Tafseer-e-Baghwi - Ash-Shura : 15
فَلِذٰلِكَ فَادْعُ١ۚ وَ اسْتَقِمْ كَمَاۤ اُمِرْتَ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ١ۚ وَ قُلْ اٰمَنْتُ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنْ كِتٰبٍ١ۚ وَ اُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَیْنَكُمْ١ؕ اَللّٰهُ رَبُّنَا وَ رَبُّكُمْ١ؕ لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١ؕ لَا حُجَّةَ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ١ؕ اَللّٰهُ یَجْمَعُ بَیْنَنَا١ۚ وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُؕ
فَلِذٰلِكَ : پس اس لیے فَادْعُ : پس بلاؤ۔ دعوت دو وَاسْتَقِمْ : اور قائم رہو كَمَآ اُمِرْتَ : جیسا کہ آپ کو حکم دیا گیا وَلَا تَتَّبِعْ : اور نہ تم پیروی کرو اَهْوَآءَهُمْ : ان کی خواہشات کی وَقُلْ : اور کہہ دیجئے اٰمَنْتُ : میں ایمان لایا بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ : ساتھ اس کے جو نازل کیا اللہ نے مِنْ كِتٰبٍ : کتاب میں سے وَاُمِرْتُ : اور مجھے حکم دیا گیا ہے لِاَعْدِلَ بَيْنَكُمْ : کہ میں عدل کروں تمہارے درمیان اَللّٰهُ : اللہ تعالیٰ رَبُّنَا وَرَبُّكُمْ : ہمارا رب ہے اور تمہارا رب لَنَآ اَعْمَالُنَا : ہمارے لیے ہمارے اعمال وَلَكُمْ اَعْمَالُكُمْ : اور تمہارے لیے تمہارے اعمال ۭلَا حُجَّةَ : نہیں کوئی جھگڑا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ : ہمارے درمیان اور تمہارے درمیان اَللّٰهُ : اللہ تعالیٰ يَجْمَعُ بَيْنَنَا : جمع کردے گا ہمارے درمیان وَاِلَيْهِ الْمَصِيْرُ : اور اسی کی طرف لوٹنا ہے
اور یہ لوگ جو الگ الگ ہوئے ہیں تو علم (حق) آچکنے کے بعد آپس کی ضد سے (ہوئے ہیں) اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک وقت مقرر تک کے لئے بات نہ ٹھہر چکی ہوتی تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا اور جو لوگ ان کے بعد (خدا کی) کتاب کے وارث ہوئے وہ (اس کی طرف سے) شبہ کی الجھن میں (پھنسے ہوئے) ہیں
14، وما تفرقوا، یعنی مختلف ادیان کے لوگوں نے۔ اور ابن عباس ؓ فرماتے یعنی اہل کتاب جیسا کہ ، سورة المنفکین، میں ذکرکیاگیا ہے۔ ، وما تفرق الذین اوتوا الکتاب، الایہ ۔ ، الامن بعد ماجاء ھم العلم ، اس بات کا کہ فرقت گمراہی ہے لیکن پھر بھی انہوں نے یہ کام کیا۔ ، بغیا بینھم ، م سرکشی کی وجہ سے۔ عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ یعنی محمد ﷺ پر سرکشی کرتے ہوئے۔ ، ولولاکلمۃ سبت من ربک، ان سے عذاب کو مؤ خر کرنے میں۔ ، الی اجل مسمی، اور وہ قیامت کا دن ہے۔ ، لقضی بینھم، ایمان لانے والوں اور کافروں کے درمیان یعنی دنیا میں مکذبین پر عذاب اتاردیاجاتا ۔ ، وان الذین اور ثوا الکتاب، یعنی یہودونصاری۔ ، من بعد ھم، ان کے انبیاء (علیہم السلام) کے بعد اور کہا گیا ہے کہ گزشتہ امتوں کے بعد اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ اس کا معنی یہ ہے کہ مشرکین مکہ سے پہلے ۔ ، لفی شک منہ مریب، یعنی محمد ﷺ کے بارے میں ۔
Top