہم سب کا پروردگار ایک ہے اور ہر انسان کے لیے اس کا عمل ہے تو پھر اللہ اور دین کے نام پر یہ تمام جھگڑے کیوں ہیں ؟ کیوں ایک مذہب کا پیرو دوسرے مذہب کے پیروؤں کا دشمن ہو ؟ ایک انسان دوسرے انسان سے نفرت کرے ؟ ہمارے لیے وہی ہوگا جو ہم نے اپنے عمل سے کمایا اور تمہارے لیے وہی ہے جو تم اپنے عمل سے کماؤ گے اور تم سے ہمارے اعمال کے بارے میں باز پرس نہیں ہوگی اور ہم سے تمہارے اعمال کے بارے میں کچھ نہیں پوچھا جائے گا اگر اس کھلے ذہن سے تم بھی سوچو تو آخر ہم کو جھگڑنے کی ضرورت کیا ہے ؟ اس کی تفصیل عروۃ الوثقی جلد پنجم میں سورة یونس کی آیت 41 میں ہم بیان کرچکے ہیں وہاں سے دیکھ لیں۔
8۔ { لا حجۃ بیننا و بینکم } ” ہمارے اور تمہارے درمیان اب کسی بحث و تکرار کی ضرورت نہیں رہی۔ “ اسی لیے کہ ہم نے اپنا موقف پوری وضاحت سے بیان کردیا اور تحدی کے طور پر واضح کردیا کہ ہمارا وہی طریقہ تعلیم ہے جو پہلے نبیوں اور رسولوں کا تھا اتنی توضیح و تفصیل کے بعد بھی اگر تم ماننے اور تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں تو ہم اس سے زیادہ طول کلامی کے لیے تیار نہیں اب ہمارا اور تمہارے معاملہ اللہ کے سپرد ہے ہمیں جھگڑنے اور بحث و تکرار کی ضرورت نہیں۔
9۔ { اللہ یجمع بیننا } ” اللہ ہم سب کو جمع کرے گا۔ “ یہ ہمارا ایمان ہے اگر تم بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہو اور اس کے باوجود ہمارے پیغام سے تم کو اتفاق نہیں ہے تو ہم اس دن کا انتظار کرتے ہیں اور تم بھی اسی دن کا انتظار کرو اسی لحاظ سے بھی بحث و تکرار بےکار ہے اور تم اس بات کو بھی نہیں مانتے کہ دوبارہ زندہ ہو کر اللہ کی طرف جانا ہے تو بھی تمہارے انکار سے ہمارا جمع ہونا رک نہیں جائے گا جس طرح ہم اور تم سب کو اس نے پیدا کردیا اسی طرح دوبارہ بھی پیدا کر کے ہم سب کو جمع کرے گا اور اس بات کا وہیں فیصلہ ہوجائے گا اگرچہ اس وقت کا فیصلہ تمہارے حق میں یقینا مفید نہیں ہوگا اس لیے کہ تم محض ضد اور ہٹ دھرمی کر رہے ہو جو سرا سر گھاٹے کی چیز ہے اگر کوئی دلیل تمہارے پاس موجود ہوتی تو وہ یقینا آپ لوگ پیش کردیتے جب ایسی بات کوئی موجود ہی نہیں تو محض دل لگی کے لیے باتیں کرنے سے کیا فائدہ ؟
10۔ { والیہ المصیر } ” اور اسی کی طرف (ہم سب) کو پلٹنا ہے۔ “ { المصیر } اسم ظرف مکاں ومصدر اس کی اصل ص ری رہے اور صیرٌ لوٹنے کی جگہ۔ ٹھکانا۔ قرار گاہ۔ صیرٌ ۔ صیرورۃٌ مصیر مصدر صار ماضی باب ضرب۔ ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف لوٹنا ، حاضر ہونا ، مائل ہونا ، کاٹنا { المصیر } کا استعمال بطور صرف مکاں ہی کیا گیا ہے جس کے معنی ٹھکانا اور جگہ کے ہیں۔ اس میں مخالفین کو دوبارہ زندہ ہونے کا تصور بھی دیا گیا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس معاملہ میں لڑنا اور جھگڑنا مفید نہیں تم اپنا کام کرتے جاؤ اگر سمجھتے ہو کہ ہمارا پیغام درست نہیں اور ہم کو اپنا کام کرنے دو لیکن قریش مکہ اور دوسرے گروہوں نے اس بات کو تسلیم نہ کیا اور مسلسل الجھاؤ جاری رکھا اور اس کا نتیجہ جو اس دنیا میں نکلا وہ سب نے دیکھا اور سنا اور آخرت میں جو نکلے گا وہ بھی سب دیکھ لیں گے۔ زیر نظر آیت کو اگر سورة البقرہ کی آیت 255 کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے اور اس میں جو دس احکامات بیان کیے گئے ہیں ان کو بھی نگاہ میں رکھا جائے تو پورے دین اسلام کی وضاحت ان دونوں آیتوں میں کردی گئی ہے۔ صاحب بصیرت حضرات کے لیے ان دونوں کا ملا کر پڑھنا اور غور کرنا ان شاء اللہ العزیز بہت مفید ہوگا تفصیل کے لیے عزوۃ الوثقی جلد اول سورة البقرہ کی مذکورہ آیت کی تفسیر دیکھیں۔