Tafseer-e-Majidi - Al-Ankaboot : 40
اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّ یُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ١ؕ اَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُوْنَ وَ بِنِعْمَةِ اللّٰهِ یَكْفُرُوْنَ
اَوَ : کیا لَمْ يَرَوْا : انہوں نے نہیں دیکھا اَنَّا جَعَلْنَا : کہ ہم نے بنایا حَرَمًا : حرم (سرزمین مکہ) اٰمِنًا : امن کی جگہ وَّ : جبکہ يُتَخَطَّفُ : اچک لیے جاتے ہیں النَّاسُ : لوگ مِنْ : سے (کے) حَوْلِهِمْ ۭ : اس کے ارد گرد اَفَبِالْبَاطِلِ : کیا پس باطل پر يُؤْمِنُوْنَ : ایمان لاتے ہیں وَبِنِعْمَةِ اللّٰهِ : اور اللہ کی نعمت کی يَكْفُرُوْنَ : ناشکری کرتے ہیں
سو ہم نے (ان میں سے) ہر ایک کو اس کے گناہ کی پاداش میں پکڑلیا، سو ان میں سے کسی پر تو ہم نے تند ہوا بھیجی اور ان میں سے کسی کو ہولناک آواز نے آ دبایا،44۔ اور ان میں سے کسی کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور ان میں سے کسی کو ہم نے غرق کردیا اور اللہ ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا البتہ یہ خود اپنے اوپر ظلم کرتے تھے،45۔
44۔ (غرض کسی نہ کسی طریق پر وہ عذاب الہی کی گرفت ہی میں آکر رہے) (آیت) ” من ارسلنا علیہ حاصبا “۔ مثلا قوم عاد پر (آیت) ” من اخذتہ الصیحۃ “۔ مثلا قوم ثمود کو۔ (آیت) ” من خسفنا بہ الارض “۔ مثلا قارون وبیت قارون کو۔ (آیت) ” من اغرقنا “۔ مثلا فرعون اور اس کے لشکر کو۔ 45۔ یعنی یہ خود ہی اپنے مستحق عذاب بناتے اور عذاب الہی کی گرفت میں لاتے رہے۔ (آیت) ” ماکان اللہ لیظلمھم “۔ مطلب یہ ہوا کہ اللہ نے تو ان پر صورۃ بھی ظلم نہیں کیا یعنی یہ کہ انہیں بلاوجہ ظاہری سزادے دیتا۔ واقعۃ وحقیقۃ تو حق تعالیٰ سے ” ظلم “۔ کا صدور کسی حال میں بھی ممکن نہیں۔
Top