Urwatul-Wusqaa - Al-Muminoon : 78
وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ
وَهُوَ : اور وہ الَّذِيْٓ : وہی جس نے اَنْشَاَ لَكُمُ : بنائے تمہارے لیے السَّمْعَ : کان وَالْاَبْصَارَ : اور آنکھیں وَالْاَفْئِدَةَ : اور دل (جمع) قَلِيْلًا : بہت ہی کم مَّا تَشْكُرُوْنَ : جو تم شکر کرتے ہو
اور وہی ہے جس نے تمہارے لیے کان ، آنکھ دل پیدا کردیئے مگر بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ تم شکر بجا لاؤ
اللہ تعالیٰ نے تو ان کی سماعت ‘ بصارت اور دل دیئے لیکن وہ شکر گزار نہ تھے : 78۔ کوئی پوچھے کہ بھلا یہ سماعت ‘ بصارت اور دل جانورو کو نہیں دیئے گئے ؟ پھر انسان اور حیوان میں فرق کیا ہے ؟ یہی کہ انسان کا کام سوچنا ‘ سمجھنا اور عقل سے کام لینا ہے صرف جانوروں کی طرح جسم وجان کے مطالبات پورے کرنا نہیں ۔ غور کرو کہ یہ لوگ کر کیا رہے ہیں ؟ یہی کہ ہمارا معیار زندگی بلند ہو تو کیسے ؟ اچھی رہائش ملے ‘ اچھا لباس ہو ‘ اچھی خوراک ہو ‘ مال بڑھے تو کیسے اور اقتدار ملے تو کیونکر ؟ کیا ان کے ہاں ! آخرت کی بھی کوئی فکر ہے ؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو سوائے اس کے کہ ان کے ڈھانچے انسانوں کے سے ہیں اس کے علاوہ بھی کچھ ہے پھر ایک اچھے بیل ‘ اچھے گھوڑے اور اچھی بھینس اور انسان میں فرق کیا رہا ؟ یہی جو ڈھانچوں مین فرق نظر آرہا ہے ۔ حالانکہ انسان کی سماعت ‘ بصارت اور دل اور حیوان کے ان اعضاؤں میں زمین و آسمان کا فرق ہے اگر کوئی سماعت ‘ بصارت اور دل سے وہ کام لے جس کام کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ عطا کئے ، فرمایا حقیقت یہ ہے کہ بہت تھوڑے ہیں جو اس بات کا خیال رکھتے ہیں ناشکروں اور ناسمجھوں کی تعداد ہمیشہ زیادہ رہی اور ہمیشہ زیادہ رہے گی ، کاش کہ اس ملک کے سیاسی راہنما بھی اس حقیقت کو سمجھ لیں اور حیوانوں کی صف سے نکل کر انسانوں کی صف میں بھی یہ شمار ہوں اور ناشکروں سے نکل کر شکر گزار بننے کی بھی کوشش کریں اگرچہ وہ قلیل ہی ہوں ۔
Top