Mualim-ul-Irfan - Yaseen : 20
وَ جَآءَ مِنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ رَجُلٌ یَّسْعٰى قَالَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِیْنَۙ
وَجَآءَ : اور آیا مِنْ : سے اَقْصَا : پرلا سرا الْمَدِيْنَةِ : شہر رَجُلٌ : ایک آدمی يَّسْعٰى : دوڑتا ہوا قَالَ : اس نے کہا يٰقَوْمِ : اے میری قوم اتَّبِعُوا : تم پیروی کرو الْمُرْسَلِيْنَ : رسولوں کی
اور آیا شہر کے پرلے کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا ، کہنے لگا اے میری قوم کے لوگو ! پیروی کرو بھیجے ہوئوں کی
مکی سورتوں کے چار بنیادی عقائد میں سے اس رکوع میں رسالت کا مسئلہ بیان ہو رہا ہے۔ گزشتہ درس میں انطاکیہ کی بستی کا ذکر ہوا کہ اس میں اللہ کے بھیجے ہوئے نبی یا عیسیٰ (علیہ السلام) کے فرستادہ مبغلین دین اسلام کی تبلیغ کے لیے آئے تو اہل بستی نے ان کی تکذیب کی ، بدسلوکی کرنے اور ایذا پہنچانے کے علاوہ ان کو طعن بھی کیا کہ تمہاری آمد کی وجہ سے ہم پر نحوست چھا گئی ہے ، ہمارے علاقے میں خشک سالی پیدا ہوگئی ہے اور گھر گھر میں لڑائی جھگڑا شروع ہوگیا ہے۔ رسولوں نے جواب دیا کہ یہ نامبارکی ہماری وجہ سے نہیں ہے بلکہ تم خود ہی حد سے بڑھنے والے ہو۔ جس کی سزا تمہیں مل رہی ہے۔ ایک مومن کی خیر خواہی مرسلین نے اپنی تبلیغ جاری رکھی جس کی وجہ سے اہل بستی مشتعل ہوگئے اور وہ ان کے قتل کے منصوبے بنانے لگے۔ شہر کی دوسری طرف ایک اہل ایمان آدمی رہتا ہے جس کا نام حبیب نجار تھا۔ تفسیری (تفسیر طبری ص 158 ج 22 و قرطبی ص 18 ج 15) اور تاریخی روایات میں آتا ہے کہ پہلے تو یہ شخص بت تراش تھا۔ پھر اس نے مرسلین کی کرامت دیکھی تو اللہ نے اسے ایمان لانے کی توفیق دے دی اور وہ ایمان لے آیا۔ جب اہل بستی مرسلین کو ایذا پہنچاتے تو اس شخص کو بڑی کوفت ہوتی۔ جب اسے پتہ چلا کہ یہ لوگ ان مبلغین یا رسولوں کو قتل کرنے کے درپے ہیں تو اس سے رہا نہ گیا اور اس نے اس معاملہ میں اپنا فرض ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔ اسی بات کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہاں فرمایا وجاء من اقصا المدینۃ رجل یسعی شہر کے پرلے کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اور اس نے اپنی قوم کو سمجھانے کی کوشش کی کہنے گا۔ قال یقوم اتبعوا المرسلین اے میری قوم کے لوگو ! ان فرستادہ شخصیات کی پیروی کرو۔ یہ تمہیں غلط راستے سے ہٹا کر صحیح راستے پر لانا چاہتے ہیں ، کفر و شرک کے اندھیروں سے نکال کر توحید کی روشنی میں لانا چاہتے ہیں۔ وہ تمہارے ساتھ خیر خواہی کا سلو کر رہے ہیں تاکہ تم آخرت کے دائمی عذاب سے بچ جائو۔ اس شخص نے یہ بھی کہا اتبعوا من لا یسئلکم اجزا تم ان کا اتباع کرو جو تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتے۔ وہ تمہاری خیر خواہی میں مخلص ہیں۔ وہ تمہاری بےلوث خدمت کر رہے ہیں ، لہٰذا ان کی بات مان لو کیونکہ وھم مھتدون خود بھی ہدایت یافتہ ہیں اور تمہیں بھی ہدایت کی راہ پر چلانا چاہتے ہیں۔ توحید کی استقامت پھر اس شخص نے توحید پر اپنی استقامت کا اس طرح اظہار کیا۔ ومالی لا اعبد الذی فطرنی اور کیا ہے مجھے کہ میں اس ذات کی عبادت نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا ہے۔ یہاں اس مومن آدمی نے اللہ کی صفت فطور کا ذکر کیا ہے یعنی وہ اللہ جس نے مجھے ہستی بخشی ہے۔ میں ضرور اسی کی عبادت کروں گا کیونکہ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ پھر ساتھ ساتھ اپنے مخاطبین کو تنبیہہ بھی کی والیہ ترجعون تم سب نے اسی خدائے وحدہ لا شریک کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ مرنے کے بعد تم کو اسی کے سامنے حاضر ہو کر اپنے عقائد و اعمال کی جوابدہی کرنا ہے۔ مطلب یہ کہ جس طرح میں خالص اسی کی عبادت کرتا ہوں۔ اسی طرح تم بھی کفر اور شرک کو چھوڑ کر صرف خدائے وحدہ لا شریک کے بندے بن جائو۔ اس کے بعد اس شخص نے شرک کی تردید اس انداز میں کی اتخذ من دونہ الھۃ کیا میں اس ایک خدا کو چھوڑ کر دوسروں کو معبود بنالوں ؟ ان معبودان باطلہ کی حالت تو یہ ہے ان یردن الرحمن بضر کہ اگر خدائے رحمان کسی تکلیف میں مبتلا کرنا چاہے لا تغن عنی شفاعتھم شیا تو ان معبودوں کی سفارش مجھے کچھ فائدہ نہیں دے سکتی۔ یہ تو بےاختیار اور عاجز ہستیاں ہیں ولاینقذون اور نہ ہی یہ مجھے کسی مصیبت سے نجات دلاسکتے ہیں۔ کسی میں اتنی طاقت نہیں کہ خدا تعالیٰ کی بھیجی ہوئی تکلیف کو دور کرسکے۔ اگر میں ایسی ہستیوں کی عبادت کروں گا تو یہ حماقت والی بات ہوگی۔ ایسی صورت میں انی اذا لفی ضلل مبین بلاشبہ میں کھلی گمراہی میں جاپڑوں گا اس سے زیادہ کون سی گمراہی ہوگی کہ انسان خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر دوسرے سے حاجت روائی اور مشکل کشائی کراتا پھر یخ ان کی نذر و نیاز دے اور ان کی ایسی تعظیم کرے جو اللہ وحدہ لاشریک کے لیے مختص ہے۔ غرضیکہ اس مرد مومن نے عقلی انداز میں لوگوں کو توحید کے اثبات اور شرزک کے رد کی بات بتلائی۔ پھر کہنے لگا انی امنت بربکم میں تو تمہارے پروردگار پر ایمان لایا ہوں۔ پہلے اللہ کی صفت فطور کا ذکر کیا تھا۔ اب ربوبیت کی بات کی۔ گویا پیدا کرنے والا بھی وہی ہے اور ہر چیز کو بتدریج حد کمال تک پہنچانے والی ذات بھی وہی ہے۔ میں اسی خداوند قدوس پر ایمان لایا ہوں جو ان صفات کا حامل ہے۔ فاسمعون تم بھی اس بات کو اچھی طرح سن لو۔ میں یہ بات چھپ کر نہیں کر رہا ہوں بلکہ علی الاعلان کہتا ہوں کہ میں خود خدائے رحمان پر ایمان لاچکا ہوں اور تمہیں بھی یہی دعوت دیتا ہوں کہ ان خود ساختہ معبودوں کو چھوڑ کر ان مرسلین کے رب پر ایمان لے آئو ، اسی میں تمہاری نجات ہے۔ وہ ناہنجار قوم اس مرد مومن کی نصیحت پر تو کیا عمل کرتی ، وہ اس شخص کے بھی اسی طرح مخالف ہوگئے جس طرح وہ مرسلین کے مخالف تھے بلکہ اس شخص کے ساتھ ان سے بھی زیادہ ضد اور عناد کا مظاہرہ کرنے لگے چناچہ انہوں نے اس ایماندار شخص کو قتل کردیا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی روایت (تفسیر ابن کثیر ص 568 ج 3) میں آتا ہے کہ قوم نے اس شخص کو پائوں کے نیچے اس قدر روندا کہ اس بیچارے کی آتیں پیٹ سے باہر نکل آئیں اور وہ شہید ہوگیا۔ مفسر وہب (رح) کا بیان (ابن کثیر ص 568 ج 3 و معالم التنزیل ص 202 ج 3) ہے کہ جب وہ ظالم اس اہل ایمان کو ایذائیں دے رہے تھے تو وہ ان کے حق میں ہدایت کی دعائیں کر رہا تھا۔ یہ شخص بڑا ہی نیک اور عبادت گزار تھا۔ کہتے ہیں کہ دن بھر جو کچھ کما کر لاتا شام کو اسے دو حصوں میں تقسیم کردیتا۔ ایک حصہ بال بچوں کے حوالہ کرتا اور دوسرا محتاجوں میں تقسیم کردیتا۔ مسیح (علیہ السلام) کی امت کے اس شخص کی استقامت ایمان کی مثالیں امت محمدیہ میں بھی ملتی ہیں۔ مسلیمہ کذاب نے حضور ﷺ کے زمانہ میں ہی نبوت کا دعویٰ کیا تھا اور پھر اس کے ساتھ فیصلہ کن معرز کہ بھی پیش آیا۔ اس داعی نبوت کی گرفت میں کسی طرح دو ایماندار آدمی آگئے ، جن میں ایک (طبری ص 159 ج 22 و ابن کثیر ص 569 ج 3) کا نام حبیب ابن زید تھا۔ مسلیمہ کذاب نے اس سے پوچھا کیا تم گواہی دیتے ہو کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں تو اس نے کہا ہاں ، پھر اس نے کہا کیا تم گواہی دیتے ہو کہ مسلیمہ کذاب بھی اللہ کا رسول ہے تو وہ شخص کہنے لگا کہ تمہاری یہ بات مجھے سنائی ہی نہیں دیتی۔ مسلیمہ نے اس سے اپنے حق میں گواہی لینے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا مگر وہ یہی کہتا تھا کہ محمد ﷺ کی رسالت کی گواہی تو دیتا ہوں مگر دوسری بات میری سماعت میں ہی نہیں آتی۔ اس پر مسلیمہ سخت طیش میں آگیا اور اس نے اس مرد مومن کا ایک ایک عضو کاٹ کر اس کو ہلاک کردیا مگر وہ شخص اپنے ایمان پر پکا رہا۔ اسی طرح طائف میں قبیلہ ثقیف کے سردار حضرت عروہ بن مسعود ؓ ثقفی حضور ﷺ کے صحابی ہیں۔ آپ نے ان کے متعلق فرمایا کہ ان کی شکل و شباہت حضرت مسیح ابن مریم (علیہا السلام) کے ساتھ ملتی جلتی ہے۔ جب یہ حضور (ابن کثیر ص 568 ج 3) کی خدمت میں حاضر ہو کر ایمان لائے تو عرض کیا ، حضور ! مجھے اجازت دیں کہ میں واپس اپنے قبیلے میں جا کر ان کو تبلیغ اسلام کروں۔ آپ نے فرمایا کہ لوگ تمہاری مخالفت کریں گے ، تو وہ کہنے لگا کہ میں اپنی قوم کا سردار ہوں وہ میرا بڑا احترام کرتے ہیں حتی کہ جب میں سو رہا ہوتا ہوں تو کوئی آدمی مجھے جگانے کی جرات نہیں کرتا۔ بہرحال وہ صحابی آپ سے اجازت لے کر قوم کے پاس گیا اور ان سے کہا کہ لات و منات اور عزیٰ کو چھوڑ کر حضور ﷺ کی رسالت کو تسلیم کرلو اور اللہ وحدہ لا شریک پر ایمان لے آئو ، اتنی بات تھی کہ قوم دشمن ہوگئی حتی کہ جب آپ نماز کے لیے اذان دیتے وقت شہادت کے کلمات ادا کر رہے تھے تو ایک بدبخت نے تیر مار کر ہلاک کردیا۔ یہ بھی حبیب نجار (رح) کے ساتھ ملتا جلتا واقعہ ہے۔ ان آیات میں اس مرد مومن کی ہلاکت کا ذکر تو نہیں کیا گیا بلکہ ان کی طرف سے قوم کو وعظ کرنے کے ذکر کے بعد فرمایا قیل ادخل الجنۃ اس شخص سے کہا گیا کہ جنت میں داخل ہو جائو۔ ظاہر ہے کہ جنت کا داخلہ تو موت کے بعد ہی ممکن ہے جنت میں داخلے کی دو صورتیں ہیں۔ قیامت کے بعد حشر و نشر اور حساب کتاب ہونے کے بعد تو جنت کا داخلہ بالکل قابل فہم ہے۔ البتہ مرنے کے فوراً بعد جنت میں داخلہ بھی اس لحاظ سے قابل فہم ہے کہ انسان عالم برزخ میں تو پہنچ ہی جاتا ہے اور وہاں بھی ابتدائی سوال و جواب کے بعد اس کے لیے یا تو جنت کی کھڑکی کھول دی جاتی ہے اور اسے راحت محسوس ہونے لگتی ہے یا اگر وہ کفر ، شرک یامعاصی کا مرتکب ہے تو اسے دوزخ کی تکلیف محسوس ہونے لگتی ہے تو بہرحال جنت سے مراد برزخ میں جنت کا احساس بھی ہوسکتا ہے۔ اس شخص کی مرنے کے بعد بھی یہی حسرت تھی قال یلیت قومی یعلمون کاش کہ میری قوم کو علم ہوجاتا بما عفرلی ربی کہ میرے پرزوردگار نے مجھے بخش دیا ہے وجعلنی من المکرمین اور مجھے باعزت لوگوں میں شامل کردیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اللہ کے نزدیک عزت والے وہی لوگ ہیں جن کو اس نے جنت کا ٹکٹ دیدیا ہے اور وہ کامیاب ہوگئے ہیں ، کہنے لگا ، کاش میری قوم کے لوگوں کو میری کامیابی کا پتہ چلتا تو وہ ایسی ظالمانہ حرکتیں نہ کرتے اور کفر اور شرک کی بجائے توحید کو اختیار کرلیتے۔ الغرض اس اللہ کے بندے نے عالم برزخ میں بھی قوم کے ساتھ خیر خواہی کا اظہار ہی کیا۔ ظالم قوم کی ہلاکت آگے اللہ تعالیٰ نے اس ظالم قوم کی ہلاکت کا حال بیان کیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے وما نزلنا علی قومہ من بعدہ من جند من السماء ہم نے اس ظالم قوم پر آسمان سے کوئی لشکر نہیں بھیجا جو انہیں ہلاک کرتا وما کنا منزلین اور نہ ہی ہم ایسا کوئی لشکر اتارنے والے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ اس نافرمان قوم کی ہلاکت کے لیے کسی فوج کی ضرورت نہ تھی بلکہ اس کام کمے لیے ان کانت الا صیحۃ واحدۃ ایک چیخ ہی کافی تھی جو ہم نے بھیج دی فاذاھم خامدون پس اچانک وہ بجھنے والے ہوگئے یعنی وہ اسی طرح صفحہ ہستی سے ملیا میٹ ہوئے جس طرح دہکتے ہوئے کوئلوں پر پانی ڈال دیا جائے تو وہ بجھ جاتے ہیں۔ مفسرین (ابن کثیر ص 569 ج 3) کرام فرماتے ہیں کہ اللہ نے ایک فرشتے کو بھیجا جس نے شہر کے دروازے پر ہاتھ رکھ کر ایسی چیخ ماری کہ سب اہل بستی کے دل پھٹ گئے اور وہ ہلاک ہوگئے۔ آگے فرمایا یحسرۃ علی العباد بندوں کی حالت پر افسوس ہے مایاتیھم من رسول الا کانوا بہ یستھزون کہ جب بھی ان کے پاس اللہ کا کوئی رسول آیا۔ انہوں نے اس کے ساتھ ٹھٹھا ہی کیا۔ انہوں نے اللہ کے نبیوں کی دعوت پر نہ تو غور کیا اور نہ انہیں تسلیم کیا۔ اگلی آیت میں روئے سخن نزول قرآن کے زمانے کے مشرکین کی طرف ہوتا ہے اور یہی بات ہر زمانے کے لوگوں کے لیے بھی باعث عبرت ہے۔ الم یرواکم اھلکنا قبلھم من القرون کیا ان لوگوں نے نہیں دیکھا کہ ان سے پہلے ہم نے کتنی جماعتوں کو ہلاک کیا۔ الھم الھم لایرجعون بیشک وہ ان کی طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے ، وہ تباہ و برباد ہوگئے ، اس دنیا سے ختم ہوگئے۔ اب وہ کہاں واپس آئیں گے۔ فرمایا وان کل لما جمیع لدنیا محضرون اور نہیں کوئی مگر سب کے سب ہمارے سامنے حاضر کیے جائیں گے ، ہر شخص کو ہمارے سامنے پیش ہونا ہے۔ وہاں سب کے متعلق جزا اور سزا کے فیصلے ہوں گے اور مجرم بچ نہیں سکیں گے۔ یہ ترغیب دلائی جارہی ہے کہ کفر و شرک کو چھوڑ کر ایمان قبول کرلو ، ورنہ تمہارا حشر بھی پہلی قوموں سے مختلف نہیں ہوگا۔
Top