Madarik-ut-Tanzil - Al-A'raaf : 90
وَ لَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰۤى اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ وَ لٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ
وَلَوْ : اور اگر اَنَّ : یہ ہوتا کہ اَهْلَ الْقُرٰٓي : بستیوں والے اٰمَنُوْا : ایمان لاتے وَاتَّقَوْا : اور پرہیزگاری کرتے لَفَتَحْنَا : تو البتہ ہم کھول دیتے عَلَيْهِمْ : ان پر بَرَكٰتٍ : برکتیں مِّنَ : سے السَّمَآءِ : آسمان وَالْاَرْضِ : اور زمین وَلٰكِنْ : اور لیکن كَذَّبُوْا : انہوں نے جھٹلایا فَاَخَذْنٰهُمْ : تو ہم نے انہیں پکڑا بِمَا : اس کے نتیجہ میں كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ : جو وہ کرتے تھے
اور ان کی قوم میں سے سردار لوگ جو کافر تھے کہنے لگے بھائیوں اگر تم نے شعیب کی پیروی کی تو بیشک تم خسارے میں پڑگئے
سرداروں کا قوم کو ان کے خلاف بھڑکانا : آیت 90: وَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ قَوْمِہٖ لَپنِ اتَّبَعْتُمْ شُعَیْبًااِنَّکُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ (اور ان کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا اگر تم شعیب کی راہ پر چلنے لگو گے تو بیشک تم بڑا نقصان اٹھائو گے) اس کی اتباع سے بخس و تطفیف کے فوائد سے محروم ہوجائو گے۔ کیونکہ وہ ان سے روکتا ہے۔ اور تمہیں ایفاء اور برابری پر آمادہ کرتا ہے۔ نحو : لئن اتبعتم یہ لام شرط سے شروع ہونے والا قسم کا جواب ہے۔ اور شرط کا جواب انکم اذا لخاسرون ہے۔ اور وہ دونوں جوابوں کے قائم مقام ہے۔
Top