Urwatul-Wusqaa - Al-Muminoon : 58
وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ یُؤْمِنُوْنَۙ
وَالَّذِيْنَ : اور جو لوگ هُمْ : وہ بِاٰيٰتِ : آیتوں پر رَبِّهِمْ : اپنا رب يُؤْمِنُوْنَ : ایمان رکھتے ہیں
اور جو لوگ اپنے پروردگار کی نشانیوں پر یقین رکھتے ہیں
وہ اپنے رب کی آیتوں پر ایمان لانے والے ہوگئے : 58۔ اس سورت کی ابتدائی دس آیتوں میں ایمان والوں کی نشانیاں گنوائی گئی تھیں جن کی تعداد چھ تک پہنچی تھی اور ان ہی لوگوں کی ساتویں نشانی آیت 57 میں یہ بیان فرمائی گئی کہ وہ اپنے رب کریم سے ہر وقت لرزاں وترساں رہتے ہیں اور آٹھویں نشانی کے طور پر ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ وہ اپنے رب کی آیتوں پر ایمان لانے والے ہیں ۔ گویا یہ کہا جارہا ہے کہ چوری کھانے والے مجنوؤں کے مقابلہ میں دراصل یہی سچے عاشقان دین الہی ہیں جو خون دینے کے لئے ہر وقت تیار رہتے ہیں اور انہوں نے کبھی چوری کھانے والوں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا چہ جائیکہ ان کے دروازوں اور کو ٹھیوں کا طواف کریں اور دریوزہ گروں کی طرح چکر کاٹتے رہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کو ایمان کی دولت میسر ہے اور متکبرین کی طرح اللہ رب العزت کی آیات کا مذاق نہیں اڑاتے بلکہ جب اللہ تعالیٰ کا رسول ان کو آیات الہی سناتا ہے تو وہ اس پر آمنا وصدقنا کہتے ہوئے تصدیق کردیتے ہیں اور ان کا کام آیات الہی پر غور وفکر کرنا ہے ان کے ذہن و دماغ میں دنیا کی دولت ہیچ ہے اور بلاشبہ آخرت کی دولت سے یہ مالا مال ہیں ۔
Top