Tafseer-e-Mazhari - Al-A'raaf : 47
فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖۤ اَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ یَنْهَوْنَ عَنِ السُّوْٓءِ وَ اَخَذْنَا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا بِعَذَابٍۭ بَئِیْسٍۭ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ
فَلَمَّا : پھر جب نَسُوْا : وہ بھول گئے مَا : جو ذُكِّرُوْا بِهٖٓ : انہیں سمجھائی گئی تھی اَنْجَيْنَا : ہم نے بچا لیا الَّذِيْنَ : وہ جو کہ يَنْهَوْنَ : منع کرتے تھے عَنِ السُّوْٓءِ : برائی سے وَاَخَذْنَا : اور ہم نے پکڑ لیا الَّذِيْنَ : وہ لوگ جنہوں نے ظَلَمُوْا : ظلم کیا بِعَذَابٍ : عذاب بَئِيْسٍ : برا بِمَا : کیونکہ كَانُوْا يَفْسُقُوْنَ : نافرمانی کرتے تھے
ابّا شیطان کی پرستش نہ کیجیئے۔ بےشک شیطان خدا کا نافرمان ہے
یا ابت لا تعبد الشیطن ان الشیطن کان للرحمن عصیا۔ اے میرے باپ آپ شیطان کی پوجا نہ کریں بیشک شیطان رحمن کا نافرمان ہے۔ یعنی شیطان کفر اور بت پرستی کو تمہاری نظر کے سامنے آراستہ اور دلکش بنا کر لاتا ہے تم اس کا کہا نہ مانو اس کے بتائے ہوئے راستہ پر نہ چلو کیونکہ شیطان اس خدا کا جو منعم ‘ محسن مہربان ہے سخت نافرمان ہے اور ظاہر ہے کہ رب کے نافرمان کا اتباع کرنے والا بھی رب کا نافرمان قرار پائے گا اور جو رب کا نافرمان ہوگا اس سے رب منعم اپنی نعمتیں چھین لے گا اور ایسے احسان فراموش سے انتقام لے گا۔
Top