Al-Quran-al-Kareem - Saad : 41
وَ اذْكُرْ عَبْدَنَاۤ اَیُّوْبَ١ۘ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الشَّیْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّ عَذَابٍؕ
وَاذْكُرْ : اور آپ یاد کریں عَبْدَنَآ : ہمارا بندہ اَيُّوْبَ ۘ : ایوب اِذْ نَادٰى : جب اس نے پکارا رَبَّهٗٓ : اپنا رب اَنِّىْ : بیشک میں مَسَّنِيَ : مجھے پہنچایا الشَّيْطٰنُ : شیطان بِنُصْبٍ : ایذا وَّعَذَابٍ : اور دکھ
اور ہمارے بندے ایوب کو یاد کر، جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ بیشک شیطان نے مجھے بڑا دکھ اور تکلیف پہنچائی ہے۔
وَاذْكُرْ عَبْدَنَآ اَيُّوْبَ : اس کا عطف اس سے پہلے پر ہے۔ لفظ ”عَبْدَنَآ“ میں اللہ تعالیٰ کے ان سے تعلق کا اظہار ہو رہا ہے۔ اس سورت میں مذکور قصّوں میں سے یہ تیسرا قصّہ ہے کہ داؤد اور سلیمان ؑ پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اور دونوں کی آزمائش کا ذکر فرمایا اور ایوب ؑ پر آنے والی مصیبتوں اور تکلیفوں کا اور انھیں دور کرنے کی نعمت کا ذکر فرمایا، مقصد سب سے عبرت دلانا ہے۔ اَنِّىْ مَسَّنِيَ الشَّيْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّعَذَابٍ : ”نُصْبٌ“ تھکاوٹ اور مشقت کو کہتے ہیں اور ”وَّعَذَابٍ“ شدید بدنی تکلیف کو۔ یعنی مجھے دو قسم کی تکلیف پہنچی ہے، ایک شدید دکھ جو مال و اولاد اور عافیت نہ رہنے کی وجہ سے تھا اور دوسری جسمانی تکلیف جو بیماری کی وجہ سے تھی۔ اس دعا میں ایوب ؑ کا حسن ادب دیکھیے کہ انھوں نے دکھ اور تکلیف کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف نہیں کی بلکہ شیطان کی طرف کی ہے۔ حالانکہ رنج ہو یا راحت، برائی ہو یا بھلائی، سب اللہ تعالیٰ کی مشیّت کے تحت ہے اور وہی سب کا خالق ہے، مگر چونکہ اکثر ان کا تعلق کسی قریب یا بعید وجہ سے شیطان کے ساتھ ہوتا ہے، اس لیے اللہ کے مقرّب بندے شر کی نسبت اپنی طرف کرتے ہیں یا شیطان کی طرف، اللہ تعالیٰ کی طرف نہیں کرتے، جیسا کہ ابراہیم ؑ نے مرض کی نسبت اپنی طرف اور شفا کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی، فرمایا : (وَاِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِيْنِ) [ الشعرآء : 80 ] ”اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے۔“ اور موسیٰ اور خضر ؑ کے قصے میں یوشع بن نون ؑ نے بھلانے کی نسبت شیطان کی طرف کی، فرمایا : (وَمَآ اَنْسٰنِيْهُ اِلَّا الشَّيْطٰنُ اَنْ اَذْكُرَهٗ) [ الکہف : 63 ] ”اور مجھے وہ نہیں بھلائی مگر شیطان نے کہ میں اس کا ذکر کروں۔“ صحیح مسلم میں نماز کے شروع میں پڑھی جانے والی ایک لمبی دعا رسول اللہ ﷺ سے مروی ہے، جو ”وَجَّہْتُ وَجْہِيَ لِلَّذِيْ فَطَرَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضَ“ سے شروع ہوتی ہے، اس میں یہ الفاظ ہیں : (لَبَّیْکَ وَسَعْدَیْکَ وَ الْخَیْرُ کُلُّہُ فِيْ یَدَیْکَ وَالشَّرُّ لَیْسَ إِلَیْکَ) [ مسلم، صلاۃ المسافرین، باب الدعاء في صلاۃ اللیل و قیامہ : 771، عن علي بن أبي طالب ؓ ] ”حاضر ہوں اور حاضر ہوں اور خیر ساری تیرے ہاتھ میں ہے اور شر تیری طرف نہیں ہے۔“ ایوب ؑ کی اس دعا میں اور سورة انبیاء (83) میں مذکور دعا : (اَنِّىْ مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَاَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَ) (بےشک میں، مجھے بیماری لگ گئی ہے اور تو رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم والا ہے) میں ایوب ؑ کے دعا کے سلیقے کا اظہار ہو رہا ہے کہ انھوں نے صریح لفظوں میں اپنے مقصد کے اظہار کے بجائے اپنی حالت زار اور رب تعالیٰ کی مہربانی کا ذکر ایسے لفظوں میں کیا کہ اللہ تعالیٰ نے خود ہی ان پر رحم فرما کر شفا دے دی۔ ان چاروں آیات کی مفصّل تفسیر کے لیے دیکھیے سورة انبیاء کی آیت (83، 84) کی تفسیر۔
Top