Aasan Quran - An-Nisaa : 141
مُّذَبْذَبِیْنَ بَیْنَ ذٰلِكَ١ۖۗ لَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ وَ لَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ سَبِیْلًا
مُّذَبْذَبِيْنَ : ادھر میں لٹکے ہوئے بَيْنَ : درمیان ذٰلِكَ : اس لَآ : نہ اِلٰى هٰٓؤُلَآءِ : ان کی طرف وَلَآ : اور نہ اِلٰى هٰٓؤُلَآءِ : ان کی طرف ۭوَمَنْ : اور جو۔ جس يُّضْلِلِ اللّٰهُ : گمراہ کرے اللہ فَلَنْ تَجِدَ : تو ہرگز نہ پائے گا لَهٗ : اس کے لیے سَبِيْلًا : کوئی راہ
(اے مسلمانو) یہ وہ لوگ ہیں جو تمہارے (انجام کے) انتظار میں بیٹھے رہتے ہیں۔ چنانچہ اگر تمہیں اللہ کی طرف سے فتح ملے تو (تم سے) کہتے ہیں کہ : کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے ؟ اور اگر کافروں کو (فتح) نصیب ہو تو (ان سے) کہتے ہیں کہ : کیا ہم نے تم پر قابو نہیں پالیا تھا ؟ اور کیا (اس کے باوجود) ہم نے تمہیں مسلمانوں سے نہیں بچایا ؟ (83) بس اب تو تو اللہ ہی قیامت کے دن تمہارے اور ان کے درمیان فیصلہ کرے گا، اور اللہ کافروں کے لیے مسلمانوں پر غالب آنے کا ہرگز کوئی راستہ نہیں رکھے گا۔
83: یعنی ان لوگوں کو اصل غرض دنیوی مفادات سے ہے۔ اگر مسلمانوں کو فتح ہو اور مال غنیمت ہاتھ آئے تو یہ ان کے ساتھی ہونے کا دعویٰ کر کے ان سے مال بٹورنے کی فکر میں رہتے ہیں، اور اگر کبھی کافروں کا دؤ چل جائے تو ان پر یہ احسان جتلاتے ہیں کہ اگر ہماری مدد تمہارے ساتھ نہ ہوتی تو مسلمان تم پر غالب آجاتے۔ لہذا ہمیں ہماری ان خدمات کا مالی صلہ دو۔
Top