Madarik-ut-Tanzil - Maryam : 50
وَ كَتَبْنَا لَهٗ فِی الْاَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ مَّوْعِظَةً وَّ تَفْصِیْلًا لِّكُلِّ شَیْءٍ١ۚ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَّ اْمُرْ قَوْمَكَ یَاْخُذُوْا بِاَحْسَنِهَا١ؕ سَاُورِیْكُمْ دَارَ الْفٰسِقِیْنَ
وَكَتَبْنَا : اور ہم نے لکھدی لَهٗ : اس کے لیے فِي : میں الْاَلْوَاحِ : تختیاں مِنْ : سے كُلِّ شَيْءٍ : ہر چیز مَّوْعِظَةً : نصیحت وَّتَفْصِيْلًا : اور تفصیل لِّكُلِّ شَيْءٍ : ہر چیز کی فَخُذْهَا : پس تو اسے پکڑ لے بِقُوَّةٍ : قوت سے وَّاْمُرْ : اور حکم دے قَوْمَكَ : اپنی قوم يَاْخُذُوْا : وہ پکڑیں (اختیار کریں) بِاَحْسَنِهَا : اس کی اچھی باتیں سَاُورِيْكُمْ : عنقریب میں تمہیں دکھاؤں گا دَارَ الْفٰسِقِيْنَ : نافرمانوں کا گھر
اور ان کو اپنی رحمت سے (بہت سی چیزیں) عنایت کیں اور ان کا ذکر جمیل بلند کیا
50: وَوَھَبْنَا لَھُمْ مِّنْ رَّحْمَتِنَا (اور ہم نے ان کو اپنی مہربانی سے دیا) یعنی مال اور اولاد وَجَعَلْنَا لَھُمْ لِسَانَ صِدْقٍ (اور ہم نے ان کو سچی زبان دی) لِسَانَ صِدْقٍسے مراد اچھی تعریف ہے اور اس سے مراد ابراہیم (علیہ السلام) اور اٰلِ ابراہیم کیلئے نمازوں میں دعا کرنا ہے اور اس دعا کو لسان سے ہی تعبیر کیا کیونکہ یہ زبان سے ہی ادا ہوتی ہے۔ جیسا کہ ہاتھ سے ہونے والے کاموں کو ید سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ حالانکہ وہ عطیہ ہے۔ عَلِیًّا (بلند اور مشہور ) ۔
Top