Anwar-ul-Bayan - Yaseen : 20
وَ جَآءَ مِنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ رَجُلٌ یَّسْعٰى قَالَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِیْنَۙ
وَجَآءَ : اور آیا مِنْ : سے اَقْصَا : پرلا سرا الْمَدِيْنَةِ : شہر رَجُلٌ : ایک آدمی يَّسْعٰى : دوڑتا ہوا قَالَ : اس نے کہا يٰقَوْمِ : اے میری قوم اتَّبِعُوا : تم پیروی کرو الْمُرْسَلِيْنَ : رسولوں کی
اور ایک شخص اس شہر کے دور والے مقام سے دوڑتا ہوا آیا، اس نے کہا کہ اے میری قوم ان فرستادہ آدمیوں کا اتباع کرو
مذکورہ بستی کے باشندوں میں سے ایک شخص کا پیامبروں کی تصدیق کرنا اور بستی والوں کو توحید کی تلقین کرنا تینوں حضرات بستی والوں کو ہدایات دے رہے تھے اور وہ لوگ ان حضرات سے الجھ رہے تھے اور یوں کہہ رہے تھے کہ تمہارا آنا ہمارے لیے نحوست کا سبب ہے، یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ ایک شخص اس بستی کی ایک جانب سے جو بہت دور تھی دوڑتا ہوا وہاں پہنچ گیا اس نے تینوں حضرات کی تائید کی اور بستی والوں سے کہا کہ اے میری قوم یہ حضرات ٹھیک فرما رہے ہیں، یہ واقعی اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے ہیں تم ان کی بات مان لو اور ان کا اتباع کرو، یہ حضرات ایک تو اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے ہیں دوسرے تم سے کسی معاوضہ کا سوال نہیں کرتے تیسرے یہ خود ہدایت پر ہیں، ان کا عمل ان کے قول کے مطابق ہے۔ (لہٰذا ان کا اتباع تم پر لازم ہے۔ ) یہ باتیں کہہ کر اس شخص نے ان لوگوں کو عبادت خداوندی کی دعوت دی اور اپنے اوپر بات رکھ کر کہا کہ کیا وجہ ہے کہ میں اس ذات پاک کی عبادت نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا۔ اس میں یہ بتادیا کہ جس نے پیدا کیا وہی عبادت کا مستحق ہے، جب پیدا فرمانا استحقاق عبدودیت کی دلیل ہوا تو ضروری ہے کہ تم بھی اللہ ہی کی عبادت کرو میں بھی اسی کی عبادت کروں، اسی لیے آخر میں (وَالیہ ارجع) (اور میں اسی کی طرف لوٹایا جاؤں گا) نہیں کہا بلکہ (وَاِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ ) (اور تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے) کہا۔ جب اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے جس نے پیدا کیا تو اس کی عبادت چھوڑنا یا دوسروں کو اس کی عبادت میں شریک کرنا یہ تو بالکل ہی حماقت اور بیوقوفی کی بات ہے۔ چونکہ اس بستی کے لوگ مشرک تھے اس لیے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے اس شخص نے مزید کہا (ءَ اَتَّخِذُ مِنْ دُوْنِہٖٓ اٰلِھَۃً ) (الآیتین) (کیا میں اپنے پیدا کرنے والے کے علاوہ دوسرے معبود تجویز کرلوں) یہ جو تم نے اس کے سوا معبود بنا رکھے ہیں وہ تو بالکل ہی بےحقیقت ہیں اگر رحمن تبارک و تعالیٰ مجھے کوئی ضرر پہنچانا چاہے تو یہ اس کی بارگاہ میں سفارش کرکے میری کوئی مدد نہیں کرسکتے اور نہ خود مجھے اس ضرر سے چھڑا سکتے ہیں، یعنی نہ تو یہ شفاعت کے اہل ہیں اور نہ خود ان میں کوئی قوت اور طاقت ہے، اگر رحمان جل مجدہٗ کو چھوڑ کر دوسرے معبود بنالوں تو میں کھلی گمراہی میں پڑجاؤں گا۔ (یہ سب باتیں اس دور سے آنے والے آدمی نے اپنے اوپر رکھ کر کہیں اور انہیں بتادیا کہ تم لوگ مشرک ہو، کھلی گمراہی میں ہو اور خالق جل مجدہٗ کے علاوہ جن کی تم عبادت کرتے ہو وہ تمہیں کچھ بھی نفع نہیں پہنچاسکتے۔ )
Top