Tafseer-e-Usmani - Al-Baqara : 27
الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ١۪ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ
الَّذِیْنَ : جو لوگ يَنْقُضُوْنَ : توڑتے ہیں عَهْدَ اللہِ : اللہ کا وعدہ مِنْ بَعْدِ : سے۔ بعد مِیْثَاقِهِ : پختہ اقرار وَيَقْطَعُوْنَ : اور کاٹتے ہیں مَا۔ اَمَرَ : جس۔ حکم دیا اللّٰهُ : اللہ بِهٖ : اس سے اَنْ يُوْصَلَ : کہ وہ جوڑے رکھیں وَيُفْسِدُوْنَ : اور وہ فساد کرتے ہیں فِي : میں الْاَرْضِ : زمین أُوْلَٰئِکَ : وہی لوگ هُمُ : وہ الْخَاسِرُوْنَ : نقصان اٹھانے والے ہیں
بیشک جو لوگ کافر ہوچکے برابر ہے ان کو تو ڈرائے یا نہ ڈرائے وہ ایمان نہ لائیں گے2
2  ان کفار سے خاص وہ لوگ مراد ہیں جن کے لئے کفر مقرر ہوچکا اور دولت ایمان سے ہمیشہ کے لئے محروم کردیئے گئے (جیسے ابو جہل ابو لہب وغیرہ) ورنہ ظاہر ہے کہ بہت سے لوگ جو کافر تھے مشرف با اسلام ہوئے اور ہوتے رہتے ہیں۔
Top