Tafseer-e-Baghwi - Yaseen : 20
وَ جَآءَ مِنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ رَجُلٌ یَّسْعٰى قَالَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِیْنَۙ
وَجَآءَ : اور آیا مِنْ : سے اَقْصَا : پرلا سرا الْمَدِيْنَةِ : شہر رَجُلٌ : ایک آدمی يَّسْعٰى : دوڑتا ہوا قَالَ : اس نے کہا يٰقَوْمِ : اے میری قوم اتَّبِعُوا : تم پیروی کرو الْمُرْسَلِيْنَ : رسولوں کی
اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا کہنے لگا کہ اے میری قوم پیغمبروں کے پیچھے چلو
20، وجاء من اقصی المدینۃ رجل یسعی ، یہ حبیب نجار تھا ۔ سدی فرماتے ہیں کہ حبیب دھوبی تھا۔ وہب فرماتے ہیں حبیب ریشمی کپڑیبناتا تھا اور بیمار تھا اس کو جذام ہوگیا اس لیے شہر کے آخری دروازے پر پڑارہتا تھا اور مؤمن تھا، صدقہ کیا کرتا تھا، دن میں جو کچھ کماتا تھا شام کو دوحصے کرکے ایک حصہ خیرات کردیتا تھا اور ایک حصہ اپنے متعلقین کے صرف میں لاتا تھا۔ جب اس کو طلاع ملی کہ اس کی قوم والوں نے رسولوں کو قتل کردینے کا ارادہ کرلیا تو بھاگتا ہوا آیا ۔
Top