Tafseer-e-Saadi - Al-Kahf : 77
قَالَ لَا تُؤَاخِذْنِیْ بِمَا نَسِیْتُ وَ لَا تُرْهِقْنِیْ مِنْ اَمْرِیْ عُسْرًا
قَالَ : اس نے کہا لَا تُؤَاخِذْنِيْ : آپ میرا مواخذہ نہ کریں بِمَا : اس پر جو نَسِيْتُ : میں بھول گیا وَلَا تُرْهِقْنِيْ : اور مجھ پر نہ ڈالیں مِنْ : سے اَمْرِيْ : میرا معاملہ عُسْرًا : مشکل
خیر پھر دونوں چلے چلتے چلتے جب ایک گائوں والوں کے پاس پہنچے تو ان سے کھانا مانگا (دونوں بھوکے تھے) انہوں نے ان کی مہمانی کرنے سے انکار کیا (کھانا تک نہ کھلایا) ھ پر دونوں اس گائوں میں دیوار دیکھی جو گرا ہی چاہی تھی (جھک گئی تھی) خضر نے اس کو سیدھا کردیا۔ موسیٰ سے نہ رہا گیا، کہہ اٹھا اگر تو چاہتا تو اس دیوار اٹھانے کی (ان گائوں والوں سے خاصی مزدوری لے سکتا تھا۔
2 یعنی انہوں نے تو ہمیں کھانا تک نہ دیا مگر آپ ہیں کہ ان کی دیوار سیدھی کردی اور کوئی اجرت طلب نہ کی اگر اجرت لیتے تو ہم کچھ کھا پی ہی لیتے اس بستی کا نام بعض نے ایلہ اور بعض نے انطاکیہ لکھا ہے۔ (کبیر)
Top