Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
View Ayah In
Navigate
Surah
1 Al-Faatiha
2 Al-Baqara
3 Aal-i-Imraan
4 An-Nisaa
5 Al-Maaida
6 Al-An'aam
7 Al-A'raaf
8 Al-Anfaal
9 At-Tawba
10 Yunus
11 Hud
12 Yusuf
13 Ar-Ra'd
14 Ibrahim
15 Al-Hijr
16 An-Nahl
17 Al-Israa
18 Al-Kahf
19 Maryam
20 Taa-Haa
21 Al-Anbiyaa
22 Al-Hajj
23 Al-Muminoon
24 An-Noor
25 Al-Furqaan
26 Ash-Shu'araa
27 An-Naml
28 Al-Qasas
29 Al-Ankaboot
30 Ar-Room
31 Luqman
32 As-Sajda
33 Al-Ahzaab
34 Saba
35 Faatir
36 Yaseen
37 As-Saaffaat
38 Saad
39 Az-Zumar
40 Al-Ghaafir
41 Fussilat
42 Ash-Shura
43 Az-Zukhruf
44 Ad-Dukhaan
45 Al-Jaathiya
46 Al-Ahqaf
47 Muhammad
48 Al-Fath
49 Al-Hujuraat
50 Qaaf
51 Adh-Dhaariyat
52 At-Tur
53 An-Najm
54 Al-Qamar
55 Ar-Rahmaan
56 Al-Waaqia
57 Al-Hadid
58 Al-Mujaadila
59 Al-Hashr
60 Al-Mumtahana
61 As-Saff
62 Al-Jumu'a
63 Al-Munaafiqoon
64 At-Taghaabun
65 At-Talaaq
66 At-Tahrim
67 Al-Mulk
68 Al-Qalam
69 Al-Haaqqa
70 Al-Ma'aarij
71 Nooh
72 Al-Jinn
73 Al-Muzzammil
74 Al-Muddaththir
75 Al-Qiyaama
76 Al-Insaan
77 Al-Mursalaat
78 An-Naba
79 An-Naazi'aat
80 Abasa
81 At-Takwir
82 Al-Infitaar
83 Al-Mutaffifin
84 Al-Inshiqaaq
85 Al-Burooj
86 At-Taariq
87 Al-A'laa
88 Al-Ghaashiya
89 Al-Fajr
90 Al-Balad
91 Ash-Shams
92 Al-Lail
93 Ad-Dhuhaa
94 Ash-Sharh
95 At-Tin
96 Al-Alaq
97 Al-Qadr
98 Al-Bayyina
99 Az-Zalzala
100 Al-Aadiyaat
101 Al-Qaari'a
102 At-Takaathur
103 Al-Asr
104 Al-Humaza
105 Al-Fil
106 Quraish
107 Al-Maa'un
108 Al-Kawthar
109 Al-Kaafiroon
110 An-Nasr
111 Al-Masad
112 Al-Ikhlaas
113 Al-Falaq
114 An-Naas
Ayah
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66
67
68
69
70
71
72
73
74
75
76
77
78
79
80
81
82
83
Get Android App
Tafaseer Collection
تفسیر ابنِ کثیر
اردو ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑہی
تفہیم القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی
معارف القرآن
مفتی محمد شفیع
تدبرِ قرآن
مولانا امین احسن اصلاحی
احسن البیان
مولانا صلاح الدین یوسف
آسان قرآن
مفتی محمد تقی عثمانی
فی ظلال القرآن
سید قطب
تفسیرِ عثمانی
مولانا شبیر احمد عثمانی
تفسیر بیان القرآن
ڈاکٹر اسرار احمد
تیسیر القرآن
مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
تفسیرِ ماجدی
مولانا عبد الماجد دریابادی
تفسیرِ جلالین
امام جلال الدین السیوطی
تفسیرِ مظہری
قاضی ثنا اللہ پانی پتی
تفسیر ابن عباس
اردو ترجمہ: حافظ محمد سعید احمد عاطف
تفسیر القرآن الکریم
مولانا عبد السلام بھٹوی
تفسیر تبیان القرآن
مولانا غلام رسول سعیدی
تفسیر القرطبی
ابو عبدالله القرطبي
تفسیر درِ منثور
امام جلال الدین السیوطی
تفسیر مطالعہ قرآن
پروفیسر حافظ احمد یار
تفسیر انوار البیان
مولانا عاشق الٰہی مدنی
معارف القرآن
مولانا محمد ادریس کاندھلوی
جواھر القرآن
مولانا غلام اللہ خان
معالم العرفان
مولانا عبدالحمید سواتی
مفردات القرآن
اردو ترجمہ: مولانا عبدہ فیروزپوری
تفسیرِ حقانی
مولانا محمد عبدالحق حقانی
روح القرآن
ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی
فہم القرآن
میاں محمد جمیل
مدارک التنزیل
اردو ترجمہ: فتح محمد جالندھری
تفسیرِ بغوی
حسین بن مسعود البغوی
احسن التفاسیر
حافظ محمد سید احمد حسن
تفسیرِ سعدی
عبدالرحمٰن ابن ناصر السعدی
احکام القرآن
امام ابوبکر الجصاص
تفسیرِ مدنی
مولانا اسحاق مدنی
مفہوم القرآن
محترمہ رفعت اعجاز
اسرار التنزیل
مولانا محمد اکرم اعوان
اشرف الحواشی
شیخ محمد عبدالفلاح
انوار البیان
محمد علی پی سی ایس
بصیرتِ قرآن
مولانا محمد آصف قاسمی
مظہر القرآن
شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی
تفسیر الکتاب
ڈاکٹر محمد عثمان
سراج البیان
علامہ محمد حنیف ندوی
کشف الرحمٰن
مولانا احمد سعید دہلوی
بیان القرآن
مولانا اشرف علی تھانوی
عروۃ الوثقٰی
علامہ عبدالکریم اسری
معارف القرآن انگلش
مفتی محمد شفیع
تفہیم القرآن انگلش
سید ابو الاعلیٰ مودودی
Mualim-ul-Irfan - Yaseen : 20
وَ جَآءَ مِنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ رَجُلٌ یَّسْعٰى قَالَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِیْنَۙ
وَجَآءَ
: اور آیا
مِنْ
: سے
اَقْصَا
: پرلا سرا
الْمَدِيْنَةِ
: شہر
رَجُلٌ
: ایک آدمی
يَّسْعٰى
: دوڑتا ہوا
قَالَ
: اس نے کہا
يٰقَوْمِ
: اے میری قوم
اتَّبِعُوا
: تم پیروی کرو
الْمُرْسَلِيْنَ
: رسولوں کی
اور آیا شہر کے پرلے کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا ، کہنے لگا اے میری قوم کے لوگو ! پیروی کرو بھیجے ہوئوں کی
مکی سورتوں کے چار بنیادی عقائد میں سے اس رکوع میں رسالت کا مسئلہ بیان ہو رہا ہے۔ گزشتہ درس میں انطاکیہ کی بستی کا ذکر ہوا کہ اس میں اللہ کے بھیجے ہوئے نبی یا عیسیٰ (علیہ السلام) کے فرستادہ مبغلین دین اسلام کی تبلیغ کے لیے آئے تو اہل بستی نے ان کی تکذیب کی ، بدسلوکی کرنے اور ایذا پہنچانے کے علاوہ ان کو طعن بھی کیا کہ تمہاری آمد کی وجہ سے ہم پر نحوست چھا گئی ہے ، ہمارے علاقے میں خشک سالی پیدا ہوگئی ہے اور گھر گھر میں لڑائی جھگڑا شروع ہوگیا ہے۔ رسولوں نے جواب دیا کہ یہ نامبارکی ہماری وجہ سے نہیں ہے بلکہ تم خود ہی حد سے بڑھنے والے ہو۔ جس کی سزا تمہیں مل رہی ہے۔ ایک مومن کی خیر خواہی مرسلین نے اپنی تبلیغ جاری رکھی جس کی وجہ سے اہل بستی مشتعل ہوگئے اور وہ ان کے قتل کے منصوبے بنانے لگے۔ شہر کی دوسری طرف ایک اہل ایمان آدمی رہتا ہے جس کا نام حبیب نجار تھا۔ تفسیری (تفسیر طبری ص 158 ج 22 و قرطبی ص 18 ج 15) اور تاریخی روایات میں آتا ہے کہ پہلے تو یہ شخص بت تراش تھا۔ پھر اس نے مرسلین کی کرامت دیکھی تو اللہ نے اسے ایمان لانے کی توفیق دے دی اور وہ ایمان لے آیا۔ جب اہل بستی مرسلین کو ایذا پہنچاتے تو اس شخص کو بڑی کوفت ہوتی۔ جب اسے پتہ چلا کہ یہ لوگ ان مبلغین یا رسولوں کو قتل کرنے کے درپے ہیں تو اس سے رہا نہ گیا اور اس نے اس معاملہ میں اپنا فرض ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔ اسی بات کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہاں فرمایا وجاء من اقصا المدینۃ رجل یسعی شہر کے پرلے کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اور اس نے اپنی قوم کو سمجھانے کی کوشش کی کہنے گا۔ قال یقوم اتبعوا المرسلین اے میری قوم کے لوگو ! ان فرستادہ شخصیات کی پیروی کرو۔ یہ تمہیں غلط راستے سے ہٹا کر صحیح راستے پر لانا چاہتے ہیں ، کفر و شرک کے اندھیروں سے نکال کر توحید کی روشنی میں لانا چاہتے ہیں۔ وہ تمہارے ساتھ خیر خواہی کا سلو کر رہے ہیں تاکہ تم آخرت کے دائمی عذاب سے بچ جائو۔ اس شخص نے یہ بھی کہا اتبعوا من لا یسئلکم اجزا تم ان کا اتباع کرو جو تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتے۔ وہ تمہاری خیر خواہی میں مخلص ہیں۔ وہ تمہاری بےلوث خدمت کر رہے ہیں ، لہٰذا ان کی بات مان لو کیونکہ وھم مھتدون خود بھی ہدایت یافتہ ہیں اور تمہیں بھی ہدایت کی راہ پر چلانا چاہتے ہیں۔ توحید کی استقامت پھر اس شخص نے توحید پر اپنی استقامت کا اس طرح اظہار کیا۔ ومالی لا اعبد الذی فطرنی اور کیا ہے مجھے کہ میں اس ذات کی عبادت نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا ہے۔ یہاں اس مومن آدمی نے اللہ کی صفت فطور کا ذکر کیا ہے یعنی وہ اللہ جس نے مجھے ہستی بخشی ہے۔ میں ضرور اسی کی عبادت کروں گا کیونکہ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ پھر ساتھ ساتھ اپنے مخاطبین کو تنبیہہ بھی کی والیہ ترجعون تم سب نے اسی خدائے وحدہ لا شریک کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ مرنے کے بعد تم کو اسی کے سامنے حاضر ہو کر اپنے عقائد و اعمال کی جوابدہی کرنا ہے۔ مطلب یہ کہ جس طرح میں خالص اسی کی عبادت کرتا ہوں۔ اسی طرح تم بھی کفر اور شرک کو چھوڑ کر صرف خدائے وحدہ لا شریک کے بندے بن جائو۔ اس کے بعد اس شخص نے شرک کی تردید اس انداز میں کی اتخذ من دونہ الھۃ کیا میں اس ایک خدا کو چھوڑ کر دوسروں کو معبود بنالوں ؟ ان معبودان باطلہ کی حالت تو یہ ہے ان یردن الرحمن بضر کہ اگر خدائے رحمان کسی تکلیف میں مبتلا کرنا چاہے لا تغن عنی شفاعتھم شیا تو ان معبودوں کی سفارش مجھے کچھ فائدہ نہیں دے سکتی۔ یہ تو بےاختیار اور عاجز ہستیاں ہیں ولاینقذون اور نہ ہی یہ مجھے کسی مصیبت سے نجات دلاسکتے ہیں۔ کسی میں اتنی طاقت نہیں کہ خدا تعالیٰ کی بھیجی ہوئی تکلیف کو دور کرسکے۔ اگر میں ایسی ہستیوں کی عبادت کروں گا تو یہ حماقت والی بات ہوگی۔ ایسی صورت میں انی اذا لفی ضلل مبین بلاشبہ میں کھلی گمراہی میں جاپڑوں گا اس سے زیادہ کون سی گمراہی ہوگی کہ انسان خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر دوسرے سے حاجت روائی اور مشکل کشائی کراتا پھر یخ ان کی نذر و نیاز دے اور ان کی ایسی تعظیم کرے جو اللہ وحدہ لاشریک کے لیے مختص ہے۔ غرضیکہ اس مرد مومن نے عقلی انداز میں لوگوں کو توحید کے اثبات اور شرزک کے رد کی بات بتلائی۔ پھر کہنے لگا انی امنت بربکم میں تو تمہارے پروردگار پر ایمان لایا ہوں۔ پہلے اللہ کی صفت فطور کا ذکر کیا تھا۔ اب ربوبیت کی بات کی۔ گویا پیدا کرنے والا بھی وہی ہے اور ہر چیز کو بتدریج حد کمال تک پہنچانے والی ذات بھی وہی ہے۔ میں اسی خداوند قدوس پر ایمان لایا ہوں جو ان صفات کا حامل ہے۔ فاسمعون تم بھی اس بات کو اچھی طرح سن لو۔ میں یہ بات چھپ کر نہیں کر رہا ہوں بلکہ علی الاعلان کہتا ہوں کہ میں خود خدائے رحمان پر ایمان لاچکا ہوں اور تمہیں بھی یہی دعوت دیتا ہوں کہ ان خود ساختہ معبودوں کو چھوڑ کر ان مرسلین کے رب پر ایمان لے آئو ، اسی میں تمہاری نجات ہے۔ وہ ناہنجار قوم اس مرد مومن کی نصیحت پر تو کیا عمل کرتی ، وہ اس شخص کے بھی اسی طرح مخالف ہوگئے جس طرح وہ مرسلین کے مخالف تھے بلکہ اس شخص کے ساتھ ان سے بھی زیادہ ضد اور عناد کا مظاہرہ کرنے لگے چناچہ انہوں نے اس ایماندار شخص کو قتل کردیا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی روایت (تفسیر ابن کثیر ص 568 ج 3) میں آتا ہے کہ قوم نے اس شخص کو پائوں کے نیچے اس قدر روندا کہ اس بیچارے کی آتیں پیٹ سے باہر نکل آئیں اور وہ شہید ہوگیا۔ مفسر وہب (رح) کا بیان (ابن کثیر ص 568 ج 3 و معالم التنزیل ص 202 ج 3) ہے کہ جب وہ ظالم اس اہل ایمان کو ایذائیں دے رہے تھے تو وہ ان کے حق میں ہدایت کی دعائیں کر رہا تھا۔ یہ شخص بڑا ہی نیک اور عبادت گزار تھا۔ کہتے ہیں کہ دن بھر جو کچھ کما کر لاتا شام کو اسے دو حصوں میں تقسیم کردیتا۔ ایک حصہ بال بچوں کے حوالہ کرتا اور دوسرا محتاجوں میں تقسیم کردیتا۔ مسیح (علیہ السلام) کی امت کے اس شخص کی استقامت ایمان کی مثالیں امت محمدیہ میں بھی ملتی ہیں۔ مسلیمہ کذاب نے حضور ﷺ کے زمانہ میں ہی نبوت کا دعویٰ کیا تھا اور پھر اس کے ساتھ فیصلہ کن معرز کہ بھی پیش آیا۔ اس داعی نبوت کی گرفت میں کسی طرح دو ایماندار آدمی آگئے ، جن میں ایک (طبری ص 159 ج 22 و ابن کثیر ص 569 ج 3) کا نام حبیب ابن زید تھا۔ مسلیمہ کذاب نے اس سے پوچھا کیا تم گواہی دیتے ہو کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں تو اس نے کہا ہاں ، پھر اس نے کہا کیا تم گواہی دیتے ہو کہ مسلیمہ کذاب بھی اللہ کا رسول ہے تو وہ شخص کہنے لگا کہ تمہاری یہ بات مجھے سنائی ہی نہیں دیتی۔ مسلیمہ نے اس سے اپنے حق میں گواہی لینے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا مگر وہ یہی کہتا تھا کہ محمد ﷺ کی رسالت کی گواہی تو دیتا ہوں مگر دوسری بات میری سماعت میں ہی نہیں آتی۔ اس پر مسلیمہ سخت طیش میں آگیا اور اس نے اس مرد مومن کا ایک ایک عضو کاٹ کر اس کو ہلاک کردیا مگر وہ شخص اپنے ایمان پر پکا رہا۔ اسی طرح طائف میں قبیلہ ثقیف کے سردار حضرت عروہ بن مسعود ؓ ثقفی حضور ﷺ کے صحابی ہیں۔ آپ نے ان کے متعلق فرمایا کہ ان کی شکل و شباہت حضرت مسیح ابن مریم (علیہا السلام) کے ساتھ ملتی جلتی ہے۔ جب یہ حضور (ابن کثیر ص 568 ج 3) کی خدمت میں حاضر ہو کر ایمان لائے تو عرض کیا ، حضور ! مجھے اجازت دیں کہ میں واپس اپنے قبیلے میں جا کر ان کو تبلیغ اسلام کروں۔ آپ نے فرمایا کہ لوگ تمہاری مخالفت کریں گے ، تو وہ کہنے لگا کہ میں اپنی قوم کا سردار ہوں وہ میرا بڑا احترام کرتے ہیں حتی کہ جب میں سو رہا ہوتا ہوں تو کوئی آدمی مجھے جگانے کی جرات نہیں کرتا۔ بہرحال وہ صحابی آپ سے اجازت لے کر قوم کے پاس گیا اور ان سے کہا کہ لات و منات اور عزیٰ کو چھوڑ کر حضور ﷺ کی رسالت کو تسلیم کرلو اور اللہ وحدہ لا شریک پر ایمان لے آئو ، اتنی بات تھی کہ قوم دشمن ہوگئی حتی کہ جب آپ نماز کے لیے اذان دیتے وقت شہادت کے کلمات ادا کر رہے تھے تو ایک بدبخت نے تیر مار کر ہلاک کردیا۔ یہ بھی حبیب نجار (رح) کے ساتھ ملتا جلتا واقعہ ہے۔ ان آیات میں اس مرد مومن کی ہلاکت کا ذکر تو نہیں کیا گیا بلکہ ان کی طرف سے قوم کو وعظ کرنے کے ذکر کے بعد فرمایا قیل ادخل الجنۃ اس شخص سے کہا گیا کہ جنت میں داخل ہو جائو۔ ظاہر ہے کہ جنت کا داخلہ تو موت کے بعد ہی ممکن ہے جنت میں داخلے کی دو صورتیں ہیں۔ قیامت کے بعد حشر و نشر اور حساب کتاب ہونے کے بعد تو جنت کا داخلہ بالکل قابل فہم ہے۔ البتہ مرنے کے فوراً بعد جنت میں داخلہ بھی اس لحاظ سے قابل فہم ہے کہ انسان عالم برزخ میں تو پہنچ ہی جاتا ہے اور وہاں بھی ابتدائی سوال و جواب کے بعد اس کے لیے یا تو جنت کی کھڑکی کھول دی جاتی ہے اور اسے راحت محسوس ہونے لگتی ہے یا اگر وہ کفر ، شرک یامعاصی کا مرتکب ہے تو اسے دوزخ کی تکلیف محسوس ہونے لگتی ہے تو بہرحال جنت سے مراد برزخ میں جنت کا احساس بھی ہوسکتا ہے۔ اس شخص کی مرنے کے بعد بھی یہی حسرت تھی قال یلیت قومی یعلمون کاش کہ میری قوم کو علم ہوجاتا بما عفرلی ربی کہ میرے پرزوردگار نے مجھے بخش دیا ہے وجعلنی من المکرمین اور مجھے باعزت لوگوں میں شامل کردیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اللہ کے نزدیک عزت والے وہی لوگ ہیں جن کو اس نے جنت کا ٹکٹ دیدیا ہے اور وہ کامیاب ہوگئے ہیں ، کہنے لگا ، کاش میری قوم کے لوگوں کو میری کامیابی کا پتہ چلتا تو وہ ایسی ظالمانہ حرکتیں نہ کرتے اور کفر اور شرک کی بجائے توحید کو اختیار کرلیتے۔ الغرض اس اللہ کے بندے نے عالم برزخ میں بھی قوم کے ساتھ خیر خواہی کا اظہار ہی کیا۔ ظالم قوم کی ہلاکت آگے اللہ تعالیٰ نے اس ظالم قوم کی ہلاکت کا حال بیان کیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے وما نزلنا علی قومہ من بعدہ من جند من السماء ہم نے اس ظالم قوم پر آسمان سے کوئی لشکر نہیں بھیجا جو انہیں ہلاک کرتا وما کنا منزلین اور نہ ہی ہم ایسا کوئی لشکر اتارنے والے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ اس نافرمان قوم کی ہلاکت کے لیے کسی فوج کی ضرورت نہ تھی بلکہ اس کام کمے لیے ان کانت الا صیحۃ واحدۃ ایک چیخ ہی کافی تھی جو ہم نے بھیج دی فاذاھم خامدون پس اچانک وہ بجھنے والے ہوگئے یعنی وہ اسی طرح صفحہ ہستی سے ملیا میٹ ہوئے جس طرح دہکتے ہوئے کوئلوں پر پانی ڈال دیا جائے تو وہ بجھ جاتے ہیں۔ مفسرین (ابن کثیر ص 569 ج 3) کرام فرماتے ہیں کہ اللہ نے ایک فرشتے کو بھیجا جس نے شہر کے دروازے پر ہاتھ رکھ کر ایسی چیخ ماری کہ سب اہل بستی کے دل پھٹ گئے اور وہ ہلاک ہوگئے۔ آگے فرمایا یحسرۃ علی العباد بندوں کی حالت پر افسوس ہے مایاتیھم من رسول الا کانوا بہ یستھزون کہ جب بھی ان کے پاس اللہ کا کوئی رسول آیا۔ انہوں نے اس کے ساتھ ٹھٹھا ہی کیا۔ انہوں نے اللہ کے نبیوں کی دعوت پر نہ تو غور کیا اور نہ انہیں تسلیم کیا۔ اگلی آیت میں روئے سخن نزول قرآن کے زمانے کے مشرکین کی طرف ہوتا ہے اور یہی بات ہر زمانے کے لوگوں کے لیے بھی باعث عبرت ہے۔ الم یرواکم اھلکنا قبلھم من القرون کیا ان لوگوں نے نہیں دیکھا کہ ان سے پہلے ہم نے کتنی جماعتوں کو ہلاک کیا۔ الھم الھم لایرجعون بیشک وہ ان کی طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے ، وہ تباہ و برباد ہوگئے ، اس دنیا سے ختم ہوگئے۔ اب وہ کہاں واپس آئیں گے۔ فرمایا وان کل لما جمیع لدنیا محضرون اور نہیں کوئی مگر سب کے سب ہمارے سامنے حاضر کیے جائیں گے ، ہر شخص کو ہمارے سامنے پیش ہونا ہے۔ وہاں سب کے متعلق جزا اور سزا کے فیصلے ہوں گے اور مجرم بچ نہیں سکیں گے۔ یہ ترغیب دلائی جارہی ہے کہ کفر و شرک کو چھوڑ کر ایمان قبول کرلو ، ورنہ تمہارا حشر بھی پہلی قوموں سے مختلف نہیں ہوگا۔
Top