Al-Qurtubi - Yaseen : 20
وَ جَآءَ مِنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ رَجُلٌ یَّسْعٰى قَالَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِیْنَۙ
وَجَآءَ : اور آیا مِنْ : سے اَقْصَا : پرلا سرا الْمَدِيْنَةِ : شہر رَجُلٌ : ایک آدمی يَّسْعٰى : دوڑتا ہوا قَالَ : اس نے کہا يٰقَوْمِ : اے میری قوم اتَّبِعُوا : تم پیروی کرو الْمُرْسَلِيْنَ : رسولوں کی
اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا کہنے لگا کہ اے میری قوم پیغمبروں کے پیچھے چلو
رجل سے مراد حبیب بن مری ہے وہ بڑھئی تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا : وہ اسکاف) جوتا ( بنانے والا تھا۔ ایک قول کیا گیا۔ وہ دھوبی تھا۔ حضرت ابن عباس ‘ مجاد اور مقاتل نے کہا۔ وہ حبیب بن اسمائیل نجاز تھا وہ بت تراشا کرتا تھا یہ نبی کریم ﷺ پر ایمان لایا جب کہ درمیان میں چھ سو سال کا عرصہ ہے جس طرح تعہ اکبر ورقہ بن نوفل اور دوسرے لوگ ایمان لائے کوئی فرد کسی نبی پر ایمان نہیں لایا تھا ‘ مگر اس وقت جب وہ نبی ظاہر ہوچکا تھا (1) ۔ وہب نے کہا ’ حبیب کو جزام کا مرض تھا اس کا گھر شہر کے دروازوں میں سے آخری دروازے کے پاس تھا وہ ستر سال تک بتوں کی عبادت میں مصروف رہا اور دعا کرتا رہا ممکن ہے وہ بت اس پر رحم کریں اور اس کی تکلیف رفع کردیں تو بتوں نے اس کی کوئی دعا قبول نہ کی۔ جب قاصدوں نے اسے دیکھا تو اے اللہ کی طرف دعوت دی تو اس نے پوچھا : کوئی نشانی بھی ہے ؟ انہوں نے کہا : ہاں ہم قادر رب کی بارگاہ میں دعا کرتے ہیں تو جو تکلیف تجھے لاحق ہے اللہ تعالیٰ اسے تجھ سے دور کر دے گا پوچھا : وہ ایک دن میں کیسے اس تکلیف کو دور فرمائے گا ؟ انہوں نے کہا : ہاں ہمارا رب جو چاہتا ہے اس پر قادر ہے ‘ یہ بت تو نہ کسی کو نفع پہنچا سکتے ہیں اور نہ ہی نقصان کرسکتے ہیں۔ وہ ایمان لے آیا۔ انہوں نے اپنے رب سے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے اس کی تکلیف کو رفع کردیا گویا اسے کوئی تکلیف تھی ہی نہیں پھر وہ اپنی کمائی کی طرف متوجہ ہوا جب اس نے شام کی تو اپنی کمائی کو صدقہ کردیا اس نے نصف اپنے عیال کو کھلایا اور نصف صدقہ کیا جب اس کی قفوم نے قاصدوں کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تو وہ اپنی قوم کے پاس آیا اور کہا : بھیجے گئے افراد کی اتباع کرو۔ قتادہ نے کہا : وہ ایک غار میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا جب اس نے بھیجے گئے افراد کے بارے میں سنا تو وہ دوڑتا ہوا آیا تو اس نے بھیجے گئے افراد سے کہا : تم جو کچھ لائے ہو اس پر اجر بھی طلب کرتے ہو ؟ انہوں نے کہا : نہیں ہمارا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ ابو عالیہ نے کہا : اسے ان کی صداقت کا یقین ہوگیا اور وہ ان پر ایمان لے آیا اور اپنی قوم کی طرف اس قوم کے ساتھ متوجہ ہوا : اے میری قوم ! ان بھیجے گئے افراد کی اتباع کرو ‘ ان کی اتباع کرو جو کوئی اجر طلب نہیں کرتے اگر یہ جھوٹے ہوتے تو تم سے اجر طلب کرتے ‘ وہ ہدایت یافتہ ہیں۔ قتادہ نے کہا : اس کی قوم نے پوچھا : تو ان لوگوں کے دین پر ہے ؟ تو جواب دیا : مجھے یہ حق حاصل نہیں کہ جس نے مجھ پیدا کیا ہے میں اس کی اتباع نہ کروں کیونکہ تمہیں اسی کی طرف لوٹایا جائے گا۔ یہ ان کے خلاف اس کی طرف سے حجت قائم کرنا تھا۔ فطرت کو اپنی ذات کی طرف منسوب کیا کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس پر نعمت ہے جو شکر اور دوبارہ اٹھائے جانے کا تقاضا کرتی ہے کیونکہ وہ وعید ہے جو اجر کا تقاضا کرتی ہے گویا نعمت کو اپنی ذات کی طرف منسوب کرنا یہ شکر کو زیادہ نمایاں کرنے والا ہے اور دوبارہ اٹھائے جانے کو کافر کی طرف منسوب کرنا شر میں زیادہ بلیغ ہے (1) ۔ الھۃ سے مراد بت ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ مجھے تکلیف پہنچانے کا ارادہ کرے یعنی جو اسے بیماری لگی ہے تو ان بتوں کی شفاعت کچھ نفع نہ دے گی اور وہ مجھے آزمائش سے چھٹکارا نہ دلا سکیں گے اور میں ایسا کروں تو میں واضح خسارے میں ہوں گا ‘ میں تمہارے رب پر ایمان لے آیا تم میرے گواہ بن جائو۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے کہا : اس نے بھیجے گئے افراد سے خطاب کیا کہ وہ ان کے رب پر ایمان لے آیا ہے۔ اور فاسمعون کا معنی ہے تم میرے ایمان لانے پر گواہ بن جائو۔ کعب اور وہب نے کہا : اس نے یہ بات اپنی قوم سے کہی تھی کہ میں تمہارے اس رب پر ایمان لایا ہوں جس کا تم نے انکار کیا ہے۔ ایک قوم یہ کیا گیا ہے : جب اس نے اپنی قوم سے کہا ان بھیجے گئے افراد کی اتباع کرو ‘ تم اس کی پیروی کرو جو تم سے اجر کا سوال نہیں کرتے تو لوگ اسے بادشاہ کے پاس لے گئے اور کہا : تو نے ہمارے دشمنوں کی پیروی کی ہے۔ اس نے ان کے ساتھ گفتگو کو طویل کیا تاکہ اس کے ذریعے بھیجے گئے افراد کے اقتل سے انہیں غافل کر دے یہاں تک کہ اس نے کہا انی امنت بربگم تو وہ اس پر جھپٹ پڑے اور اسے قتل کردیا۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے کہا : انہوں نے اسے اپنے پائون سے روند ڈالا یہاں تک کہ اس کی انتڑیاں اس کی دبر سے نکل آئیں اور اسے کنوئیں میں پھکنت دیا ‘ وہی رس ہے وہ اصحاب رس ہیں (1) ۔ ایک روایت میں یہ بھی ہے : لوگوں نے ان تینوں افراد کو قتل کردیا۔ سدی نے کہا : انہوں نے اسے پتھر مارے جبکہ وہ کہہ رہا تھا : اے اللہ ! میری قوم کو ہدایت دے یہاں تک کہ انہوں نے اسے قتل کردیا (2) ۔ کلبی نے کہا : انہوں نے ایک گڑھا کھودا اور اس میں اسے ڈال دیا اور اس پر مٹی ڈال دی اور وہ مٹی کے نیچے دب کر مرگیا۔ حضرت حسن بصری نے کہا : انہوں نے اسے آگ میں جلادیا (3) اسے شہر کے فصیل سے لٹکا دیا اس کی قبر انطاکیہ کی دیوار میں ہے ‘ یہ ثعلبی نے بیان کیا ہے۔ قشیری نے کہا : حضرت حسن بصری نے کہا : جب قوم نے اسے قتل کرنے کا ارادہ کیا اللہ تعالیٰ نے اسے آسمان کی طرف اٹھا لیا تو وہ جنت میں ہے وہ نہیں مرے گا مگر جب آسمان فناء ہوجائے گا اور جنت ہلاک ہوجائے گی جب اللہ تعالیٰ جنت کو دوبارہ لوٹائے گا تو اسے جنت میں داخل کردیا جائے گا (4) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : انہوں نے اسے آری کے ساتھ چیر دیا یہاں تک کہ وہ اس کی دو ٹانگوں کے درمیان سے نکلی اللہ کی قسم ! اس کی روح نہیں نکلی مگر اسے جنت میں داخل کردیا گیا اللہ تعالیٰ کا فرمان : قیل ادخل الجنۃ کا یہی معنی ہے جب اس نے جنت کا مشاہدہ کیا تو اس نے کہا : ہائے کاش ! میری قوم وہ کچھ جان لیتی جو میرے رب نے مجھے بخشا ما فعل کے ساتھ ملکر مصدر کے حکم میں ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ یہ الذی کے معنی میں ہے ضمیر عائد مخدوف ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ استفہامیہ ہے جو تعجب کے معنی میں ہے گویا کہا : کاش ! میری قوم جانتی کہ کس وجہ سے میرے رب نے مجھے بخشا ہے ؟ یہ فراء کا قول ہے۔ کسائی نے اس پر اعتراض کیا ہے اس نے کہا : اگر یہ صحیح ہو تو بم کا لفظ کہتا۔ فراء نے کہا کہ ما الف کے ساتھ کہا جائے یہ استفہامیہ ہے اور اس میں کئی اشعار پڑھے۔ زمحشری نے کہا : الف کے بغیر پڑھنا زیادہ اچھا ہے اگرچہ الف کو ثابت رکھنا قلیل ہے اس صورت میں یعلمون پر وقف کیا جائے گا۔ ایک جماعت نے کہا : ادخل الجنۃ کا معنی ہے تیرے لئے جنت ثابت ہوگئی۔ یہ خبر ہے تو جنت میں داخل ہوجا۔ قتادہ نے کہا : اللہ تعالیٰ نے اسے جنت میں داخل کردیا وہ اس میں زندہ ہے اسے رزق دیا جاتا ہے بطور دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان : ولا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ امواتا بل احیاء عندربھم یرزقون۔ جس طرح آل عمران پہلے گزر چکا ہے۔ قال یلیت قومی یعلمون۔ سائل کے سوال کی وجہ سے کلام ذکر کی گئی ہے جو سوال اتنی بری کامیابی کی وجہ سے پیدا ہوا تھا جو بخشش اور تکریم کی صورت میں متحقق ہوئی اسے من مکرمین بھی پڑھا جاتا ہے۔ اتمنی میں دو قول ہیں : (1) اس نے تمنا کی کہ وہ اس کے حال سے آگاہی حاصل کریں تاکہ اس کے حسن انجام اور پسندیدہ عاقبت سے آگہی حاصل کریں (2) اس نے تمنا کی کہ وہ اس کے ایمان کی مچل ایمان لائین اور اس کی ہالت جیسی حالت والے ہوجائیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس نے اپنی قوم کو زندہ اور مردہ حالت میں نصیحت کی (2) انہوں نے آنکھ جھپکنے کے برابر بھی اللہ تعالیٰ کا انکار نہیں کیا۔ حضرت علی بنابی طالب ؓ یہ ان میں سے افضل ہیں ‘ آل فرعون کا مون اور صاحب یٰس یہ صدیق ہیں ‘ زمحشری نے اسے مرفوع نقل کیا ہے۔ اس آیت کریمہ میں عظیم تنبیہ ہے (3) اور غصہ پی جانے ‘ جہلاء سے حلم کرنے ‘ جو آدمی اپنے آپ کو شریر اور باغیوں کی آبادی میں پھنسالے اس پر شفقت کرنے ‘ اس کو چھٹکارا دلانے میں کوشش کرنے ‘ اس کا فدیہ دینے میں مہربانی کرنے ‘ اس کے دشمنوں کو خوش کرنے والے عمل سے اور اسے بددعا دینے سے اغراض کرنے کے وجوب پر دلالت موجود ہے کیا تم دیکھنے نہیں اس نے اپنے قاتلوں کے لئے ‘ اس کے لئے ہلاکت چاہنے والوں کے لئے خیر کی تمنا کی جب کہ وہ کافر تھے اور بتوں کی پوجا کرتے تھے۔ جب حبیب کو قتل کردیا گیا۔ تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے غضبناک ہوگیا اور قوم پر جلد عذاب کو مسلط کردیا ‘ جبرایل امین کو حکم دیا اس نے ان پر ایک چیخ ماری تو وہ سب کے سب مر گئے اللہ تعالیٰ کا فرمان : وما انزلنا علی قومہ من بعدہ من جند من السماء وما کنا منزلین۔ کا یہی مفہوم ہے ‘ یعنی ہم نے اس کے قتل کے بعد ان پر کوئی نبی اور رسول مبعوث نہ کیا ‘ یہ قتادہ ‘ مجاہد اور حسن کا قول ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : جند سے مراد لشکر ہیں (4) یعنی ان کو ہلاک کرنے کے لئے لشکروں کو بھینے کا محتاج نہیں بلکہ میں انہیں ایک چیخ کے ساتھ ہلاک کردوں گا ‘ یہ حضرت ابن مسعود اور دوسرے علماء کے معنی بیان کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان : وما کنا منزلین ان کے امر کو حقیر قرار دینا ہے یعنی ہم نے اس کے قتل کو بعدیا آسمان کی طرف اٹھانے کے بعد ایک چیخ کے ساتھ ہلاک کردیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ہم ان کے پہلوئو پر اسے نازل کرنے والے نہ تھے۔ زمحشری نے کہا : اگر تو یہ کہے : یوم بدر اور یوم خندق کو کیوں لشکر نازل کیے گئے ؟ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : فارسلنا علیھم ریحا و جنود الم تروھا) الاحزاب (9: میں جواب دونگا : ایک فرشتہ ہی کافی تھا قوم لوط کے شہر حضرت جبریل امین کے ایک پر سے ہلاک کردیئے گئے (5) ‘ قوم ثمود کے شہر اور قوم صالح کے شہر ایک چیخ سے برباد کردیئے گئے لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو تمام انبیاء اور اولی العزم رسولوں پر فضیلت دی۔ حبیب نجار کی کیا حیثیت ہے آپ ﷺ کو کرامت اور اعزاز کے اسباب عطا فرمائے جیسے اسباب کسی اور کو عطا نہ فرمائے اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے لئے آسمان سے لشکر نازل فرمائے گویا اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے ساتھ اس کی طرف اشارہ کیا وما انزلنا۔۔۔۔ وما کنا منزلین۔ کیونکہ لشکروں کو نازل کرنا عظیم امور میں سے ہے جن کا تیرے سوا کوئی اہل نہیں اور ہم تیرے سوا کسی اور کے لئے کچھ بھی کرنے والے نہیں۔ ان کا نت الا صیحۃ واحدۃ عام قرأت واحدژ نصب کے ساتھ ہے تقدیر کلام یوں ہوگی ماکانت عقوبتھم الاصیحۃ واحدۃ۔ ابو جعفر بن قعقاع ‘ شیبہ اور اعرج نے صیحۃ) مرفوع ( پڑھا ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان : ان کا نت الا صیحۃ الا صیحۃ واحدۃ میں کون کو وقوع اور حدوث کے معنی میں لیا ہے گویا یوں کلام کی : ما وقعت علیھم الا صیحہ واحدۃ۔ ابو حاتم اور دوسرے بہت سے نحویوں نے تانیث کے سبب اس قرائت کو ناپسند کیا ہے جب کہ یہ قول ضعیف ہے جس طرح ما قامت الا ھند ضعیف ہے اس کی وجہ یہ ہے معنی ہے ما قام احد الاھند۔ ابو حاتم نے کہا : اگر بات اس طرح ہو جس طرح ابو جعفر نے قرأت کی ہے تو کلام یوں ہوتی ان کان الا صیۃ نحاس نے کہا : ان میں سے کوئی شے بھی ممتنع نہیں یہ جملہ کہا جاتا ہے : ما جائتنی الا جاریتک تو اس معنی میں ہے ما جائتنی امراۃ او جاریۃ الا جاریتک۔ رفع کی صورت میں قرأت میں تقدیر کلام یوں ہوگی جو ابو اسحاق نے کہا ہے کہا : اس کا معنی ہے ان کا نت علیھم صیحۃ الا صیحۃ واحدۃ۔ دوسرے علماء نے اس کی یوں تقدیر کلام ذکر کی ہے ما وقعت علیھم صیحۃ واحدۃ۔ کان کا لفظ وقع کے معنی میں کلام عرب میں اکثر واقع ہوتا ہے ‘ عبدالرحمن ابن اسود نے اس کی یوں قرأت کی۔ یو بھی قول کیا جاتا ہے : حضرت عبداللہ کی قرأت میں بھی اس طرح ہے ان کا نت الازقیۃ واحدۃ یہ مصحف کی مخالف ہے نیز یہ بھی کہ معروف لغت زقا یزقو ہے جس کا معنی ہے چیخنا اس معنی میں ضرب المثل ہے : اثقل من الزواقی۔ اس صورت میں نقیۃ کی جگہ یزقوزقوۃ کا لفظ ہوگا ‘ یہ نحاس نے زکر کیا ہے۔ میں کہا ہوں : جوہر نے کہا الزقو اور الزقی مصدر ہیں قدزقا الصدی یزقوزقاء اس نے چیخ ماری ہر چیخ مارنے والے کو زاق کہتے ہیں اور زاقیۃ کا معنی چیخ ہے۔ میں کہتا ہوں : اسی وجہ سے کہا جاتا ہے زقوۃ اور زقیۃ دور لغتیں ہیں قراءت صحیح ہے اس پر کوئی اعتراض نہیں۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ فاذاھم خمدون۔ تو اچانک وہ مردہ تھے۔ انہیں ٹھنڈی راکھ کے ساتھ تشبیہ دی قتادہ نے کہا : خمدون کا معنی ہلاک ہونے والے ہیں۔ معنی سب کا ایک ہے۔
Top