Ahkam-ul-Quran - Saad : 25
فَغَفَرْنَا لَهٗ ذٰلِكَ١ؕ وَ اِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَ حُسْنَ مَاٰبٍ
فَغَفَرْنَا : پس ہم نے بخش دیا لَهٗ : اس کی ذٰلِكَ ۭ : یہ وَاِنَّ : اور بیشک لَهٗ : اس کے لیے عِنْدَنَا : ہمارے پاس لَزُلْفٰى : البتہ قرب وَحُسْنَ : اور اچھا مَاٰبٍ : ٹھکانا
تو ہم نے ان کو بخش دیا اور بیشک ان کے لئے ہمارے ہاں قرب اور عمدہ مقام ہے
آیت میں فرشتوں کی بات ہوئی ہے جب کہ سب کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ مقام انسانوں کے لئے سجدے کا ہے۔ اسی طرح قول باری ہے (ان الذین اوتوالعلم من قبلہ اذا یتلی علیھم یحرون للاذقان سجدا۔ جن لوگوں کو اس سے قبل علم دیا جاچکا ہے جب یہ ان کے سامنے پڑھا جاتا ہے تو وہ ٹھوڑیوں کے بل سجدہ میں گرپڑتے ہیں) اسی طرح کی دوسری آیات سجود جن میں کسی قوم کے سجدے کی حکایت ہے اور اس بنا پر یہ آیات آیات سجود قرار پائیں۔ قول باری ہے (واذا قری علیھم القران لا یسجدون اور جب ان پر قرآن کی تلاوت کی جاتی ہے تو یہ سجدہ ریز نہیں ہوتے) قرآن کے سماع پر سجدہ میں چلے جانے کے لزوم کا مقتضی ہے۔ اگر ہم صرف اس آیت کو لے لیں تو سارے قرآن میں سجدہ کرنا واجب قرار دیں۔ اس لئے جس مقام سجدہ کے بارے میں اختلاف رائے ہو تو ظاہراً وہ وجوب کا مقتضی ہوگا۔ الایہ کہ عدم وجوب پر کوئی دلالت قائم ہوجائے۔ ہمارے اصحاب نے سجدہ تلاوت کے لئے سجد میں جانے کے بجائے صرف رکوع پر اکتفا کرلینے کو جائز قرار دیا ہے۔ محمد بن الحسن نے ذکر کیا ہے کہ انہوں نے قول باری (خراراکعا) کی تفسیر میں روایت کی ہے کہ اس کے معنی خرسا جدا (سجدے میں گرپڑے) کے ہیں۔ یہاں لفظ رکوع سے سجدے کی تعبیر کی گئی ہے اس لئے رکوع کا سجدے کے قائم مقام ہوجانا جائز ہے کیونکہ رکوع سجدے سے عبارت ہے۔
Top