Anwar-ul-Bayan - Saad : 29
كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ مُبٰرَكٌ لِّیَدَّبَّرُوْۤا اٰیٰتِهٖ وَ لِیَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ
كِتٰبٌ : ایک کتاب اَنْزَلْنٰهُ : ہم نے اسے نازل کیا اِلَيْكَ : آپ کی طرف مُبٰرَكٌ : مبارک لِّيَدَّبَّرُوْٓا : تاکہ وہ غور کریں اٰيٰتِهٖ : اس کی آیات وَلِيَتَذَكَّرَ : اور تاکہ نصیحت پکڑیں اُولُوا الْاَلْبَابِ : عقل والے
(یہ) کتاب جو ہم نے تم پر نازل کی ہے بابرکت ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں غور کریں اور تاکہ اہل عقل نصیحت پکڑیں
(38:29) کتب۔ خبر مبتدا محذوف ای ھو کتاب (ای القران) انزلنا الیک۔ کتاب کی صفت ہے ک ضمیر واحد مذکر حاضر کا مرجع نبی کریم ﷺ ہیں۔ مبارک خبر ثانی یا کتاب کی صفت۔ ترجمہ ہوگا :۔ یہ کتاب جو ہم نے آپ کی طرف اتاری ہے بڑی حکمت والی ہے۔ لیدبروا۔ لام تعلیل کا ہے۔ یدبروا مضارع کا صیغہ جمع مذکر غائب ہے۔ تدبر (تفعل) سے مصدر اصل میں یتدبروا تھا۔ تاء کو دال سے بدل کر دال کر دال میں مدغم کیا۔ تاکہ وہ غور کریں ۔ تاکہ وہ سوچیں۔ ایتہ ۔ مضاف مضاف الیہ۔ اس کی آیات (کتاب کی آیات) ای فی ایتہ۔ لیتذکر۔ لام تعلیل۔ مضارع منصوب جمع مذکر غائب تذکر (تفعل) مصدر سے بمعنی نصیحت پکڑنا۔ تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں اولوا الالباب۔ عقل والے۔ کامل فہم۔ اولوا۔ (والے) جمع ہے اس کا واحد نہیں آتا۔ الباب لب کی جمع ہے جس کے معنی عقل کے ہیں۔ لیدبروا۔ لیتذکر۔ فعل امر بھی ہوسکتے ہیں۔ اس صورت میں لام لام امر ہوگا اور ترجمہ ہوگا :۔ چاہیے کہ وہ غور کریں۔ چاہیے کہ وہ نصیحت پکڑیں۔ یہاں خطاب نبی کریم ﷺ اور آپ کی امت کے علماء سے ہے۔ ای انت و علماء امتک۔ آپ اور آپ کی امت کے علماء اس کی آیات پر غور کریں۔ اور نصیحت حاصل کریں۔
Top