Tafseer Ibn-e-Kaseer - Al-Baqara : 38
قَالَ یٰۤاٰدَمُ اَنْۢبِئْهُمْ بِاَسْمَآئِهِمْ١ۚ فَلَمَّاۤ اَنْۢبَاَهُمْ بِاَسْمَآئِهِمْ١ۙ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۙ وَ اَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ
قَالَ : اس نے فرمایا يَآ : اے اٰدَمُ : آدم اَنْبِئْهُمْ : انہیں بتادے بِاَسْمَآئِهِمْ : ان کے نام فَلَمَّا : سو جب اَنْبَاَهُمْ : اس نے انہیں بتلایا بِاَسْمَائِهِمْ : ان کے نام قَالَ : فرمایا اَلَمْ : کیا نہیں اَقُلْ : میں نے کہا لَكُمْ : تمہیں اِنِّیْ : کہ میں اَعْلَمُ : جانتا ہوں غَيْبَ : چھپی ہوئی باتیں السَّمَاوَاتِ : آسمانوں وَالْاَرْضِ : اور زمین وَاَعْلَمُ : اور میں جانتا ہوں مَا : جو تُبْدُوْنَ : تم ظاہر کرتے ہو وَمَا : اور جو كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ : تم چھپاتے ہو
اور عمران کی بیٹی مریم کا حال بیان فرمایا جس نے اپنی ناموس کو محفوظ رکھا سو ہم نے اس میں اپنی روح پھونک دی اور اس نے اپنے رب کے کلمات کی اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی اور وہ فرمانبرداروں میں سے تھی
6۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فنفخنا فیہ من روحنا اور ہم نے پھونک دیا اس میں سے اپنی روح میں سے۔ یعنی اس کے گریبان میں پھونک دیا آیت وکانت من القنتین۔ یعنی فرمانبرداری کرنے والوں میں سے۔ 7۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے آیت وصدقت بکلمت ربہا کو الف کے ساتھ پڑھا۔ ” وکتابہ واحد “ اور اس کی کتابت ایک ہے۔ 8۔ طبرانی نے سعد بن جنادہ (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے جنت میں میری شادی مریم بنت عمران، فرعون کی بیوی اور موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن کے ساتھ کردی ہے۔
Top