Bayan-ul-Quran - An-Nisaa : 65
قُلْ هَلْ تَرَبَّصُوْنَ بِنَاۤ اِلَّاۤ اِحْدَى الْحُسْنَیَیْنِ١ؕ وَ نَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمْ اَنْ یُّصِیْبَكُمُ اللّٰهُ بِعَذَابٍ مِّنْ عِنْدِهٖۤ اَوْ بِاَیْدِیْنَا١ۖ٘ فَتَرَبَّصُوْۤا اِنَّا مَعَكُمْ مُّتَرَبِّصُوْنَ
قُلْ هَلْ : آپ کہ دیں کیا تَرَبَّصُوْنَ : تم انتظار کرتے ہو بِنَآ : ہم پر اِلَّآ : مگر اِحْدَى : ایک کا الْحُسْنَيَيْنِ : دو خوبیوں وَنَحْنُ : اور ہم نَتَرَبَّصُ : انتظار کرتے ہیں بِكُمْ : تمہارے لیے اَنْ : کہ يُّصِيْبَكُمُ : تمہیں پہنچے اللّٰهُ : اللہ بِعَذَابٍ : کوئی عذاب مِّنْ : سے عِنْدِهٖٓ : اس کے پاس اَوْ : یا بِاَيْدِيْنَا : ہمارے ہاتھوں سے فَتَرَبَّصُوْٓا : سو تم انتظار کرو اِنَّا : ہم مَعَكُمْ : تمہارے ساتھ مُّتَرَبِّصُوْنَ : انتظار کرنیوالے (منتظر)
اب اگر یہ لوگ تم سے جھگڑا کریں، تو ان سے کہو : ”میں نے اور میرے پیرووں نے تو اللہ کے آگے سرتسلیم خم کر دیا ہے۔“ پھر اہل کتاب اور غیر اہلِ کتاب دونوں سے پوچھو: ”کیا تم نے بھی اس کی اطاعت و بندگی قبول کی؟“18 اگر کی تو وہ راہ ِ راست پاگئے ، اور اگر اس سے منہ موڑا تو تم پر صرف پیغام پہنچا دینے کی ذمہ داری تھی۔ آگے اللہ خود اپنے بندوں کے معاملات دیکھنے والا ہے
سورة اٰلِ عِمْرٰن 18 دوسرے الفاظ میں اس بات کو یوں سمجھیے کہ ”میں اور میرے پیرو تو اس ٹھیٹھ اسلام کے قائل ہوچکے ہیں جو خدا کا اصل دین ہے۔ اب تم بتاؤ کہ کیا تم اپنے اور اپنے اسلاف کے بڑھائے ہوئے حاشیوں کو چھوڑ کر اس اصلی و حقیقی دین کی طرف آتے ہو“۔
Top