Tibyan-ul-Quran - Al-Faatiha : 3
الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۙ
الرَّحْمٰنِ : جو بہت مہربان الرَّحِيم : رحم کرنے والا
نہایت رحم فرمانے والا بہت مہربان ہے۔
تمام تعریفوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے استحقاق پر دلیل : ” الحمد للہ “ میں الف لام یا استغراق کے لیے ہے یا جنس کے لیے ہے ‘ اگر یہ لام استغراق ہو تو اس کا معنی یہ ہے کہ ہر حامد کی ہر زمانہ میں ہر حمد اللہ کا حق ہے اور اس کے ساتھ خاص ہے ‘ اور اگر لام جنس کا ہو تو معنی یہ ہے کہ حمد کی ماہیت اور حقیقت اللہ کا حق اور اس کی ملک ہے ‘ اور یہ اس کی منافی ہے کہ حمد کا کوئی فرد اللہ کے غیر کے لیے ثابت ہو ‘ تو ہر دو طریقوں سے یہ معلوم ہوا کہ حمد صرف اللہ کا حق ہے کسی اور کا حق نہیں ہے ‘ کیونکہ تعریف کسی حسن اور کمال کی ہوتی ہے اور تمام محاسن اور کمالات کا مبدا اللہ تعالیٰ ہے تو ثابت ہوا کہ تمام تعریفات کا مستحق بھی اللہ تعالیٰ ہے۔ ” للہ “ میں لام ‘ یا اختصاص لائق کیلیے ہے یا ملک کے لیے ہے ‘ پہلی صورت میں معنی یہ ہے کہ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لائق ہیں ‘ کیونکہ ہر چیز کو اس نے پیدا کیا ہے اور ہر چیز اس کے فضل اور احسان سے معمور ہے ‘ دوسری صورت میں معنی یہ ہے کہ تمام تعریفوں کا اللہ ہی مالک ہے کیونکہ ہر چیز ہرحال میں اللہ کی مملوک ہے تو جس حال میں وہ حمد کرتے ہیں اس حال میں بھی وہ اللہ کی مملوک ہیں ‘ لہذا وہ حمد بھی اللہ کی مملوک ہے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ اگر کوئی شخص بہ ظاہر کسی پھول کی خوشبو کی تعریف کر رہا ہے ‘ یا کسی عالم کے علم کی تعریف کر رہا ہے تو وہ درحقیقت اللہ ہی کی تعریف ہے اور اسی ایک جملہ سے مخلوق پرستی کی جڑ کٹ جاتی ہے کیونکہ جو شخص سورج کی ‘ کسی نبی کی یا کسی دیوی اور دیوتا کی پرستش کرتا ہے وہ ان میں کسی خوبی اور کمال کو دیکھ کر ان کی پرستش کرتا ہے حالانکہ وہ کمال اور حسن ان کا اپنا ذاتی نہیں ہے اللہ تعالیٰ کا پیدا کیا ہوا اور اس کا عطا کردہ ہے اس لیے پرستش کا حق دار صاحب کمال نہیں ہے خالق کمال ہے۔ مخلوق کا شکر ادا کرنے پہلے خالق کا شکر ادا کیا جائے۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ کیا محسن شکریہ ادا کئے جانے کا مستحق نہیں ہے ‘ امام ابوداؤد روایت کرتے ہیں : حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : جو شخص لوگوں کو شکر ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا شکر ادا نہیں کرتا۔ (سنن ابوداؤد ج 2 ص 306‘ مطبوعہ مطبع مجتبائی ‘ پاکستان لاہور ‘ 1405 ھ) اس کا جواب یہ ہے کہ ہر محسن اور ہر منعم کا شکر ادا کرنا چاہیے اور ہم اس سے منع نہیں کرتے ‘ بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ ہر نعمت درحقیقت اللہ تعالیٰ سے ملتی ہے ‘ اس لیے کسی منعم کے انعام اور کسی محسن کے احسان پر اس کی تعریف کرنے اور اس کا شکر ادا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد کی جائے اور اس کا شکر ادا کیا جائے۔ کیونکہ ہر نعمت اور ہر احسان درحقیقت اللہ کی دی ہوئی نعمت اور اس کا احسان ہے ‘ مثلا کسی بھوکے شخص کو بھوک سے بلبلاتے دیکھ کر کوئی شخص اس کو کھانا کھلا دیتا ہے ‘ بہ ظاہر اس شخص کا احسان ہے ‘ لیکن غور کیجئے اگر اللہ تعالیٰ کھانا ہی پیدا نہ کرتا تو وہ شخص بھوکے کو کیسے کھلاتا ‘ یا کھانا تو پیدا کیا تھا لیکن اس شخص کے پاس کھانا خریدنے کے لیے پیسے نہ ہوتے تو کہاں سے کھلاتا ‘ کھانا بھی ہوتا ‘ اس کے حصول کے لیے پیسے بھی ہوتے لیکن اس کے دل میں بھوکے کو دیکھ کر رحم نہ پیدا ہوتا تو بھوکے کو کب کھلا سکتا تھا ‘ یہ سب کچھ ہوتا لیکن بھوکے آدمی میں کھانے کی صلاحیت نہ ہوتی مثلا اس کے منہ میں ناسور ہوتا ‘ یا اوپر کا جبڑا نچلے جبڑے پر بیٹھ جانے کی وجہ سے اس کا منہ بند ہوگیا ہوتا تو وہ بھوکے کو کب کھلا سکتا تھا ؟ تو نعمت بھی اس نے پیدا کی ‘ نعمت کے حصول پر منعم کو قدرت بھی اس نے دی، نعمت دینے کے لیے منعم میں رحم کا جذبہ بھی اس نے پیدا کیا اور نعمت سے فائدہ اٹھانے کی منعم علیہ میں صلاحیت بھی اس نے پیدا کی ‘ تو پھر حمد اور شکر کا کون مستحق ہوگا ؟ اس لیے اولا اسی کی حمد کی جائے اور اسی کا شکر ادا کیا جائے ‘ اب یہ اس کا کرم ہے کہ اس نے ظاہری وسائل اور اسباب کو بھی نظر انداز نہیں کیا اور اس ظاہری منعم اور محسن کا بھی شکر ادا کرنا کا حکم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی کما حقہ حمد وثنا سے مخلوق کا عاجز ہونا : اللہ تعالیٰ کی نعمتیں لامحدود ہیں ‘ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ” وان تعدوا نعمۃ اللہ لا تحصوھا “۔ (النحل : 18) اور اگر تم اللہ کی نعمتیں گنوتو انہیں گن نہ سکو گے۔ تو جب ہم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو گن نہیں سکتے تو ان کا شکر کیسے ادا کرسکتے ہیں ؟ نیز اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی توفیق اور قدرت کے بغیر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں ہوسکتا ‘ اس لیے جب انسان کسی نعمت پر شکر ادا کرے تو اس شکر ادا کرنے کی توفیق اور قدرت پر بھی شکر ادا کرے، پھر اس دوسرے شکر کی توفیق پر شکر ادا کرے اور یوں ساری عمر ختم ہونے کے باوجود اس کی کسی ایک نعمت کا شکر ادا نہیں ہوسکتا ‘” تفسیر کبیر “ میں منقول ہے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے یہی عرض کیا کہ خدایا ! میں تو تیری ایک نعمت کا بھی شکر ادا نہیں کرسکتا کجا غیر متناہی نعمتوں کا شکر ادا کیا جائے ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے داؤد ! جب تم نے یہ جان لیا کہ تم ہماری نعمتوں کا شکر ادا کرنے سے عاجز ہو تو ہمارا شکر ادا ہوگیا ‘ بس تم اپنی قدرت اور طاقت کے مطابق ہمارا شکر ادا کرتے رہو ! ایک قول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ازل میں علم تھا کہ بندے اس کی حمد کرنے سے عاجز ہیں اور اس کی استاعت نہیں رکھتے ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے خود اپنی حمد کی اور فرمایا (آیت) ” الحمد للہ رب العلمین “ رسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر اللہ کی ذات وصفات اور اس کی نعمتوں کا عارف ‘ اور اس کی حمد وثناء میں رطب اللسان رہنے والا کون ہوسکتا ہے ! اس کے باوجود آپ بار گاہ الہیہ میں عرض کرتے ہیں : ” لا احصی ثناء علیک انت کما اثنیت علی نفسک ‘ میں تیری ایسی ثنا نہیں کرسکا جیسی ثنا تو خود اپنی کرتا ہے “ (صحیح مسلم ج 1 ص 192‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ 1375 ھ) اللہ کی حمد کرنے کے احوال اور اوقات : امام ابو داؤد (رح) روایت کرتے ہیں : حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا : جس کلام کی ابتداء ” الحمد للہ “ سے نہیں کی جائے گی وہ ناتمام رہے گا۔ (سنن ابوداؤد ج 2 ص 309‘ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور 1405 ھ) امام ابن ماجہ روایت کرتے ہیں : حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس مہہتم بالشان کام کی ابتداء ” الحمد للہ “ سے نہیں کی گئی وہ ناتمام رہے گا۔ (سنن ابن ماجہ ص 135، مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب، کراچی) امام احمد (رح) روایت کرتے ہیں : حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مجھے تعجب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مومن کا کیسا نصیب رکھا ہے ! اس کو اگر بھلائی پہنچتی ہے تو اپنے رب کی حمد کرتا ہے اور اس کا شکر ادا کرتا ہے اور اگر اس کو مصیبت پہنچتی ہے تو اپنے رب کی حمد کرتا ہے اور صبر کرتا ہے۔ (مسند احمد ج 2 ص 182۔ 177۔ 173‘ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ 1398 ھ) امام ترمذی (رح) روایت کرتے ہیں : حضرت ابوموسی اشعری ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا : جب ایک بندہ کا بچہ فوت ہوتا ہے تو ہے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتا ہے : تم نے میرے بندہ کا بچہ اٹھالیا ؟ وہ کہتے ہیں : ہاں ! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : تم نے اس کے دل کا ٹکڑا اٹھالیا ‘ وہ کہتے ہیں : ہاں ! اللہ فرماتا ہے : میرے بندہ نے کیا کیا ؟ وہ کہتے ہیں تیری حمد کی اور ” انا للہ واناالیہ راجعون “ پڑھا ‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میرے بندہ کے لیے جنت میں ایک گھر بنادو اور اس کا نام بیت الحمد رکھ دو ۔ (جامع ترمذی ص 166‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی) اس حدیث کو امام احمد (رح) نے بھی روایت کیا ہے۔ (مسند احمد ج 4 ص 415‘ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ 1398 ھ) امام ترمذی (رح) روایت کرتے ہیں : حضرت ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب کھاتے یا پیتے تو دعا کرتے : تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے ہم کو کھلایا اور پلایا اور مسلمان بنایا۔ (جامع ترمذی ص 499‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی) حضرت معاذ بن انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس شخص نے کھانا کھا کر کہا : تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں ‘ جس نے مجھے یہ کھانا کھلایا اور مجھ کو بغیر کوشش اور طاقت کے یہ رزق دیا ‘ تو اس کے تمام پچھلے گناہ معاف کردیئے جائیں گے۔ (جامع ترمذی ص 499‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی) امام بخاری روایت کرتے ہیں : حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ فرماتے تھے : جب تم میں سے کوئی شخص اپنا پسندیدہ خواب دیکھے تو وہ اللہ کی طرف سے ہے اور اس پر ” الحمد للہ “ کہے۔ (صحیح بخاری ج 2 ص 1034‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ 1381 ھ) حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کسی شخص کو چھینک آئے تو وہ ” الحمد للہ “ کہے۔ (صحیح بخاری ج 2 ص 919‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ 1381 ھ) امام ترمذی روایت کرتے ہیں : حضرت حذیفہ بن یمان ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب سونے کا ارادہ کرتے تو دعا کرتے : اے اللہ ! میں تیرے نام سے مرتا ہوں اور زندہ ہوتا ہوں اور جب بیدار ہوتے تو دعا کرتے : تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے میرے نفس پر موت وارد کرنے کے بعد اس کو زندہ کیا ‘ اور اس کی طرف اٹھنا ہے۔ (جامع ترمذی ص 492‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی) امام احمد روایت کرتے ہیں : حضرت انس ؓ کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب کسی ٹیلے یا کسی بلندی پر چڑھتے تو فرماتے : اے اللہ ! ہر بلندی سے زیادہ بلندی تیری لیے ہے ‘ اور ہر حمد سے بالاحمد تیرے لیے ہے۔ (مسند احمد ج 2 ص 127‘ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ 1398 ھ) اللہ کی حمد کی فضیلت اور اجر وثواب : امام مسلم روایت کرتے ہیں : حضرت ابومالک اشعری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : پاکیزگی نصف ایمان ہے ‘ ” الحمد للہ “ میزان کو بھر دیتا ہے اور ” سبحان اللہ “ اور ” الحمد للہ “ آسمان اور زمین کے درمیان کو بھر دیتے ہیں۔ (صحیح مسلم ج 1 ص 118‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ 1375 ھ) یعنی ” الحمد للہ “ یا اس کے اجر کو اگر مجسم کیا جائے تو اس سے میزان بھر جائے گی ‘” سبحان اللہ “ سے مراد اللہ کی تنزیہہ ہے اور ” الحمد للہ “ سے مراد اس کی ثناء ہے گویا آسمان اور زمین کے درمیان ہر چیز اللہ تعالیٰ کے نقص سے بری ہونے اور اس کی تعریف اور ثناء پر دلالت کرتی ہے۔ امام احمد روایت کرتے ہیں : حضرت سمرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قرآن کے بعد چار کلام افضل ہیں اور وہ بھی قرآن سے ہیں ‘ تم ان میں جس سے بھی ابتداء کرو کوئی مضائقہ نہیں ہے ” سبحان اللہ ‘ الحمد للہ ‘ لا الہ الا اللہ “ اور ” اللہ اکبر “۔ (مسند احمدج 5 ص 20 ج 4 ص 36‘ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ 1398 ھ) امام ترمذی روایت کرتے ہیں : عمرو بن شعیب اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے سو مرتبہ صبح اور سو مرتبہ شام کو ” سبحان اللہ “ کہا اس نے گویا سو حج کئے اور جس نے سو مرتبہ صبح اور سو مرتبہ شام کو ” الحمد للہ “ کہا اس نے گویا جہاد فی سبیل اللہ کے لیے سو گھوڑے مہیا کئے۔ (جامع ترمذی ص 500‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی) امام ابن جریر اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : ” الحمد للہ “ شکر ہے ‘ اللہ کی فرمانبرداری کرنا ہے اور اس کی نعمت اور ہدایت کا اقرار کرنا ہے۔ (جامع البیان ‘ مطبوعہ دارالمعرفتتہ بیروت ‘ 1409 ھ) نبی کریم ﷺ نے فرمایا : جب تم کہتے ہو : (آیت) ” الحمد للہ رب العلمین “ تو تم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہو اور وہ تم کو زیادہ نعمت دے گا۔ (جامع البیان ج 1 ص 46‘ مطبوعہ دارالمعرفتتہ بیروت ‘ 1409 ھ) علامہ قرطبی (رح) بیان کرتے ہیں : امام مسلم (رح) حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ بندہ کی اس بات سے خوش ہوتا ہے کہ وہ کچھ کھائے تو اللہ کی حمد کرے اور کچھ پیے تو اللہ کی حمد کرے۔ حسن بصری (رح) نے کہا : ہر نعمت کی بہ نسبت ” الحمد للہ “ کہنا افضل ہے۔ امام ابن ماجہ (رح) نے حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب کوئی بندہ اللہ کی دی ہوئی کسی نعمت پر ” الحمد للہ “ کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اس سے افضل نعمت عطا فرماتا ہے۔ ” نوادر الاصول “ میں حضرت انس بن مالک ؓ کی نبی کریم ﷺ سے ایک روایت ہے جس کا خلاصہ یہ ہے : اگر کسی کو تمام دنیا دے دی جائے ‘ پھر اس کو ’‘’ الحمد للہ “ کہنے کی توفیق دی جائے تو ” الحمد للہ “ کہنے کی نعمت تمام دنیا سے افضل ہے۔ (الجامع الاحکام القرآن ج 1 ص 131 مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران) خود اپنی حمد وثنا کرنے کی شرعی نوعیت : جس طرح کبریائی صرف اللہ تعالیٰ کو زیبا ہے اور انسان کے لیے تکبر کرنا حرام ہے ‘ اسی طرح انسان کا عیوب سے اپنی تنزیہہ اور محاسن سے خود اپنی حمد وثناء کرنا مکروہ اور ناپسندیدہ ہے ‘ کیونکہ تسبیح اور تنزیہہ اور حمد وثنا اللہ تعالیٰ ہی کی شان ہے ‘ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ ﷺ نے خود ستائی سے منع فرمایا ہے اور اس کو ناپسندیدہ قرار دیا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ” فلا تزکوا انفسکم ھو اعلم بمن اتقی “۔ (النجم : 32) خود ستائی نہ کرو ‘ پرہیزگاروں کو وہی زیادہ جانتا ہے۔ تزکیہ کا معنی ہے : عیوب اور قبائح سے منزہ کرنا یعنی نہ عیوب سے اپنی براءت بیان کرو نہ اپنے محاسن بیان کرو۔ علامہ آلوسی اس آیت کے شان نزول میں لکھتے ہیں : یہ آیت ان مسلمانوں کے حق میں نازل ہوئی ہے جو نیک اعمال کرتے ‘ پھر اپنی نمازوں ‘ اور حج کا ذکر کرتے تھے۔ (روح المعانی ج 27 ص 64‘ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت) علامہ قرطبی (رح) نے لکھا ہے کہ جب یہود و نصاری نے اپنی تعریف کی اور یہ کہا : ” نحن ابناء اللہ واحباءہ “ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں اور بعض روایات میں ہے کہ یہودیوں نے کہا : ہم بچوں کی طرح گناہوں سے پاک ہیں تو یہ آیت نازل ہوئی : (آیت) ” الم ترالی الذین یزکون انفسھم بل اللہ یزکی من یشآء ‘(النساء : 49) کیا آپ نے ان کو نہیں دیکھا جو اپنی پاکیزگی کا دعوی کرتے ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے پاکیزہ بنا دیتا ہے۔ (الجامع الاحکام القرآن ج 5 ص 246‘ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ 1387 ھ) امام مسلم روایت کرتے ہیں : ابن عطا کہتے ہیں : میں نے اپنی بیٹی کا نام برہ (نیکوکارہ) رکھا ‘ مجھ سے حضرت زینب بنت ابی سلمہ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس نام منع فرمایا ہے ‘ میرا نام پہلے برہ تھا (یعنی نیکی کرنے والی) تو میرا نام زینب رکھا گیا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم خود ستائی نہ کرو ‘ اللہ ہی خوب جانتا ہے کہ تم میں سے نیکی کرنے والا کون ہے ‘ صحابہ ؓ نے پوچھا : پھر ہم اس کا کیا نام رکھیں ؟ آپ نے فرمایا : اس کا نام زینب رکھو۔ (صحیح مسلم ج 2 ص 802‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ 1375 ھ) قرآن مجید کی ان آیات اور اس حدیث سے یہ واضح ہوگیا کہ انسان کا خود اپنی تعریف اور حمد و ثنا کرنا اور اپنے آپ کو عیوب اور قبائح سے بری اور پاک دامن کہنا ‘ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ ﷺ کے نزدیک ناپسندیدہ ہے ‘ تسبیح اور تنزیہہ اور حمد و ثنا صرف اللہ تعالیٰ ہی کو زیبا ہے ‘ وہی ہر عیب اور نقص سے پاک ہے اور وہی تمام خوبیوں اور کمالات کا جامع ہے اور وہی تمام تعریفوں اور حمد و ثنا کا مستحق ہے۔ تاہم اگر کسی غرض صحیح کی وجہ سے انسان اپنی تعریف کرے تو یہ جائز ہے جیسے حضرت عثمان ؓ نے باغیوں کے سامنے اپنی تعریف و توصیف کی تاکہ وہ باغی بغاوت سے باز آجائیں اور ان پر اللہ کی حجت تمام ہوجائے۔ امام ترمذی (رح) روایت کرتے ہیں : ابو عبدالرحمان سلمی بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عثمان ؓ کا محاصرہ کرلیا گیا تو انہوں نے اپنے گھر کی چھت سے ان کی طرف متوجہ ہو کر کہا : میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر یاد دلاتا ہوں کہ جب جبل حراء ہلنے لگا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اے حراء ! پرسکون ہوجا ! کیونکہ تجھ پر صرف نبی ہے یا صدیق ہے یا شہید ہے ‘ باغیوں نے کہا : ہاں ! آپ نے کہا : میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر یاد دلاتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ غزوہ تبوک لیے یہ فرمایا تھا ‘ اس کے لیے کون مقبول خرچ مہیا کرتا ہے ؟ اس وقت مسلمان سخت مشکل اور تنگ دستی میں تھے تو میں نے اس لشکر کے لیے زاد راہ مہیا کیا ‘ باغیوں نے کہا : ہاں ! پھر آپ نے کہا : میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر یاد دلاتا ہو کیا تمہیں علم ہے کہ چاہ رومہ (ایک کنواں) سے صرف قیمت دے کر پینے کے لیے پانی حاصل کیا جاتا تھا ‘ میں نے اس کنویں کو خرید کر امیروں ‘ غریبوں اور مسافروں کے لیے وقف کردیا ‘ باغیوں نے کہا : ہاں ! اس کے علاوہ اور بہت سی نیکیاں حضرت عثمان ؓ نے گنوائیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی ص 531۔ 530‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی) نیز امام ترمذی (رح) روایت کرتے ہیں : ثمامہ بن حزن قشیری بیان کرتے ہیں کہ حضرت عثمان ؓ نے باغیوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا : میں تم کو اللہ کی اور اسلام کی قسم دیتا ہوں کیا تم کو علم ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ میں آئے تو چاہ رومہ کے سوا اور کوئی میٹھے پانی کا کنواں نہیں تھا ‘ تو رسول اکرم ﷺ نے فرمایا : کوئی ہے جو چاہ رومہ کو خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کردے ؟ اور اس نیکی کے عوض میں جنت لے لے ! میں نے اس کنویں کو خالص اپنے مال سے خریدا اور آج تم مجھ کو اس کنویں کا پانی پینے نہیں دیتے ! حتی کہ میں سمندر کا کھارا پانی پی رہا ہوں ! باغیوں نے کہا : ہاں ! آپ نے فرمایا : میں تم کو اللہ کی اور اسلام کی قسم دیتا ہوں کیا تم کو علم ہے کہ مسجد نبوی میں جگہ کم تھی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا : کوئی ہے جو فلاں شخص سے زمین خرید کر اس مسجد کو وسیع کرے ؟ اور اس نیکی کے عوض جنت لے لے ! پھر اس جگہ کو میں نے اپنے خالص مال سے خریدا تھا اور آج تم مجھے اس میں دو رکعت نماز پڑھنے نہیں دیتے ! باغیوں نے کہا : ہاں ! آپ نے فرمایا : میں تم کو اللہ کی اور اسلام کی قسم دیتا ہوں کیا تم کو علم ہے کہ غزوہ تبوک کے لیے میں نے اپنے مال سے خرچ مہیا کیا تھا ‘ انہوں نے کہا : ہاں ! آپ نے پھر فرمایا میں تم کو اللہ کی اور اسلام کی قسم دیتا ہوں کیا تم کو علم ہے کہ رسول اللہ ﷺ مکہ میں جبل ثبیر پر کھڑے ہوئے اور آپ کے ساتھ حضرت ابوبکر ؓ ، حضرت عمر ؓ ، تھے اور میں تھا ‘ اس وقت پہاڑ ہلنے لگا ‘ حتی کہ اس کے پتھر نیچے گرنے لگے ‘ تو آپ نے اس پر اپنا پیر مارا اور فرمایا : اے ثبیر ! ساکن ہوجا ! تجھ پر نبی ہے ‘ صدیق ہے اور دو شہید ہیں ‘ باغیوں نے کہا : ہاں ! آپ نے تین بار فرمایا : اللہ اکبر ! خدا کی قسم ان باغیوں نے میرے حق میں گواہی دے دی اور میں شہید ہوں۔ (جامع ترمذی ص 531‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی) حضرت عثمان ؓ نے باغیوں کے سامنے اپنی حمد وثناء اس لیے کی تھی کہ یہ باغی اسلام کے لیے حضرت عثمان ؓ کی خدمات اور بارگاہ رسالت میں ان کے مقام کو پہچان کر بغاوت سے باز آجائیں ‘ تو ایسی کوئی غرض صحیح ہو مثلا غاصبوں کے سامنے اپنا استحقاق ثابت کرنے کے لیے یا محض اللہ تعالیٰ کے انعامات بیان کرنے کے لیے اپنی تعریف کی جائے اور اس سے اپنی بڑائی کا اظہار کرنا مقصود نہ ہو تو پھر اپنی تعریف کرنا جائز ہے اور اگر حمد وثنا سے اپنی بڑائی کا اظہار کرنا مقصود ہو تو اس کے حرام ہونے میں کوئی شک نہیں ‘ حمد وثناء اور کبریائی صرف اللہ تعالیٰ کا حق ہے اور اسی کو زیبا ہے۔ کسی دوسرے شخص کے سامنے اس کی حمد وثنا کرنے کی شرعی نوعیت : جس طرح بغیر کسی غرض صحیح کے خود اپنی تعریف کرنا مکروہ اور ناپسندیدہ ہے اسی طرح کسی غرض صحیح کے بغیر کسی دوسرے شخص کے سامنے اس کی تعریف کرنا بھی مکروہ اور ناپسندیدہ ہے۔ امام مسلم (رح) روایت کرتے ہیں : حضرت ابوبکر ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے سامنے ایک شخص نے کسی کی تعریف کی ‘ آپ نے فرمایا : تم پر افسوس ہے تم نے تو اپنے صاحب کی گردن کاٹ دی ‘ یہ جملہ آپ نے کئی بار فرمایا : جب تم میں سے کسی شخص نے اپنے صاحب کی لامحالہ تعریف کرنی ہو ‘ تو یوں کہو کہ میرا فلاں کے متعلق یہ گمان ہے اور اس کو حقیقت میں اللہ ہی جاننے والا ہے ‘ اور میں کسی کو اللہ کے نزدیک سراہا ہو انہیں کہتا ‘ خواہ وہ اس کے متعلق اسی طرح جانتا ہو۔ حضرت ابوبکر ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے سامنے ایک شخص کا ذکر کیا گیا ‘ ایک شخص نے کہا : یا رسول اللہ ﷺ ! رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی شخص فلاں فلاں چیز میں اس سے افضل نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم پر افسوس ہے ! تم نے اپنے صاحب کی گردن کاٹ دی۔ یہ جملہ آپ نے کئی بار فرمایا ‘ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر تم میں سے کسی شخص نے خواہ مخواہ اپنے بھائی کی تعریف کرنی ہو ‘ تو یہ کہے : میرا فلاں کے متعلق یہ گمان ہے خواہ وہ اس کو اسی طرح سمجھتا ہو اور وہ یہ نہ کہے کہ وہ اللہ کے نزدیک ایسا ہی ہے۔ (صحیح مسلم ج 2 ص 414‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ 1375 ھ) ان احادیث میں کسی شخص کے سامنے اس کی تعریف سے منع کیا گیا ہے اور بعض احادیث سے اس کا جواز بھی ثابت ہے ‘ امام بخاری (رح) روایت کرتے ہیں : حضرت ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے خطبہ میں فرمایا کہ اللہ سبحانہ نے ایک بندے کو دینا اور اس کے پاس ہے ‘ اس کے درمیان اختیار دیا تو اس نے اس چیز کو اختیار کرلیا تو اللہ کے پاس ہے ‘ حضرت ابوبکر ؓ یہ سن کر رونے لگے ‘ حضرت ابوسعید ؓ کہتے ہیں : میں نے دل میں سوچا : اگر اللہ نے ایک بندے کو دنیا اور جو اس کے پاس ہے اس کے درمیان اختیار دے دیا ہے اور اس نے جو اللہ کے پاس ہے اس کو پسند کر لیاتو اس بوڑھے کو کیا چیز رلاتی ہے ؟ لیکن آپ کے اس ارشاد میں بندے سے مراد رسول اللہ ﷺ تھے اور حضرت ابوبکر ؓ ہم سب سے زیادہ عالم تھے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اے ابوبکر ! بیشک اپنی صحبت اور مال سے مجھ پر سب سے زیادہ احسان کرنے والے ابوبکر ہیں ‘ اور اگر میں اپنی امت میں سے کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر ؓ کو بناتا لیکن اسلام کی اخوت اور محبت قائم رہے گی ‘ اور ابوبکر کے دروازے کے سوا مسجد میں (کھلنے والا) ہر دروازہ بند کردیا جائے ‘ باقی نہ رکھا جائے۔ (صحیح بخاری ج 1 ص ‘ 516۔ 67 مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ 1381 ھ) اس حدیث کو امام ترمذی نے بھی روایت کیا ہے۔ (جامع ترمذی ص 526۔ 525‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی) نبی کریم ﷺ نے حضرت ابوبکر ؓ ‘ حضرت عمر ؓ اور حضرت عثمان ؓ کے سامنے بھی ان کی تعریف کی ہے۔ امام ترمذی (رح) روایت کرتے ہیں :۔ حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ‘ حضرت ابوبکر ؓ ، حضرت عمر ؓ اور حضرت عثمان ؓ احد (پہاڑ) پر چڑھے ‘ وہ ہلنے لگا ‘ آپ نے فرمایا : اے احد ساکن ہوجا ‘ تجھ پر صرف نبی “ صدیق اور دو شہید ہیں۔ (جامع ترمذی ص 530‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی) اور آپ نے حضرت علی ؓ کے سامنے بھی ان کی تعریف کی ہے، امام ترمذی (رح) روایت کرتے ہیں : حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت علی ؓ سے فرمایا : تم میرے لیے ایسے ہو جیسے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے ہارون (علیہ السلام) تھے مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ (جامع ترمذی ص 535‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی) منہ پر تعریف کرنے کے جواز اور عدم جواز کا محمل : امام مسلم نے ایسی احادیث ذکر کی ہیں جن میں کسی کے سامنے اس کی تعریف کرنے سے منع کیا گیا ہے ’ جبکہ ” معجم طبرانی “ میں ایسی روایات ہیں جن میں کسی کے سامنے تعریف کرنے کی اجازت ہے اور صحاح ستہ میں بکثرت ایسی روایات ہیں جن میں خود رسول اللہ ﷺ نے بعض صحابہ کے سامنے ان کی تعریف کی ہے ‘ اس لیے علماء کرام نے ان احادیث میں یہ تطبیق دی ہے کہ اگر کسی کے سامنے اس کی تعریف کرنے سے اس کے فتنہ میں مبتلا ہونے کا خدشہ ہو تو پھر اس کے سامنے اس کی تعریف نہ کی جائے اور اگر یہ خدشہ نہ ہو تو پھر اس کے سامنے اس کی تعریف جائز ہے۔ علامہ یحییٰ بن شرف نووی (رح) لکھتے ہیں : امام مسلم (رح) نے وہ احادیث ذکر کی ہیں جن میں کسی کے منہ پر تعریف کرنے سے منع کیا گیا ہے ‘ صحیح بخاری ‘ صحیح مسلم اور بکثرت کتب حدیث میں ایسی روایات بھی ہیں جن میں منہ پر تعریف کی گئی ہے ‘ ان احادیث میں تطبیق اس طرح ہے کہ کسی کی بےجا تعریف کرنا یا تعریف میں مبالغہ کرنا ‘ یا دنیاوی طمع کی وجہ سے تعریف کرنا یا جس کے متعلق یہ اندیشہ ہے کہ وہ تعریف سن کر اکڑ جائے گا یا تکبر میں مبتلا ہوجائے گا ‘ اس کے منہ پر تعریف کرنا منع نہیں ہے ‘ اور جس شخص کے کمال تقوی اور عقل میں پختگی کی وجہ سے یہ خدشہ نہ ہو اس کے منہ پر تعریف کرنا منع نہیں ہے ‘ بہ شرطی کہ وہ بےجا تعریف نہ ہو اور دنیاوی طمع کی وجہ سے نہ ہو ‘ بلکہ اگر کسی دینی مصلحت کی وجہ سے تعریف کی جائے یا کسی شخص میں کسی نیک خصلت کے حصول یا اس کی زیادتی کے لیے یا اس کو اس نیک خصلت پر برقرار رکھنے کے لیے یا اس نیک خصلت کی اقتداء کے لیے اس کے منہ پر تعریف کی جائے تو یہ تعریف کرنا مستحب ہے۔ (شرح مسلم ج 2 ص 414‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ 1375 ھ) علامہ ابن حجر عسقلانی (رح) لکھتے ہیں : علامہ ابن بطال نے کہا ہے کہ ممانعت کا خلاصہ یہ ہے کہ جو شخص کسی کی ان اوصاف کے ساتھ تعریف کرے گا جو اس میں نہ ہوں تو ہوسکتا ہے کہ وہ شخص اپنے متعلق ان اوصاف کا یقین کرلے اور ان اوصاف پر اعتماد کر کے وہ شخص اپنے اعمال ضائع کر دے اور نیکی کی جدوجہد کرنا چھوڑ دے (مثلا ایک شخص کسی سے کہے : میں نے تم کو خواب میں بارگاہ رسالت میں دیکھا ہے۔ اور تمہارے جنتی ہونے کی بشارت سنی ہے یا کہے کہ میں نے حضور ﷺ سے یہ سنا ہے کہ جو تمہارے ہاتھ پر بیعت کرے گا وہ جنتی ہوگا ‘ یا جو تمہارے وعظ میں شریک ہوگا وہ جنتی ہوگا۔ (العیاذ باللہ) اس لیے جس حدیث میں یہ ہے کہ تعریف کرنے والوں کے منہ میں مٹی ڈال دو ‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ جھوٹی تعریف کرنے والوں کے منہ میں مٹی ڈال دو اور جس شخص نے ان اوصاف کے ساتھ تعریف کی جو موصوف میں موجود ہوں تو وہ اس حکم میں داخل نہیں ہے، کیونکہ نبی کریم ﷺ کے سامنے بعض صحابہ ؓ نے اپنے اشعار اور خطاب میں آپ کی تعریف کی اور آپ نے ان کے منہ میں مٹی نہیں ڈالی۔ علامہ ابن بطال کا کلام ختم ہوا امام مسلم (رح) نے روایت کیا ہے کہ کسی شخص نے حضرت عثمان ؓ کے سامنے ان کی تعریف کی تو حضرت مقداد ؓ نے اس کے منہ پر کنکریاں پھینکیں اور مذکور الصدر حدیث سے استدلال کیا ‘ اس حدیث کا دوسرا محمل یہ ہے کہ منہ پر مٹی ڈالنے کا مطلب ہے اس کو ناکام اور نامراد کرنا یعنی جھوٹی تعریف کرنے والے کی غرض اور مقصد کو پورا نہ کرو ‘ تیسری توجیہ یہ ہے کہ اس سے کہو : تمہارے منہ میں مٹی ‘ چوتھی توجیہ یہ ہے کہ ممدوح اور موصوف اس جھوٹی تعریف سے دھوکا نہ کھائے اور تعریف کرنے والے سے کہے : تم غلط کہہ رہے ہو میں ایسا نہیں ہوں ‘ اور یہ اس کے منہ میں مٹی ڈالنا ہے ‘ پانچویں توجیہ یہ ہے کہ وہ شخص جس مقصد اور غرض سے تعریف کر رہا ہے اس کا وہ مقصد پورا کرکے اس کا منہ بند کردیا جائے اور اس کو روانہ کردیا جائے ‘ مثلا کوئی شخص کسی سے کچھ رقم مانگنے کے لیے اس کی بےجا تعریف کر رہا ہے تو وہ اس کو وہ رقم دے کر کہے : یہ رقم لو اور جاؤ ‘ اور یہ اس کے منہ کو بند کرنا ہے جو اس کے منہ میں مٹی ڈالنے کے مترادف ہے ‘ علامہ بیضاوی (رح) اور علامہ طیبی (رح) نے اسی توجیہ کو اختیار کیا ہے۔ امام غزالی نے ” احیاء العلوم “ میں لکھا ہے کہ مدح کی آفت یہ ہے کہ مدح کرنے والا کبھی جھوٹ بولتا ہے اور کبھی اپنی مدح سے ممدوح کو مزید برائی میں مبتلا کرتا ہے ‘ خصوصا جب وہ فاسق یا ظلم کی مدح کرے ‘ امام ابویعلی (رح) نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب فاسق کی مدح کی جائے تو اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے ‘ اور کبھی وہ ایسی تعریف کرتا ہے جو اس کے نزدیک متحقق نہیں ہوتی، اور جس شخص کی مدح کی جائے وہ اس خطرہ سے خالی نہیں ہے کہ وہ اترانے لگے یا تکبر کرے یا تعریف کی شہرت پر اعتماد کر کے عمل میں کمی کردے ‘ اگر تعریف ان قباحتوں سے خالی ہو تو پھر اس میں حرج نہیں ہے، بلکہ بعض اوقات تعریف مستحب ہوتی ہے ‘ ابن عیینہ نے کہا : جو شخص اپنے نفس کو پہچانتا ہو اس کو کسی کی تعریف سے ضرر نہیں ہوتا اور بعض سلف نے کہا : جب کسی کے منہ پر تعریف کی جائے تو وہ دعا کرے : اے اللہ ! میرے ان کاموں کو بخش دے جن کو یہ لوگ نہیں جانتے اور ان کی تعریف کی وجہ سے میری پکڑ نہ کر اور مجھے ان کے گمان سے بہتر بنا دے۔ (فتح الباری ج 10، ص 478۔ 477‘ مبطوعہ دارالکتب الاسلامیہ ‘ لاہور) رب کا لغوی اور شرعی معنی : علامہ زبیدی لکھتے ہیں : الرب اللہ عزوجل ہے ‘ اور وہ ہر چیز کا رب ہے ‘ یعنی ہر چیز کا مالک ہے ‘ اور تمام مخلوق اس کی ملک میں ہے ‘ اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور وہ ” رب الارباب “ اور ” مالک الملوک “ ہے ‘ ابومنصور نے کہا : لغت میں مالک ‘ سید ‘ مدبر اور مہتمم پر رب کا اطلاق ہوتا ہے اور جب اس پر الف لام ہو (الرب) تو پھر اس کا اللہ عزوجل کے غیر پر اطلاق نہیں ہوتا ‘ اور جب اللہ تعالیٰ کے غیر پر رب کا اطلاق کیا جائے تو پھر اس کی کسی چیز کی طرف اضافت کی جاتی ہے جیسے ” رب الدار “ (مکان کا مالک ) ‘ حدیث میں علامات قیامت کے ذکر میں ہے : ” ان تلدالامۃ رب تھا “ باندی اپنی مالکہ کو جنم دے گی “ یعنی بہت زیادہ باندیاں ہوں گی، اور اذان کی دعا میں ” اللہم رب ھذہ الدعوۃ ‘ اے اس نداء کے صاحب “ اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ کوئی مملوک اپنے مالک کو میرا رب نہ کہے ‘ آپ نے اس کو ناپسند کیا کہ مالک کو رب قرار دے کر اس کو ربوبیت میں اللہ کے ساتھ شریک کیا جائے قرآن مجید میں ہے ؛ ” اذکرنی عند ربک “ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے قیدی سے کہا : تم اپنے رب کے سامنے میرا ذکر کرنا ‘ اور یہاں عزیز مصر پر رب کا اطلاق کیا ہے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا یہ کلام اس زمانہ اور ان لوگوں کے عرف کے مطابق تھا ‘ اس طرح نبی کریم ﷺ نے گم شدہ اونٹ کے متعلق فرمایا : ” حتی یلقاھا ربھا “۔ اونٹ چرتا پھرے گا حتی کے اپنے رب (مالک) سے مل جائے گا “ کیونکہ جانور عبادت کرتے ہیں نہ احکام کے مخاطب ہوتے ہیں ‘ بلکہ جانور مال و متاع کے حکم میں ہیں اور جس طرح رب الدار وغیرہ کی اضافت جائز ہے اسی طرح ان کی طرف اضافت بھی جائز ہے ‘ اور حضرت یوسف (علیہ السلام) نے جو فرمایا تھا : (آیت) ” انہ ربی احسن مثوای “۔ بیشک وہ عزیز مصر میرا صاحب ہے ‘ اس نے مجھے اچھی رہائش دی ہے۔ “ یہاں بھی صاحب پر رب کا اطلاق ان کے عرف کے مطابق ہے ‘ یا اس سے مراد اللہ تعالیٰ ہے ‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے مجھے اچھی رہائش دی ہے رب کی جمع ارباب اور ربوب ہے ‘ اور راسخ عالم ‘ یا عالم باعمل ‘ یا بہت بڑے عالم کو ربانی کہتے ہیں ‘ جب حضرت ابن عباس ؓ فوت ہوئے تو محمد بن حنفیہ (رح) نے کہا : آج اس امت کے ربانی فوت ہوگئے (تاج العروس ج 1 ص 260‘ مطبویہ المطبعۃ الخیریۃ ‘ مصر ‘ 1306 ھ) العلمین کا لغوی اور عرفی معنی : علامہ زبیدی (رح) لکھتے ہیں : عالم ‘ خاتم ‘ طابق اور دانق کے وزن پر ہے ‘ اس کا معنی ہے : کل مخلوق ‘ اس طرح صحاح میں ہے ‘ یا آسمان اور اس کے نیچے جو جواہر اور اعراض ہیں وہ عالم ہیں ‘ جس طرح خاتم مہر لگانے کا آلہ ہے اسی طرح عالم اسم آلہ ہے ‘ اس کا معنی ہے موجد کو جاننے کا آلہ ‘ حضرت جعفر صادق (رح) نے کہا : عالم کی دو قسمیں ہیں ‘ عالم کبیر اور عالم صغیر۔ آسمان اور جو کچھ اس کے اندر ہے وہ عالم کبیر ہے اور انسان عالم صغیرے اور انسان میں وہ سب کچھ ہے جو عالم کبیر میں ہے، ہمارے شیخ نے کہا ہے کہ مخلوق کو عالم اس لیے کہتے ہیں کہ وہ صانع پر علامت ہے ‘ بعض مفسرین نے کہا : عالم اس کو کہتے ہیں جس سے خالق کا علم حاصل ہو ‘ پھر بہ طور تغلیب جن اور انس میں سے عقلاء پر اس کا اطلاق کیا گیا ‘ یا جن اور انس پر انسان اور فرشتوں پر اور سید شریف کا مختار یہ ہے کہ اس کا اطلاق ہر جنس پر کیا جاتا ہے ‘ اور تمام اجناس کے مجموعہ پر بھی کیا جاتا ہے۔ زجاج نے کہا : عالم کا اس لفظ سے کوئی واحد نہیں ہے اور اس کے علاوہ اور کسی لفظ کی جمع واؤ اور نون (عالمون یا عالمین) کے ساتھ نہیں آتی ‘” بصائر “ میں مذکور ہے کہ اس کی جمع اس لیے آتی ہے کہ موجودات کی ہر نوع ایک عالم ہے مثلا عالم انسان ‘ عالم نار ‘ وغیرہ اور روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دس ہزار سے زیادہ عالم پیدا کیے ہیں اور اس کی جمع سالم اس لیے آتی ہے کہ انسان بھی عالم کا ایک فرد ہے (ورنہ غیر ذوی العقول کی جمع ‘ جمع مکسر ہوتی ہے) ایک قول یہ ہے کہ اس کی جمع سالم اس لیے آتی ہے کہ اس سے مراد مخلوق کی اصناف میں سے صرف ملائکہ ‘ جن اور انس ہیں اور دوسرے غیر ذوی العقول یا غیر ذوی العلوم اس سے مراد نہیں ہیں ‘ یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے ‘ جعفر صادق نے کہا : اس سے صرف انسان مراد ہے اور ہر انسان ایک عالم ہے ‘ میں کہتا ہوں کہ حضرت ابن عباس ؓ نے ” رب العلمین “ کی تفسیر میں کہا : ” رب الجن والانس “ اور قتادہ ؓ نے اس کی تفسیر میں کہا : تمام مخلوق کے رب ‘ ازہری نے کہا : حضرت عباس ؓ کے قول کی دلیل یہ آیت ہے : ” لیکون للعلمین نذیرا “۔ (الفرقان : 1) تاکہ آپ عالمین کے لیے نذیر ہوجائیں۔ اور سیدنا محمد ﷺ جانوروں اور فرشتوں کے لیے نذیر نہیں ہیں حالانکہ وہ بھی اللہ کی مخلوق ہیں ‘ آپ صرف جن اور انس کے لیے مبعوث ہوئے ہیں ‘ اور وھب بن منبہ سے مروی ہے کہ کل اٹھارہ ہزار عالم ہیں اور یہ دنیا ان میں سے ایک عالم ہے۔ (تاج العروس ج 8 ص 407‘ مطبوعہ المطبعۃ الخیریۃ ‘ مصر ‘ 1306 ھ) علامہ قرطبی (رح) لکھتے ہیں : حضرت ابوسعید خدری ؓ نے کہا : اللہ تعالیٰ نے چالیس ہزار عالم پیدا کئے اور یہ دنیا شرق سے غرب تک ایک عالم ہے ‘ مقاتل نے کہا : اسی ہزار عالم ہیں ‘ چالیس ہزار خشکی میں ہیں اور چالیس ہزار سمندر میں ‘ ابوالعالیہ سے مروی ہے کہ جن ایک عالم ہے ‘ انس ایک عالم ہے ‘ ان کے سوا زمین کے چار زاویے ہیں اور ہر زاویہ میں پندرہ سو عالم ہیں۔ (الجامع الاحکام القرآن ج 1 ص 138 مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ 1387 ھ) العلمین کے متعلق اقوال میں مصنف کا مختار : میں کہتا ہوں کہ ان تمام اقوال میں صحیح قول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا ہر موجود عالم ہے اور مخلوق عالم میں شامل ہے، اور اس کی دلیل یہ ہے کہ قرآن مجید میں ہے : (آیت) ” قال فرعون وما رب العلمین قال رب السموت والارض وما بینھما ان کنتم موقنین۔ (الشعراء : 24۔ 23) فرعون نے کہا : رب العلمین کیا ہے ؟ (موسی (علیہ السلام) نے) کہا : وہ آسمانوں ‘ زمین اور ان کے درمیان ہر چیز کا رب ہے ‘ اگر تم یقین کرنے والے ہو۔ اس آیت میں یہ تصریح ہے کہ تمام آسمان ‘ زمینیں اور ان کے درمیان ہر چیز عالم ہیں ‘ اور اس کی جمع عالم کی انواع اور اصناف کے اعتبار سے لائی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی تربیت میں غور وفکر : ایک بیج زمین میں گرا دیا جاتا ہے پھر زمین میں وہ پھول جاتا ہے ‘ پھولنے کے بعد وہ ہر طرف سے پھٹ سکتا تھا لیکن اللہ تعالیٰ کی حکمت بالغہ کی وجہ سے وہ صرف اوپر اور نیچے سے پھٹتا ہے ‘ اوپر سے پھٹ کر اس میں سے ایک جز زمین کو پھاڑ کر نکلتا ہے اور درخت بن جاتا ہے ‘ اس میں شاخیں پھوٹتی ہیں ‘ پھر ان شاخوں میں پھول کھلتے ہیں اور پھل بنتے ہیں اور پھلوں میں چھلکا بنتا ہے ‘ مغز بنتا ہے اور مغز میں روغن ہوتا ہے ‘ اور بیج کے نیچے سے جو جز زمین کو پھاڑ کر نکلتا ہے وہ جڑ بنتی ہے اور زمین کی گہرائی میں راستہ بناتی ہوئی وہ جڑیں نکل جاتی ہیں اور مٹی اور پانی سے اپنی طبعی غذا حاصل کر کے پورے درخت کو پہنچاتی ہیں اور اس کو سرسبز اور شاداب رکھتی ہیں۔ باپ کی پشت سے ایک قطرہ نکل کر ماں کی رحم میں پہنچتا ہے ‘ پھر وہ قطرہ پہلے جما ہوا خون بن جاتا ہے ‘ پھر گوشت کا ٹکڑا ‘ پھر اس میں ہڈیاں ‘ رگیں اور مختلف اعضاء بنتے ہیں ‘ پھر ان میں الگ الگ اثرات کی قوتیں رکھی جاتی ہیں ‘ آنکھ میں دیکھنے کی کان میں سننے کی اور زبان میں گویائی کی قوت رکھی جاتی ہے تو سبحان ہے وہ جس نے ہڈی میں سماعت ‘ چربی میں بصارت اور گوشت کے ایک ٹکڑے میں گویائی رکھی ! ماں باپ کے دل میں ایسا جذبہ رکھا کہ انہوں نے اپنے سکھ اور آرام کو چھوڑ کر اسکی پرورش کی ‘ ماں کے سینے میں اس کے لیے دودھ اتارا اور باپ کے دل میں شفقت رکھی اور یوں تدریجا اس کو پالتا رہا ‘ تربیت کرتا رہا ‘ بڑھاتا رہا اور جب وہ اپنی نشو و نما کے کمال طبعی کو پہنچ کر بالغ ہوگیا ‘ اس کا شعور پختہ اور عقل کامل ہوگئی تب کہا : اب ہماری ان نعمتوں کا شکر ادا کرو ‘ ہمارے ان کمالات کی حمد وثناء کرو جن کے نتیجہ میں تم اس کمال طبعی تک پہنچے ہو ‘ دیکھو ! اس نے تمہارے چلنے کے لیے زمین بنائی ہے ‘ تمہارے سانس لینے کے لیے ہواؤں کے سمندر رواں دواں کئے ہوئے ہیں ‘ تمہارے پینے کیلیے آسمان سے پانی اتارا اور زمین کی تہوں میں چشمے جاری کیے ‘ تمہیں روشنی پہنچانے کے لیے دن بنایا ‘ تمہارے آرام کے لیے رات بنائی ‘ سورج کی حرارت سے تمہاری کھیتیاں پکتی ہیں اور چاند کی کرنوں سے ان میں ذائقہ پیدا ہوتا ہے ‘ کیا اللہ تعالیٰ کے ان تمام احسانوں اور نعمتوں کو دیکھنے اور غور کرنے کے بعد تمہارے دلوں میں اس کی حمد و ثنا کرنے اور اس کا شکر بجالانے کا کوئی جذبہ پیدا نہیں ہوتا ! کمال ذات ‘ گزشتہ احسان ‘ رجا اور خوف سے حمد وثناء کا تقاضا “ دنیا میں انسان کسی شخص کی چار وجوہ سے تعریف کرتا ہے : یا اس لیے کہ وہ شخص اپنی ذات وصفات میں کامل ہے اور عیوب اور نقائص سے بری ہے ‘ خواہ اس نے اس انسان پر کوئی احسان کیا ہے یا نہیں ‘ وہ محض کمال ذات کی وجہ سے اس تعریف کرتا ہے ‘ دوسری وجہ یہ ہے کہ اس نے اس پر ماضی میں احسانات کیے ہیں اور انعامات دیے ہیں تو وہ ان گزشتہ احسانوں کی وجہ سے اس کی تعریف کرتا ہے ‘ تیری وجہ یہ ہے کہ وہ مستقبل میں اس سے انعامات کی توقع رکھتا ہے ‘ چوتھی وجہ یہ ہے کہ وہ اس کے غیظ و غضب اور اس کے قہر اور قدرت سے ڈر کر اس کی تعریف کرتا ہے ‘ تو گویا اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اگر تم کمال ذات کی وجہ سے کسی کی حمد وثناء کرتے ہو تو میری ذات کامل ہے ‘ سو میری حمد کرو اور اس کی طرف ” الحمد للہ “ سے اشارہ ہے اور اگر گزشتہ نعمتوں کی وجہ سے حمد وثناء کرتے ہو تو ساری نعمتیں میں نے دی ہیں ‘ میری تعریف کرو ‘ میں ہی (آیت) ” رب العلمین “ ہوں ‘ اور اگر مستقبل میں نعمتیں حاصل کرنے کے لیے تعریف کرتے ہو تو میں (آیت) ” الرحمن الرحیم “ ہوں ‘ سو میری حمد کرو اور اگر ڈر اور خوف کی وجہ سے حمد وثنا کرتے ہو تب بھی میری حمد و ثنا کرو میں ہی ” مالک یوم الدین “ ہوں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : نہایت رحم فرمانے والا بہت مہربان ہے۔ (الفاتحہ : 2) بعض مفسرین کی فروگزاشت : ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ کی تفسیر میں ہم ” الرحمن الرحیم “ کی تفسیر کو بیان کرچکے ہیں ‘ یہاں پر ہم بعض مفسرین کی ایک فروگزاشت پر متنبہ کرنا چاہتے ہیں۔ سیدابو الاعلی مودودی لکھتے ہیں : انسان کا خاصہ ہے کہ جب کوئی چیز اس کی چیز اس کی نگاہ میں بہت زیادہ ہوتی ہے تو وہ مبالغہ کے صیغوں میں اس کو بیان کرتا ہے ‘ اور اگر ایک مبالغہ بول کر وہ محسوس کرتا ہے کہ اس شے کی فراوانی کا حق ادا نہیں ہوا ‘ تو پھر وہ اس معنی کا ایک اور لفظ بولتا ہے تاکہ وہ کمی پوری ہوجائے جو اس کے نزدیک مبالغہ میں رہ گئی ہے۔ اللہ کی تعریف میں رحمن کا لفظ استعمال کرنے کے بعد پھر رحیم کا اضافہ کرنے میں بھی یہی نکتہ پوشیدہ ہے۔ رحمان عربی زبان میں بڑے مبالغہ کا صیغہ ہے لیکن خدا کی رحمت اور مہربانی اپنی مخلوق پر اتنی زیادہ ہے ‘ اس قدر وسیع ہے ‘ ایسی بےحد و حساب ہے کہ اس کے بیان میں بڑے سے بڑا مبالغہ لفظ بول کر بھی جی نہیں بھرتا ‘ اس لیے اس کی فراوانی کا حق ادا کرنے کے لیے پھر رحیم کا لفظ مزید استعمال کیا گیا۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ہم کسی شخص کی فیاضی کے بیان میں ” سخی “ کا لفظ بول کر جب تشنگی محسوس کرتے ہیں تو اس پر ” داتا “ کا اضافہ کرتے ہیں۔ رنگ کی تعریف میں جب ” گورے “ کو کافی نہیں پاتے تو اس پر ” چٹے “ کا لفظ اور بڑھا دیتے ہیں۔ درازی قد کے ذکر میں جب ” لمبا “ کہنے سے تسلی نہیں ہوتی تو اس کے بعد ” تڑنگا “ بھی کہتے ہیں۔ (تفہیم القرآن ج 1 ص 44‘ مطبوعہ ادارہ ترجمان القرآن ‘ لاہور ‘ 1983 ء) ہمارے شیخ علامہ سید احمد سعید کا ظمی قدس سرہ العزیز نے اس پر دو اعتراض کئے ہیں ‘ اول یہ کہ اگر کسی اہم چیز کا بیان مبالغہ کے صیغوں سے کرنا انسان کا خاصہ ہے تو اس کو اللہ کے کلام پر منطبق کرنا درست نہیں ہے کیونکہ خاصہ کی تعریف یہ ہے کہ وہ جس چیز کا خاصہ ہو اسی میں پایا جاتا ہے ‘ دوسرے میں نہیں پایا جاتا ‘ دوسرا اعتراض یہ ہے کہ ” الرحمن الرحیم “ کی مثال گورے چٹے اور لمبے تڑنگے سے دینا صحیح نہیں ہے کیونکہ ” الرحمن الرحیم “ دونوں مبالغہ کے صیغہ ہیں اور گورے چٹے اور لمبے ‘ تڑنگے میں سے کوئی لفظ بھی مبالغہ کا صیغہ نہیں ہے۔ (التبیان ص 30۔ 29‘ کا ظمی پبلیکیشنز ‘ ملتان ‘ 1993 ء)
Top