Baseerat-e-Quran - Al-Ahzaab : 10
وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَمْرًا اَنْ یَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْ١ؕ وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِیْنًاؕ
وَمَا كَانَ : اور نہیں ہے لِمُؤْمِنٍ : کسی مومن مرد کے لیے وَّلَا مُؤْمِنَةٍ : اور نہ کسی مومن عورت کے لیے اِذَا : جب قَضَى : فیصلہ کردیں اللّٰهُ : اللہ وَرَسُوْلُهٗٓ : اور اس کا رسول اَمْرًا : کسی کام کا اَنْ يَّكُوْنَ : کہ (باقی) ہو لَهُمُ : ان کے لیے الْخِيَرَةُ : کوئی اختیار مِنْ اَمْرِهِمْ ۭ : ان کے کام میں وَمَنْ : اور جو يَّعْصِ : نافرمانی کرے گا اللّٰهَ : اللہ وَرَسُوْلَهٗ : اور اس کا رسول فَقَدْ ضَلَّ : تو البتہ وہ گمراہی میں جا پڑا ضَلٰلًا : گمراہی مُّبِيْنًا : صریح
(اے نبی ﷺ اور جب آپ اس سے جس پر اللہ نے آپ نے احسان کیا تھا یہ کہا کہ تو اپنی بیوی (زینب ؓ کو اپنے پاس روک کر رکھ (طلاق نہ دے) اور خوف الٰہی اختیار کر۔ اور آپ نے اپنے دل میں اس بات کو چھپایا ہوا تھا جس کو اللہ ظاہر کرنا چاہتا تھا اور آپ لوگوں کے طعنوں سے ڈر رہے تھے۔ حالانکہ اللہ اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ اسی سے ڈرا جائے ۔ پھر جب زید نے ( زینب ؓ سے) اپنی حاجت پوری کرلی (طلاق دے دی ) تو ہم نے اسے آپ کے نکاح میں دے دیا تاکہ مومنوں پر منہ بولے بیٹوں کی بیویوں سے نکاح کرنے میں کوئی تنگی نہ رہے جب کہ وہ ان سے اپنی حاجت پوریہ کرلیں (طلاق دے دیں ) اور یاد رکھو اللہ کا حکم پورا ہو کر رہنے والا ہے ۔
Top