Ahsan-ut-Tafaseer - Al-Faatiha : 2
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ
الْحَمْدُ : تمام تعریفیں     لِلّٰہِ : اللہ کے لیے     رَبِّ : رب     الْعَالَمِينَ : تمام جہان
سب طرح کی تعریف خدا ہی کو سزاوار ہے جو تمام مخلوقات کا پروردگار ہے
(1 ۔ 7) ۔ الحمد للہ حمد کے معنی زبان سے تعریف کرنے کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ الفاظ نازل فرما کر اپنے بندوں کو سکھایا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی تعریف اس طرح کیا کریں رب العالمین رب اللہ کے ناموں میں سے ایک ہے جس کے معنی مربی کے ہیں یہ لفظ سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی مخلوق کی شان میں بغیر نسبت واضافت کے نہیں استعمال کیا جاسکتا۔ یا مخلوق کی شان میں اضافت کے ساتھ استعمال ہوسکتا ہے۔ مثلاً رب الدار کہہ سکتے ہیں جس کے معنی گھر کے مالک کے ہوں گے العالمین عالم کی جمع ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا سب مخلوقات کو عالم کہتے ہیں۔ آسمان و زمین کی آبادی جنگل و دریا میں اللہ تعالیٰ کی طرح طرح کی مخلوقات ہے جن سب کا مربی اور معبود اللہ تعالیٰ ہے۔ اس لئے لفظ عالم کو جو خود جمع ہے پھر جمع کر کے فرمایا الرحمن الرحیم صاحب رحمت کے معنوں میں یہ دونوں اللہ تعالیٰ کے نام ہیں { مَا لِکِ یَوْمِ الدِّیْنَ } کسی چیز کا مالک وہ کہلاتا ہے جس کو اس چیز میں ہر طرح کے تصرف کا اختیار ہو۔ قیامت کے دن ہر طرح کی جزا و سزا کا اختیار خاص اللہ تعالیٰ کی ذات کو ہے۔ اس واسطے اپنے آپ کو اس دن کا مالک فرمایا ایاک نعبد شروع سورة سے یہاں تک حمد و ثنا کا ذکر تھا اور حمد و ثنا ممدوح کی غائبانہ حالت میں اعلیٰ درجہ کی حمد و ثنا کہلاتی ہے۔ اس لئے یہاں تک غائب کے صیغے تھے۔ اس آیت سے دعا کی حالت شروع ہوئی اور دعا میں حاضری مناسب ہے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے طرز کلام کو بدل دیا { اِیَّاکَ نَعْبُدُ } کے معنے اس طرز کلام کے موافق یہ ہوئے کہ یا اللہ سوا تیری ذات کے اور کسی کی عبادت ہم نہیں کرتے کیونکہ تو نے ہی ہم کو پیدا کیا اور تیری ہی ہدایت سے ہم کو عبادت کی توفیق ہوئی { وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنَ } اور یا اللہ ہماری قابل قبول عبادت میں شیطان کا وسوسہ اور خواہش نفسانی ہر طرح سے ہارج ہے۔ اس لئے ہم تیری ذات پاک سے قابل قبول عبادت کے ادا ہونے کی مدد چاہتے ہیں۔ کیونکہ جس عبادت میں وسوسہ شیطانی کا دخل ہوگا اس میں نمائش اور ریا کاری کا اور جس عبادت میں خواہش نفسانی ہوگی اس میں بدعت کا اندیشہ ہے اور عبادت کا یہ اندیشہ اور نقصان بغیر تیری مدد کے رفع نہیں ہوسکتا اھدنا الصراط المستقیم مسند امام احمد اور مستدرک حاکم میں حضرت عبد اللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ سے بسند معتبر روایت ہے جس میں خود صاحب وحی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لفظ صراط مستقیم کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ صراط مستقیم سے مراد اسلام ہے۔ ١ اس لئے اب کسی دوسری تفسیر کی ضرورت نہیں۔ اس تفسیر کی بنا پر آخر سورة تک کی دعا کا حاصل یہ ہے کہ یا اللہ جس طرح تو نے اپنے فضل سے ہم کو اسلام کے راستہ پر لگایا ہے اسی طرح تا قیامت ہم کو اسی راستہ پر قائم اور ثابت قدم رکھ کیونکہ یہ راستہ انبیاء اور ایسے کامل دینداروں کا ہے جن پر تو نے اپنی طرح طرح کی دین اور دنیا کی نعمتیں ختم کی ہیں اور پچھلی امتوں کے جو لوگ راہ راست سے بہک گئے ہیں اور ان کی اسی گمراہی کے سبب سے تو ان سے ناراض اور ان پر تیرہ غصہ ہے ان کی چال اور روش سے ہم کو بچا۔ حضرت عبد اللہ بن عباسرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ { اَلَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ } حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ کی امت میں کے وہ لوگ ہیں جو اپنے دین پر قائم رہے۔ مسلم وغیرہ کی صحیح حدیثوں کے موافق سورة فاتحہ کے ختم کے بعد آمین کہنا سنت ہے امام مالک شافعی اور احمد کے نزدیک سورة فاتحہ کا پڑھنا نماز کا ایک رکن ہے۔ بغیر اس کے ان کے نزدیک نماز نہیں ہوتی۔ امام ابوحنیفہ (رح) اس کے مخالف ہیں۔ دلیلیں جانبین کے مذہب کی فقہ کی کتابوں میں ہیں۔ اس سورت کی اول کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ کی تعریف اور آخر کی آیتوں میں بندوں کی طرف سے بار گاہ الٰہی میں دعا ہے اسی واسطے حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ مجھ میں اور میری بندوں اس سورت کی نصفا نصفی کی تقسیم ہے یہ حدیث قدسی صحیح مسلم میں ابوہریرہ (رض) کی روایت سے ہے
Top