Tadabbur-e-Quran - Al-Anbiyaa : 95
وَ حَرٰمٌ عَلٰى قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَاۤ اَنَّهُمْ لَا یَرْجِعُوْنَ
وَحَرٰمٌ : اور حرام عَلٰي قَرْيَةٍ : بستی پر اَهْلَكْنٰهَآ : جسے ہم نے ہلاک کردیا اَنَّهُمْ : کہ وہ لَا يَرْجِعُوْنَ : لوٹ کر نہیں آئیں گے
اور جس بستی والوں کے لئے ہم نے ہلاکت مقدر کر رکھی ہے ان کے لئے حرام ہے کہ وہ رجوع کریں
آگے کا مضمون ……… آیات 112-95 آگے خاتمہ سورة کی آیات ہیں۔ انذار کے اسی مضمون کی، جس سے ورہ کا آغاز فرمایا تھا، ایک نئے اسلوب سے آخر میں پھر یاد دہانی فرما دی ہے اور اس خاتمہ کی تمہید بھی بعینہ اسی لفظ سے شروع کی ہے جس لفظ سے سورة کا آغاز ہوا ہے۔ شروع میں فرمایا تھا۔ اقترب للناس حسابھم یہاں جب اسی مضمون کو از سر نو لیا تو فرمایا و اقترب الوعد الحق اس طرح قرآن اپنے نظم کی طرف خود رہنمائی کردیتا ہے۔ اکثر سورتوں میں یہ اسلوب موجود ہے۔ استاذ امام اس اسلوب کو عود علی البدئا سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ سورة کے مطالب کے پھیلائو میں اگر اصل مدعا نگاہوں سے اوجھل ہوجاتا ہے تو وہ از سر نو مخاطب کے ذہن میں تازہ ہوجاتا ہے۔ اس روشنی میں آگے کی آیات کی تلاوت فرمایئے۔ حذف کا ایک اسلوب اور فعل فیصلہ فعل کے مفہوم میں اس آیت میں عربی کے معروف اسلوب کے مطابق ایک جزو حذف ہے جس کی وضاحت انھم لایرجعون کے جملہ نے کردی ہے۔ پوری بات کو کھول دیجیے تو یوں ہوگی وحرم علی قریۃ اھلکنھا ان یرجعوا انھم لایرجعون اس قسم کے حذف کی متعدد مثالیں اس کتاب میں پیچھے گزر چکی ہیں اور اس میں فعل اھلکنا فیصلہ فعل کے مفہوم میں ہے۔ بسا اوقات جب کسی امر کی قطعیت کو ظاہر کرنا مقصود ہوتا ہے تو اس کو اس طرح بیان کرتے ہیں گویا وہ واقع ہوچکا۔ رجوع کے منی یہاں باطل سے حق کی طرف رجوع کرنے کے ہیں۔ اشرار قریش سے اعراض کی ہدایت اس آیت میں نبی ﷺ کو اشرار قریش کے زیادہ در پے ہونے سے روکا گیا ہے کہ اب یہ لوگ سنت الٰہی کی زد میں آ چکے ہیں۔ جس طرح پچھلی قومیں جو ہلاک ہوئیں، لاکھ جتن کرنے کے باوجود ایمان نہیں لائیں، اسی طرح اب ان لوگوں کے لئے ایمان میں داخل ہونا حرام ہوچکا ہے اور ان کی ہٹ دھرمی کی پاداش میں ان کے لئے عذاب الٰہی مقدر ہوچکا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اب ان لوگوں کا زیادہ غم نہ کھائو، ان کا معاملہ اللہ کے حوالہ کرو۔ یہی مضمون اسی سورة کی آیت 6 میں یوں بیان ہوا ہے۔ ما امنت من قبلھم من قریۃ اھلکنھا افھم یومنون
Top