بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Asrar-ut-Tanzil - Saad : 1
صٓ وَ الْقُرْاٰنِ ذِی الذِّكْرِؕ
صٓ : صاد وَالْقُرْاٰنِ : قرآن کی قسم ذِي الذِّكْرِ : نصیحت دینے والے
صٓ قسم ہے قرآن کی جو نصیحت دینے والا ہے
سورة ص رکوع نمبر 1 آیات 1 تا 14 اسرار و معارف : ص۔ اور قسم ہے قرآن کی جو نصیحت سے بھرا ہے یعنی مضامین قرآن جو حق ہیں اور بندوں کی بہتری کے لیے ہیں وہ اس بات کے گواہ ہیں کہ کفار کے پاس انکار کی کوئی دلیل نہیں بس محض تعصب ہے جس نے انہیں آپ کے مقابل لا کھڑا کیا ہے اور یہ اتنا بڑا جرم ہے کہ ان سے پہلے بہت سی قومیں اسی جرم میں ہلاک کردی گئیں وہ بھی انبیاء کے مقابل آئے تھے اور ماننے پہ تیار نہ تھے مگر جب اللہ کا عذاب آیا تو پھر بہت چیخے چلائے لیکن اس کا انہیں کوئی فائدہ نہ ہوا کہ خلاصی کا وقت گزر چکا تھا وہ بھی حیران ہوا کرتے تھے اور انہیں بھی اس بات پہ حیرت ہے کہ انہیں میں سے اسی شہر یا اسی برادری میں سے ایک بندہ اللہ کا رسول بن گیا بھلا اس میں ایسی کیا خاص بات تھی پھر انہیں معجزات مجبور کرتے تو کہہ دیتے کہ یہ تو جادو ہے اور رہا دعوی نبوت تو اس میں یہ شخص جھوٹ بول رہا ہے (معاذ اللہ) بھلا یہ کیا بات ہوئی کہ دنیا کے بیشمار کاموں کے لیے اور زمین و آسمان کی سلطنت کے لیے جہاں دنیا بھر کے لوگوں نے بیشمار معبود مان رکھے ہیں اور ان ہی کے سہارے زندہ ہیں یہ کہتا ہے کہ صرف ایک ہستی ایسی ہے جس کی عبادت کی جائے یہ تو بہت ہی عجیب بات ہے اور ناقبل فہم بات ہے ان کے روسا بات سن کر چل دیتے ہیں اور دوسروں کو بھی کہتے ہیں چلو یہاں سے چلے جاؤ ان کی باتیں مت سنو اور اپنے معبودوں پر اپنے عقیدے پر جمے رہو کہ ان کی باتوں سے ایسے نظر آتا جیسے یہ سب لوگوں کو اپنے پیچھے لگا کر خود ریاست حاصل کرنے کی فکر میں ہیں کہ دنیا میں بیشمار اقوام گزری ہیں کہیں کسی قوم میں اس طرح کی بات نہیں سنی گئی جس طرح کی بات یہ کہتے ہیں یہ محض انہوں نے خود گھڑ لی ہے۔ بھلا اگر نبوت ہی ملنا تھی تو ہم سب کو یعنی روسا کو چھوڑ کر اس شخص کو مل گئی یہ تو ہو ہی نہیں سکتا کہ ان کے خیال میں سارے کمالا سرمایہ دار ہی میں ہوتے ہیں۔ بات یہ نہیں بلکہ انہیں خود میری بات ہی میں شک ہے اور وحی کو درست ماننے پہ تیار نہیں۔ اس لیے انہوں نے ابھی عذاب الہی کی تلخی نہیں چکھی اللہ نے مہلت دے رکھی ہے تو اکڑ رہے ہیں انہیں یہ فیصلہ کرنے کا کیا حق ہے کہ نبی کون ہونا چاہیے آپ کا پروردگار جو بہت زبردست اور بہت عطا کرنے والا کہ اپنی مرضی سے جسے چاہے جو دے حتی کہ نبوت و رسالت بھی۔ اس کی رحمت کے خزانوں پہ یہ قابض ہیں کہ اب یہ بانٹا کرینگے یا ارض و سما کے نظام اور سلطنت میں انہیں کوئی عمل دخل ہے کہ نبوت اسی نظام کو قائم رکھنے کا سبب ہے اگر ایسا ہے تو چڑھ دوڑیں آسمانوں پر جب ایسی کوئی بات نہیں تو انہیں یہ کہنے کا اختیار بھی نہیں کہ نبوت کس کو اور کیوں مل گئی ان کی تو ایسی حیثیت بھی نہیں جیسی طاقت اور شان و شوکت ان سے پہلے کفار کے پاس تھی جو اسی جرم کی وجہ سے تباہ و برباد ہوگئے۔ اسی طرح کفر ا ختیار کیا تھا قوم نوح (علیہ السلام) نے اور قوم عاد نے اور فرعون ہی کو لے لو جس کی سلطتنت کی دھاک بیٹھی ہوئی تھی یا قوم ثمود اور قوم لوط یا ایکہ کے لوگ یہ سب بڑی بڑی طاقتیں تھیں اور ان سب کا جرم یہی تھا کہ انہوں نے اللہ کے رسولوں کی تکذیب کی اور اللہ کے عذاب میں گرفتار ہو کر برباد ہوگئے۔
Top