Mafhoom-ul-Quran - An-Nisaa : 134
اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ هُوَ خَادِعُهُمْ١ۚ وَ اِذَا قَامُوْۤا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰى١ۙ یُرَآءُوْنَ النَّاسَ وَ لَا یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِیْلًا٘ۙ
اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ : بیشک منافق يُخٰدِعُوْنَ : دھوکہ دیتے ہیں اللّٰهَ : اللہ وَھُوَ : اور وہ خَادِعُھُمْ : انہیں دھوکہ دے گا وَاِذَا : اور جب قَامُوْٓا : کھڑے ہوں اِلَى : طرف (کو) الصَّلٰوةِ : نماز قَامُوْا كُسَالٰى : کھڑے ہوں سستی سے يُرَآءُوْنَ : وہ دکھاتے ہیں النَّاسَ : لوگ وَلَا : اور نہیں يَذْكُرُوْنَ : یاد کرتے اللّٰهَ : اللہ اِلَّا قَلِيْلًا : مگر بہت کم
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، انصاف کے علمبردار اور خدا واسطے کے گواہ بنو اگرچہ تمہارے انصاف اور تمہاری گواہی کی زد خود تمہاری اپنی ذات پر یا تمہارے والدین اور رشتہ داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو فریق معاملہ خواہ مالدار ہو یا غریب، اللہ تم سے زیادہ اُن کا خیر خواہ ہے لہٰذا اپنی خواہش نفس کی پیروی میں عدل سے باز نہ رہو اور اگر تم نے لگی لپٹی بات کہی یا سچائی سے پہلو بچایا تو جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ کو اس کی خبر ہے
[ یٰٓــاَیـُّـہَا الَّذِیْنَ : اے لوگو جو ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ہو ] [ کُوْنُوْا : تم ہو جائو ] [ قَوّٰمِیْنَ : بہت زیادہ نگرانی کرنے والے ] [ بِالْقِسْطِ : انصاف کی ] [ شُہَدَآئَ : (اور) گواہی دینے والے ] [ لِلّٰہِ : اللہ کے لیے ] [ وَلَــوْ : اور اگرچہ (وہ پڑے) ] [ عَلٰٓی اَنْفُسِکُمْ : تمہارے اپنے آپ پر ] [ اَوِالْوَالِدَیْنِ : یا والدین پر ] [ وَالْاَقْرَبِیْنَ : اور قرابت داروں پر ] [ اِنْ یَّــکُنْ : اگر وہ ہوں ] [ غَنِیًّا : مالدار ] [ اَوْ فَقِیْرًا : یا محتاج ] [ فَاللّٰہُ : تو اللہ ] [ اَوْلٰی : زیادہ حمایتی ہے ] [ بِہِمَا : ان دونوں کا ] [ فَلاَ تَتَّبِعُوا : پس تم پیروی مت کرو ] [ الْہَوٰٓی : خواہش کی ] [ اَنْ : کہ ] [ تَعْدِلُوْا : انصاف (نہ) کرو ] [ وَاِنْ : اور اگر ] [ تَلْوٗآ : تم مروڑتے ہو (زبانوں کو) ] [ اَوْ : یا ] [ تُعْرِضُوْا : بےرخی کرتے ہو ] [ فَاِنَّ اللّٰہَ : تو یقینا اللہ ] [ کَانَ : ہے ] [ بِمَا : اس سے جو ] [ تَعْمَلُوْنَ : تم لوگ کرتے ہو ] [ خَبِیْرًا : باخبر ] ترکیب : ” کُوْنُوْا “ کا اسم اس میں ” اَنْتُمْ “ کی ضمیر ہے۔ ” قَوّٰمِیْنَ “ اور ” شُھَدَآئَ “ دونوں اس کی خبر ہیں۔ ” عَلٰی اَنْفُسِکُمْ “ کا مبتدأ اور خبر دونوں محذوف ہیں۔ پورا جملہ کچھ اس طرح ہوتا ” وَلَوْ ھُوَ صَوْبٌ عَلٰی اَنْفُسِکُمْ “۔ ” اَلْوَالِدَیْنِ “ اور ” اَلْاَقْرَبِیْنَ ‘ عَلٰی “ پر عطف ہونے کی وجہ سے حالت جر میں ہیں۔ لفظ ” اَوْلٰی “ افعل تفضیل ہے۔ ” بِھِمَا “ میں تثنیہ کی ضمیر ” اَلْوَالِدَیْنِ “ اور ” اَلْاَقْرَبِیْنَ “ کے لیے ہے۔ ” تَلْوٗ “ کا مفعول ” اَلْسِنَتَکُمْ “ محذوف ہے۔ ” لِلّٰہِ جَمِیْعًا “ میں لفظ ” اَللّٰہ “ پر لام تملیک ہے۔
Top