Ahsan-ut-Tafaseer - Yaseen : 20
وَ جَآءَ مِنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ رَجُلٌ یَّسْعٰى قَالَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِیْنَۙ
وَجَآءَ : اور آیا مِنْ : سے اَقْصَا : پرلا سرا الْمَدِيْنَةِ : شہر رَجُلٌ : ایک آدمی يَّسْعٰى : دوڑتا ہوا قَالَ : اس نے کہا يٰقَوْمِ : اے میری قوم اتَّبِعُوا : تم پیروی کرو الْمُرْسَلِيْنَ : رسولوں کی
اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا کہنے لگا کہ اے میری قوم پیغمبروں کے پیچھے چلو
20 تا 25۔ جس بستی کا اوپر ذکر تھا اسی بستی کے پرے سرے سے یہ نیک شخص دوڑتا ہوا آیا شاہ (عبدالقادر) صاحب اپنے فائدہ 2 ؎ جس طرح لکھا ہے (2 ؎ یہ شہر تھا انطاکیہ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے دو یار وہاں پہنچے ‘ شہروالوں نے ٹال دیا ‘ پھر تیسرے یار بھی پہنچے یہ تیسرے بڑے یار تھے (موضح القرآن) اسی طرح ابن اسحاق کی روایت میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے اور کعب احبار اور وہب بن منبہ اور عکرمہ وقتاوہ اور زہری وغیرہ نے بھی اس آیت کی تفسیر میں کہا ہے کہ ان آیتوں میں جس شہر کا ذکر ہے وہ شہر انطاکیہ تھا اور جن رسولوں کا ذکر ہے وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے تین حواری تھے مگر حافظ عماد الدین ابن کثیر 3 ؎ نے اس تفسیر پر یہ اعتراض کیا ہے (3 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 569 ج 3) امام بخاری (رح) کا انداز یہی بتاتا ہے ‘ یہ قصہ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) سے تو بہرحال پہلے کا ہے (فتح الباری کتاب الانبیا ( علیہ السلام) ئ) (ع ‘ ح) کہ وہ شہر انطاکیہ اس سبب سے نہیں ہوسکتا کہ اکثر اہل اسلام اور اہل کتاب کی تاریخ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ انطاکیہ اور اسکندریہ ان شہروں میں سے ہیں جن کے لوگ سب سے پہلے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے ہیں پھر انطاکیہ ان شہروں میں کیوں کر ہوسکتا ہے جس کے رہنے والوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو جھٹلایا اور وہ رسول حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواری اس سبب سے نہیں ہوسکتے کہ یہ شہر قرآن کے مضمون کے موافق ایسا شہر ہے جس کے رہنے والے رسولوں کے جھٹلانے اور حبیب نجار کے شہید کر ڈالنے کے سبب سے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کی چنگھاڑ سے ہلاک ہوئے ہیں حالانکہ مستدرک حاکم مسند بزار تفسر ابن ابی حاتم اور تفسیر ابن مرودیہ میں حضرت ابوسعید خدری ؓ کی روایت سے مرفوع اور موقوف روایتیں 1 ؎ ہیں (1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 39 ج 3 و تفسیر الدر المنثور ص 129 ج 5) جن میں سے مرفوع روایت کو حکم نے صحیح قرار دیا ہے ان روایتوں کا حاصل یہ ہے کہ سوا اس بنی اسرائیل کے فرقے کے جو مچھلیوں کے شکار میں نافرمانی کرنے سے بندر ہوگئے تو ریت کے نازل ہونے کے بعد عام عذاب اور کسی قوم پر آسمان سے نہیں آیا پھر یہ حضرت جبرئیل کے چنگھاڑ کے عذاب کا قصہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں تو ریت کے نازل ہونے کے بعد کیوں کر صحیح ہوسکتا ہے ‘ سورة قصص کی آیت ولقدآتینا موسیٰ الکتاب من بعد ما اھلکنا القرون الاولیٰ سے ابو سعید خدری ؓ کی اوپر کی حدیث کی تائید ہوتی ہے کیوں کہ آیت اور حدیث کا مطلب قریب قریب ہے غرض اس اعتراض کے بعد حافظ ابن کثیر نے صحیح تفسیر یہی قراردی ہے کیونکہ تو ریت کے نازل ہونے سے پہلے تین نبیوں کا کسی شہر کا یہ قصہ ہے جن نبیوں اور شہر کے نام کی صراحت نہ آیت میں ہے نہ کسی صحیح حدیث میں ہے طبرانی میں اگرچہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت سے ایک حدیث ہے جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ یہ سورة یسین کا قصہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ کا ہے کیوں کہ اس حدیث کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی امت میں جو رتبہ حضرت علی ؓ کا ہے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی امت میں وہی رتبہ اس شخص کا ہے جس کا ذکر سورة یسین میں ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا امت میں وہی رتبہ یوشع بن نون کا ہے لیکن اس حدیث کی سند میں ایک راوی حسین بن حسن الاشقر کوفی ایسا ہے جس کو امام بخاری نسائی اور دار قطنی نے ضعیف ٹھہرایا ہے اور جوز جانی نے کہا ہے کہ یہ حسین بن حسن اس طرح کا غالی شیعہ تھا کہ اچھے لوگوں کو گالیاں دیا کرتا تھا یہ جوز جانی ابواسحاق ابراہیم بن یعقوب ومشقی علماء میں سے ہیں ان کی تالیفات میں کتاب الضعفاء مشہور ہے نسائی اور دارقطنی نے ان جوز جانی کو ثقہ کہا ہے ‘ اگر تنہا ابن حبان نے حسین بن حسن کو ثقہ لوگوں میں شمار کیا ہے لیکن اور علماء نے ابن حبان کی بات کو تسلیم نہیں کیا اس واسطے یہ روایت اس روایت مستدرک حاکم کے مقابلہ میں مقبول نہیں ہوسکتی جس کی صحت حاکم کے حوالہ سے اوپر گزر چکی بعضے مفسروں نے جو لکھا ہے کہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کی چنگھاڑ سے شائد اسی قدر لوگ انطاکیہ کے ہلاک ہوئے ہوں جنہوں نے حبیب نجار کو شہید کیا تھا اس صورت میں انطاکیہ کا عذاب جب کہ عام نہیں تھا تو اس شہر کے انطاکیہ ہونے پر کچھ اعتراض نہیں ہوسکتا یہ قول قرآن شریف کے مطلب کے مخالف ہے کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے اس عذاب کے ذکر کے بعد کم اھلکنا من القرون فرمایا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اور بستیوں کی طرح اس شہر کا عذاب بھی عام تھا تفسیرابن جریر اور ابن ابی حاتم میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ان نیک شخص کا نام حبیب نجار تھا حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ جب بستی کے لوگوں نے اللہ کے رسولوں کے شہید کر ڈالنے کا ارادہ کیا اور حبیب نجار نے یہ خبر سنی تو وہ گھبرا کرو دوڑتے ہوئے وہاں آئے جہاں اللہ کے رسول تھے اور اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ اے قوم کے لوگو جب یہ اللہ کے رسول اپنی نصیحت کا کچھ معاوضہ تم لوگوں سے نہیں چاہتے اور پکی پکی باتیں نصیحت کی کہتے ہیں تو و ضرور راہ راست پر معلوم ہوتے ہیں اس لیے تم لوگوں کو ان کا کہنا ماننا چاہئے قوم کے لوگوں نے حبیب نجار کی یہ نصیحت سن کر کہا کہ کیا تم نے اپنا قدیمی دین چھوڑ دیا جو تم ایسی باتیں کرتے ہو حبیب نجارنے قوم کے لوگوں کو جواب دیا کہ کیا مجھ کو اتنی بات سمجھ لینی کچھ مشکل ہے کہ جس نے مجھ کو پیدا کیا ہے اور مجھے اور تمہیں سب کو ایک دن اسے منہ دکھانا ہے تو میں اس کی عبادت نہ کروں اور ایسے بتوں کی پوجا میں لگا رہوں کہ جو نہ خود اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی کسی مصیبت کو ٹال سکتے ہیں نہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں میری کچھ سفارش کرسکتے ہیں تم بھی سمجھ لو کہ اگر میں ایسی بےاختیار چیز کو پوچھا میں لگا رہوں تو یہ کیسی موٹی عقل ہے پھر رسولوں کی طرف متوجہ ہو کر حبیب نجار نے یہ کہا تم گواہ رہو کہ میں تو تمہارے پروردگار کو اپنا معبود مان چکا آگے حضرت عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن مسعود کی روایتیں آتی ہیں کہ اس کے بعد قوم کے لوگوں نے حبیب نجار کو شہید کر ڈالا اور اللہ تعالیٰ نے حبیب کو جنت میں داخل ہونے کا حکم دیا ‘ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے حضرت علی کی روایت کئی جگہ گزر چکی ہے کہ دنیا کے پیدا کرنے سے پہلے اپنے علم غیب کے موافق اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں یہ لکھ لیا ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد کون شخص جنت میں داخل ہونے کا حکم دیا ‘ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے حضرت علی کی روایت کئی جگہ گزر چکی ہے کہ دنیا کے پیدا کرنے سے پہلے اپنے علم غیب کے موافق اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں یہ لکھ لیا ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد کون شخص جنت میں داخل ہونے کے قابل کام کرے گا اور کون دوزخ میں جھونکے جانے کے قابل ‘ صحیح بخاری وغیرہ کے حوالہ 2 ؎ سے عبداللہ بن مسعود ؓ کی حدیث بھی گزر چکی ہے (2 ؎ صحیح بخاری ص 714 ج 2 تفسیر سورة الدخان) کہ قریش نے جب بہت سرکشی شروع کی تو اللہ کے رسول ﷺ کی بد دعاء سے مکہ میں سخت قحط پڑا اور آخر اللہ کے رسول ﷺ کی دعاء سے مینہ برسا جس سے وہ قحط رفع ہوا ان حدیثوں کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مکہ کے قحط کے وقت مشرکین مکہ کو اور اس بستی کے قحط کے وقت یہاں کے لوگوں کو اگرچہ بتوں کی بےاختیاری کا حال اچھی طرح سیکھ گیا تھا لیکن ان میں کے جو لوگ علم الٰہی کے موافق دوزخ میں جھونکے جانے کے قابل قرار پائے تھے وہ مرتے دم تک ان بےمصرف مورتوں کی پوجا میں لگے رہے۔
Top