تفسیر ابنِ کثیر

Tafseer Ibn-e-Kaseer · 24. An-Noor · Ayah 62

  1. اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اِذَا كَانُوْا مَعَهٗ عَلٰۤى اَمْرٍ جَامِعٍ لَّمْ یَذْهَبُوْا حَتّٰى یَسْتَاْذِنُوْهُ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَاْذِنُوْنَكَ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ۚ فَاِذَا اسْتَاْذَنُوْكَ لِبَعْضِ شَاْنِهِمْ فَاْذَنْ لِّمَنْ شِئْتَ مِنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمُ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴿62﴾

    1. اِنَّمَااس کے سوا نہیں
    2. الْمُؤْمِنُوْنَمومن (جمع)
    3. الَّذِيْنَ اٰمَنُوْاجو ایمان لائے (یقین کیا)
    4. بِاللّٰهِاللہ پر
    5. وَرَسُوْلِهٖاور اس کے رسول پر
    6. وَاِذَااور جب
    7. كَانُوْاوہ ہوتے ہیں
    8. مَعَهٗاس کے ساتھ
    9. عَلٰٓيپر۔ میں
    10. اَمْرٍ جَامِعٍجمع ہونے کا کام
    11. لَّمْ يَذْهَبُوْاوہ نہیں جاتے
    12. حَتّٰىجب تک
    13. يَسْتَاْذِنُوْهُوہ اس سے اجازت لیں
    14. اِنَّبیشک
    15. الَّذِيْنَجو لوگ
    16. يَسْتَاْذِنُوْنَكَاجازت مانگتے ہیں آپ سے
    17. اُولٰٓئِكَیہی لوگ
    18. الَّذِيْنَوہ جو
    19. يُؤْمِنُوْنَایمان لاتے ہیں
    20. بِاللّٰهِاللہ پر
    21. وَرَسُوْلِهٖاور اس کے رسول پر
    22. فَاِذَاپس جب
    23. اسْتَاْذَنُوْكَوہ تم سے اجازت مانگیں
    24. لِبَعْضِکسی کے لیے
    25. شَاْنِهِمْاپنے کام
    26. فَاْذَنْتو اجازت دیدیں
    27. لِّمَنْجس کو
    28. شِئْتَآپ چاہیں
    29. مِنْهُمْان میں سے
    30. وَاسْتَغْفِرْاور بخشش مانگیں
    31. لَهُمُ اللّٰهَان کے لیے اللہ
    32. اِنَّ اللّٰهَبیشک اللہ
    33. غَفُوْرٌبخشنے والا
    34. رَّحِيْمٌنہایت مہربان
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
مومن تو وہ ہیں جو خدا پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور جب کبھی ایسے کام کے لئے جو جمع ہو کر کرنے کا ہو پیغمبر خدا کے پاس جمع ہوں تو ان سے اجازت لئے بغیر چلے نہیں جاتے۔ اے پیغمبر جو لوگ تم سے اجازت حاصل کرتے ہیں وہی خدا پر اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں۔ سو جب یہ لوگ تم سے کسی کام کے لئے اجازت مانگا کریں تو ان میں سے جسے چاہا کرو اجازت دے دیا کرو اور ان کے لئے خدا سے بخششیں مانگا کرو۔ کچھ شک نہیں کہ خدا بخشنے والا مہربان ہے
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
رخصت پر بھی اجازت مانگو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ایک ادب اور بھی سکھاتا ہے کہ جیسے آتے ہوئے اجازت مانگ کر آتے ہو ایسے جانے کے وقت بھی میرے نبی سے اجازت مانگ کر جاؤ۔ خصوصا ایسے وقت جب کہ مجمع ہو اور کسی ضروری امر پر مجلس ہوئی ہو مثلا نماز جمعہ ہے یا نماز عید ہے یا جماعت ہے یا کوئی مجلس شوری ہم تو ایسے موقعوں پر جب تک حضور ﷺ سے اجازت نہ لے لو ہرگز ادھر ادھر نہ جاؤ مومن کامل کی ایک نشانی یہ بھی ہے۔ پھر اپنے نبی ﷺ سے فرمایا کہ جب یہ اپنے کسی ضروری کام کے لئے آپ سے اجازت چاہیں تو آپ ان میں سے جسم چاہیں اجازت دے دیا کریں اور ان کے لئے طلب بخشش کی دعائیں بھی کرتے رہیں۔ ابو داؤد وغیرہ میں ہے جب تم میں سے کوئی کسی مجلس میں جائے تو اہل مجلس کو سلام کرلیا کرے اور جب وہاں سے آنا چاہے تو بھی سلام کر لیاکرے آخری دفعہ کا سلام پہلی مرتبہ کے سلام سے کچھ کم نہیں ہے۔ یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام صاحب نے اسے حسن فرمایا ہے۔