Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (1 - 140)
Select Hadith
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66
67
68
69
70
71
72
73
74
75
76
77
78
79
80
81
82
83
84
85
86
87
88
89
90
91
92
93
94
95
96
97
98
99
100
101
102
103
104
105
106
107
108
109
110
111
112
113
114
115
116
117
118
119
120
121
122
123
124
125
126
127
128
129
130
131
132
133
134
135
136
137
138
139
140
معارف الحدیث - کتاب الایمان - حدیث نمبر 299
عَنْ عَبْدِاللهِ بْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَنْ يَحْرُمُ عَلَى النَّارِ وَمَنْ تَحْرُمُ النَّارُ عَلَيْهِ؟ كُلُّ هَيِّنٍ لَيْنٍ قَرِيبٍ سَهْلٍ " (رواه ابوداؤد والترمذى)
نرم مزاجی اور درشت خوئی
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: کیا میں تم کو ایسے شخص کی خبر نہ دوں جو دوزخ کی آگ کے لئے حرام ہے، اور دوزخ کی آگ اس پر حرام ہے؟ (سنو میں بتاتا ہوں، دوزخ کی آگ حرام ہے) ہر ایسے شخص پر جو مزاج کا تیز نہ ہو، نرم ہو، لوگوں سے قریب ہونے والا ہو، نرم خو ہو۔
تشریح
اس حدیث میں یہ هَيِّنٍ لَيْنٍ قَرِيبٍ سَهْلٍ چاروں لفظ قریب المعنیٰ ہیں، اور نرم مزاجی کے مختلف پہلوؤں کی یہ ترجمانی کرتے ہیں۔ مطلب حدیث کا یہ ہے کہ جو آدمی اپنے مزاج اور رویہ میں نرم ہو، اور نرم خوئی کی وجہ سے لوگوں سے خوب ملتا جلتا ہو، دور دور اور الگ الگ نہ رہتا ہو، اور لوگ بھی اس کی اس اچھی اور شیریں خصلت کی وجہ سے اُس سے بے تکلف اور محبت سے ملتے ہوں، جس سے بات اور معاملہ کرتا ہو، نرمی اور مہربانی سے کرتا ہو، ایسا شخص جنتی ہے، اور دوزخ کی آگ اس پر حرام ہے۔ شرح حدیث کے اسی سلسلہ میں بار بار ذکر کیا جا چکا ہے کہ قرآن مجید کے نصوص اور رسول اللہ ﷺ کی مسلسل تعلیم و تربیت سے صحابہ کرامؓ کے ذہن میں چونکہ یہ بات پوری طرح راسخ ہو چکی تھی (اور دین کی صرف ضروری درجہ کی بھی واقفیت رکھنے والا ہر شخص آج بھی اتنی بات جانتا ہے) کہ اس قسم کی بشارتوں کا تعلق صرف ان ہی لوگوں سے ہے جو ایمان رکھتے ہوں، اور دین کے لازمی مطالبات ادا کرتے ہوں، اس لئے اس قسم کی بشارتوں کے ساتھ عموماً اس شرط کو الفاظ میں ذکر نہیں کیا جاتا۔ (اور بشارت کے موضوع کے لیے یہی مناسب ہے) لیکن ذہنوں میں یہ شرط ملحوظ اورمحفوظ رہنی چاہئے، یہ ایک مسلمہ ایمانی حقیقت ہے کہ ایمان کے بغیر اللہ کے یہاں اعمال اور اخلاق کی کوئی قیمت نہیں۔
Top