Urwatul-Wusqaa - Al-Muminoon : 82
قَالُوْۤا ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ
قَالُوْٓا : وہ بولے ءَاِذَا : کیا جب مِتْنَا : ہم مرگئے وَكُنَّا تُرَابًا : اور ہم ہوگئے مٹی وَّعِظَامًا : اور ہڈیاں ءَ اِنَّا : کیا ہم لَمَبْعُوْثُوْنَ : پھر اٹھائے جائیں گے
اُنہوں نے کہا جب ہم مر گئے اور مٹی اور ہڈیوں کا چورا ہوگئے تو پھر کیا ہم اٹھائے جائیں گے ؟
انہوں نے کہا کہ جب ہم مر کر ہڈیاں اور مٹی ہوجائیں گے دوبارہ کیسے پیدا ہوں گے ؟ 82۔ منکرین قیامت نے آج تک اس کے انکار میں زیادہ سے زیادہ جو کچھ کہا ہے وہ یہی ہے کہ ” کون ان ہڈیوں کو زندہ کرے گا جب کہ یہ بوسیدہ ہوجائیں گی ؟ “ اور قرآن کریم نے ان کو ہمیشہ یہی جواب دیا ہے کہ ان ہڈیوں کو وہی زندہ کرے گا جس نے پہلے انہیں پیدا کیا تھا وہ تخلیق کا ہر کام جانتا ہے اور وہی ہے جس نے تمہارے لئے ہرے بھرے درخت سے آگ پیدا کردی جس سے تم اپنے چولہے روشن کرتے ہو ‘ وہ وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا کیا وہ اس پر قادر نہیں کہ تم کو دوبارہ پیدا کرسکے ؟ جبکہ وہ ماہر خلاق ہے ۔ “ (یس 36 : 79 تا 81) ” کیا انسان دیکھتا نہیں کہ ہم نے اسے نطفہ سے پیدا کیا اور پھر وہ صریح جھگڑالو بن کر کھڑا ہوگیا ‘ اب وہ ہم پر مثالیں چسپاں کرتا ہے اور اپنی پیدائش کو بھول جاتا ہے ۔ “ (یس 36 : 77) وہ اپنی تخلیق میں زیاد سے زیادہ جو کچھ تھا اس پر نطفہ کا اطلاق ہوتا ہے اور پھر وہ نطفہ جس میں محض ایک ابتدائی جرثومہ حیات کے سوا کچھ نہ تھا اس کو ترقی دے کر ہم نے اس حد تک پہنچایا کہ وہ نہ صرف جانوروں کی طرح چلنے پھرنے اور کھانے پینے لگا بلکہ اس سے آگے بڑھ کر اس میں شعور وتعقل اور بحث و استدلال اور تقریر وخطاب کی وہ قابلیتیں پیدا کردیں جو سوائے اس کے کسی اور حیوان کو نصیب نہیں ہیں حتی کہ وہ اپنے خالق کے بھی منہ آنے لگا ۔ کیا وہ ہمیں مخلوقات کی طرح عاجز سمجھتا ہے ؟ یہ خیال کرتا ہے کہ جس طرح انسان کسی مردے کو زندہ نہیں کرسکتا اسی طرح ہم بھی نہیں کرسکتے ؟ اور وہ یہ بات بھول جاتا ہے کہ ہم نے کس طرح وہ ابتدائی جرثومہ حیات پیدا کیا جو اس کا ذریعہ تخلیق بنا اور پھر جرثومے کو پرورش کرکے یہاں تک بڑھا لائے کہ آج وہ ہمارے سامنے باتیں چھانٹنے کے قابل ہوا ۔ اس کی مکمل وضاحت پیچھے بہت سے مقامات پر گزر چکی ہے زیادہ تفصیل چاہتے ہوں تو سورة الانعام کی آیت 29 ‘ سورة ہود کی آیت 7 ‘ سورة الاسراء کی آیت 49 ‘ 98 ‘ سورة الحج کی آیت 5 کا تفسیر عروۃ الوثقی سے مطالعہ کریں ، انشاء اللہ کافی تفصیل موجود پائیں گے ۔
Top