Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
View Ayah In
Navigate
Surah
1 Al-Faatiha
2 Al-Baqara
3 Aal-i-Imraan
4 An-Nisaa
5 Al-Maaida
6 Al-An'aam
7 Al-A'raaf
8 Al-Anfaal
9 At-Tawba
10 Yunus
11 Hud
12 Yusuf
13 Ar-Ra'd
14 Ibrahim
15 Al-Hijr
16 An-Nahl
17 Al-Israa
18 Al-Kahf
19 Maryam
20 Taa-Haa
21 Al-Anbiyaa
22 Al-Hajj
23 Al-Muminoon
24 An-Noor
25 Al-Furqaan
26 Ash-Shu'araa
27 An-Naml
28 Al-Qasas
29 Al-Ankaboot
30 Ar-Room
31 Luqman
32 As-Sajda
33 Al-Ahzaab
34 Saba
35 Faatir
36 Yaseen
37 As-Saaffaat
38 Saad
39 Az-Zumar
40 Al-Ghaafir
41 Fussilat
42 Ash-Shura
43 Az-Zukhruf
44 Ad-Dukhaan
45 Al-Jaathiya
46 Al-Ahqaf
47 Muhammad
48 Al-Fath
49 Al-Hujuraat
50 Qaaf
51 Adh-Dhaariyat
52 At-Tur
53 An-Najm
54 Al-Qamar
55 Ar-Rahmaan
56 Al-Waaqia
57 Al-Hadid
58 Al-Mujaadila
59 Al-Hashr
60 Al-Mumtahana
61 As-Saff
62 Al-Jumu'a
63 Al-Munaafiqoon
64 At-Taghaabun
65 At-Talaaq
66 At-Tahrim
67 Al-Mulk
68 Al-Qalam
69 Al-Haaqqa
70 Al-Ma'aarij
71 Nooh
72 Al-Jinn
73 Al-Muzzammil
74 Al-Muddaththir
75 Al-Qiyaama
76 Al-Insaan
77 Al-Mursalaat
78 An-Naba
79 An-Naazi'aat
80 Abasa
81 At-Takwir
82 Al-Infitaar
83 Al-Mutaffifin
84 Al-Inshiqaaq
85 Al-Burooj
86 At-Taariq
87 Al-A'laa
88 Al-Ghaashiya
89 Al-Fajr
90 Al-Balad
91 Ash-Shams
92 Al-Lail
93 Ad-Dhuhaa
94 Ash-Sharh
95 At-Tin
96 Al-Alaq
97 Al-Qadr
98 Al-Bayyina
99 Az-Zalzala
100 Al-Aadiyaat
101 Al-Qaari'a
102 At-Takaathur
103 Al-Asr
104 Al-Humaza
105 Al-Fil
106 Quraish
107 Al-Maa'un
108 Al-Kawthar
109 Al-Kaafiroon
110 An-Nasr
111 Al-Masad
112 Al-Ikhlaas
113 Al-Falaq
114 An-Naas
Ayah
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66
67
68
69
70
71
72
73
74
75
76
77
78
79
80
81
82
83
Get Android App
Tafaseer Collection
تفسیر ابنِ کثیر
اردو ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑہی
تفہیم القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی
معارف القرآن
مفتی محمد شفیع
تدبرِ قرآن
مولانا امین احسن اصلاحی
احسن البیان
مولانا صلاح الدین یوسف
آسان قرآن
مفتی محمد تقی عثمانی
فی ظلال القرآن
سید قطب
تفسیرِ عثمانی
مولانا شبیر احمد عثمانی
تفسیر بیان القرآن
ڈاکٹر اسرار احمد
تیسیر القرآن
مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
تفسیرِ ماجدی
مولانا عبد الماجد دریابادی
تفسیرِ جلالین
امام جلال الدین السیوطی
تفسیرِ مظہری
قاضی ثنا اللہ پانی پتی
تفسیر ابن عباس
اردو ترجمہ: حافظ محمد سعید احمد عاطف
تفسیر القرآن الکریم
مولانا عبد السلام بھٹوی
تفسیر تبیان القرآن
مولانا غلام رسول سعیدی
تفسیر القرطبی
ابو عبدالله القرطبي
تفسیر درِ منثور
امام جلال الدین السیوطی
تفسیر مطالعہ قرآن
پروفیسر حافظ احمد یار
تفسیر انوار البیان
مولانا عاشق الٰہی مدنی
معارف القرآن
مولانا محمد ادریس کاندھلوی
جواھر القرآن
مولانا غلام اللہ خان
معالم العرفان
مولانا عبدالحمید سواتی
مفردات القرآن
اردو ترجمہ: مولانا عبدہ فیروزپوری
تفسیرِ حقانی
مولانا محمد عبدالحق حقانی
روح القرآن
ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی
فہم القرآن
میاں محمد جمیل
مدارک التنزیل
اردو ترجمہ: فتح محمد جالندھری
تفسیرِ بغوی
حسین بن مسعود البغوی
احسن التفاسیر
حافظ محمد سید احمد حسن
تفسیرِ سعدی
عبدالرحمٰن ابن ناصر السعدی
احکام القرآن
امام ابوبکر الجصاص
تفسیرِ مدنی
مولانا اسحاق مدنی
مفہوم القرآن
محترمہ رفعت اعجاز
اسرار التنزیل
مولانا محمد اکرم اعوان
اشرف الحواشی
شیخ محمد عبدالفلاح
انوار البیان
محمد علی پی سی ایس
بصیرتِ قرآن
مولانا محمد آصف قاسمی
مظہر القرآن
شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی
تفسیر الکتاب
ڈاکٹر محمد عثمان
سراج البیان
علامہ محمد حنیف ندوی
کشف الرحمٰن
مولانا احمد سعید دہلوی
بیان القرآن
مولانا اشرف علی تھانوی
عروۃ الوثقٰی
علامہ عبدالکریم اسری
معارف القرآن انگلش
مفتی محمد شفیع
تفہیم القرآن انگلش
سید ابو الاعلیٰ مودودی
Al-Qurtubi - Yaseen : 20
وَ جَآءَ مِنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ رَجُلٌ یَّسْعٰى قَالَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِیْنَۙ
وَجَآءَ
: اور آیا
مِنْ
: سے
اَقْصَا
: پرلا سرا
الْمَدِيْنَةِ
: شہر
رَجُلٌ
: ایک آدمی
يَّسْعٰى
: دوڑتا ہوا
قَالَ
: اس نے کہا
يٰقَوْمِ
: اے میری قوم
اتَّبِعُوا
: تم پیروی کرو
الْمُرْسَلِيْنَ
: رسولوں کی
اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا کہنے لگا کہ اے میری قوم پیغمبروں کے پیچھے چلو
رجل سے مراد حبیب بن مری ہے وہ بڑھئی تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا : وہ اسکاف) جوتا ( بنانے والا تھا۔ ایک قول کیا گیا۔ وہ دھوبی تھا۔ حضرت ابن عباس ‘ مجاد اور مقاتل نے کہا۔ وہ حبیب بن اسمائیل نجاز تھا وہ بت تراشا کرتا تھا یہ نبی کریم ﷺ پر ایمان لایا جب کہ درمیان میں چھ سو سال کا عرصہ ہے جس طرح تعہ اکبر ورقہ بن نوفل اور دوسرے لوگ ایمان لائے کوئی فرد کسی نبی پر ایمان نہیں لایا تھا ‘ مگر اس وقت جب وہ نبی ظاہر ہوچکا تھا (
1
) ۔ وہب نے کہا ’ حبیب کو جزام کا مرض تھا اس کا گھر شہر کے دروازوں میں سے آخری دروازے کے پاس تھا وہ ستر سال تک بتوں کی عبادت میں مصروف رہا اور دعا کرتا رہا ممکن ہے وہ بت اس پر رحم کریں اور اس کی تکلیف رفع کردیں تو بتوں نے اس کی کوئی دعا قبول نہ کی۔ جب قاصدوں نے اسے دیکھا تو اے اللہ کی طرف دعوت دی تو اس نے پوچھا : کوئی نشانی بھی ہے ؟ انہوں نے کہا : ہاں ہم قادر رب کی بارگاہ میں دعا کرتے ہیں تو جو تکلیف تجھے لاحق ہے اللہ تعالیٰ اسے تجھ سے دور کر دے گا پوچھا : وہ ایک دن میں کیسے اس تکلیف کو دور فرمائے گا ؟ انہوں نے کہا : ہاں ہمارا رب جو چاہتا ہے اس پر قادر ہے ‘ یہ بت تو نہ کسی کو نفع پہنچا سکتے ہیں اور نہ ہی نقصان کرسکتے ہیں۔ وہ ایمان لے آیا۔ انہوں نے اپنے رب سے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے اس کی تکلیف کو رفع کردیا گویا اسے کوئی تکلیف تھی ہی نہیں پھر وہ اپنی کمائی کی طرف متوجہ ہوا جب اس نے شام کی تو اپنی کمائی کو صدقہ کردیا اس نے نصف اپنے عیال کو کھلایا اور نصف صدقہ کیا جب اس کی قفوم نے قاصدوں کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تو وہ اپنی قوم کے پاس آیا اور کہا : بھیجے گئے افراد کی اتباع کرو۔ قتادہ نے کہا : وہ ایک غار میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا جب اس نے بھیجے گئے افراد کے بارے میں سنا تو وہ دوڑتا ہوا آیا تو اس نے بھیجے گئے افراد سے کہا : تم جو کچھ لائے ہو اس پر اجر بھی طلب کرتے ہو ؟ انہوں نے کہا : نہیں ہمارا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ ابو عالیہ نے کہا : اسے ان کی صداقت کا یقین ہوگیا اور وہ ان پر ایمان لے آیا اور اپنی قوم کی طرف اس قوم کے ساتھ متوجہ ہوا : اے میری قوم ! ان بھیجے گئے افراد کی اتباع کرو ‘ ان کی اتباع کرو جو کوئی اجر طلب نہیں کرتے اگر یہ جھوٹے ہوتے تو تم سے اجر طلب کرتے ‘ وہ ہدایت یافتہ ہیں۔ قتادہ نے کہا : اس کی قوم نے پوچھا : تو ان لوگوں کے دین پر ہے ؟ تو جواب دیا : مجھے یہ حق حاصل نہیں کہ جس نے مجھ پیدا کیا ہے میں اس کی اتباع نہ کروں کیونکہ تمہیں اسی کی طرف لوٹایا جائے گا۔ یہ ان کے خلاف اس کی طرف سے حجت قائم کرنا تھا۔ فطرت کو اپنی ذات کی طرف منسوب کیا کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس پر نعمت ہے جو شکر اور دوبارہ اٹھائے جانے کا تقاضا کرتی ہے کیونکہ وہ وعید ہے جو اجر کا تقاضا کرتی ہے گویا نعمت کو اپنی ذات کی طرف منسوب کرنا یہ شکر کو زیادہ نمایاں کرنے والا ہے اور دوبارہ اٹھائے جانے کو کافر کی طرف منسوب کرنا شر میں زیادہ بلیغ ہے (
1
) ۔ الھۃ سے مراد بت ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ مجھے تکلیف پہنچانے کا ارادہ کرے یعنی جو اسے بیماری لگی ہے تو ان بتوں کی شفاعت کچھ نفع نہ دے گی اور وہ مجھے آزمائش سے چھٹکارا نہ دلا سکیں گے اور میں ایسا کروں تو میں واضح خسارے میں ہوں گا ‘ میں تمہارے رب پر ایمان لے آیا تم میرے گواہ بن جائو۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے کہا : اس نے بھیجے گئے افراد سے خطاب کیا کہ وہ ان کے رب پر ایمان لے آیا ہے۔ اور فاسمعون کا معنی ہے تم میرے ایمان لانے پر گواہ بن جائو۔ کعب اور وہب نے کہا : اس نے یہ بات اپنی قوم سے کہی تھی کہ میں تمہارے اس رب پر ایمان لایا ہوں جس کا تم نے انکار کیا ہے۔ ایک قوم یہ کیا گیا ہے : جب اس نے اپنی قوم سے کہا ان بھیجے گئے افراد کی اتباع کرو ‘ تم اس کی پیروی کرو جو تم سے اجر کا سوال نہیں کرتے تو لوگ اسے بادشاہ کے پاس لے گئے اور کہا : تو نے ہمارے دشمنوں کی پیروی کی ہے۔ اس نے ان کے ساتھ گفتگو کو طویل کیا تاکہ اس کے ذریعے بھیجے گئے افراد کے اقتل سے انہیں غافل کر دے یہاں تک کہ اس نے کہا انی امنت بربگم تو وہ اس پر جھپٹ پڑے اور اسے قتل کردیا۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے کہا : انہوں نے اسے اپنے پائون سے روند ڈالا یہاں تک کہ اس کی انتڑیاں اس کی دبر سے نکل آئیں اور اسے کنوئیں میں پھکنت دیا ‘ وہی رس ہے وہ اصحاب رس ہیں (
1
) ۔ ایک روایت میں یہ بھی ہے : لوگوں نے ان تینوں افراد کو قتل کردیا۔ سدی نے کہا : انہوں نے اسے پتھر مارے جبکہ وہ کہہ رہا تھا : اے اللہ ! میری قوم کو ہدایت دے یہاں تک کہ انہوں نے اسے قتل کردیا (
2
) ۔ کلبی نے کہا : انہوں نے ایک گڑھا کھودا اور اس میں اسے ڈال دیا اور اس پر مٹی ڈال دی اور وہ مٹی کے نیچے دب کر مرگیا۔ حضرت حسن بصری نے کہا : انہوں نے اسے آگ میں جلادیا (
3
) اسے شہر کے فصیل سے لٹکا دیا اس کی قبر انطاکیہ کی دیوار میں ہے ‘ یہ ثعلبی نے بیان کیا ہے۔ قشیری نے کہا : حضرت حسن بصری نے کہا : جب قوم نے اسے قتل کرنے کا ارادہ کیا اللہ تعالیٰ نے اسے آسمان کی طرف اٹھا لیا تو وہ جنت میں ہے وہ نہیں مرے گا مگر جب آسمان فناء ہوجائے گا اور جنت ہلاک ہوجائے گی جب اللہ تعالیٰ جنت کو دوبارہ لوٹائے گا تو اسے جنت میں داخل کردیا جائے گا (
4
) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : انہوں نے اسے آری کے ساتھ چیر دیا یہاں تک کہ وہ اس کی دو ٹانگوں کے درمیان سے نکلی اللہ کی قسم ! اس کی روح نہیں نکلی مگر اسے جنت میں داخل کردیا گیا اللہ تعالیٰ کا فرمان : قیل ادخل الجنۃ کا یہی معنی ہے جب اس نے جنت کا مشاہدہ کیا تو اس نے کہا : ہائے کاش ! میری قوم وہ کچھ جان لیتی جو میرے رب نے مجھے بخشا ما فعل کے ساتھ ملکر مصدر کے حکم میں ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ یہ الذی کے معنی میں ہے ضمیر عائد مخدوف ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ استفہامیہ ہے جو تعجب کے معنی میں ہے گویا کہا : کاش ! میری قوم جانتی کہ کس وجہ سے میرے رب نے مجھے بخشا ہے ؟ یہ فراء کا قول ہے۔ کسائی نے اس پر اعتراض کیا ہے اس نے کہا : اگر یہ صحیح ہو تو بم کا لفظ کہتا۔ فراء نے کہا کہ ما الف کے ساتھ کہا جائے یہ استفہامیہ ہے اور اس میں کئی اشعار پڑھے۔ زمحشری نے کہا : الف کے بغیر پڑھنا زیادہ اچھا ہے اگرچہ الف کو ثابت رکھنا قلیل ہے اس صورت میں یعلمون پر وقف کیا جائے گا۔ ایک جماعت نے کہا : ادخل الجنۃ کا معنی ہے تیرے لئے جنت ثابت ہوگئی۔ یہ خبر ہے تو جنت میں داخل ہوجا۔ قتادہ نے کہا : اللہ تعالیٰ نے اسے جنت میں داخل کردیا وہ اس میں زندہ ہے اسے رزق دیا جاتا ہے بطور دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان : ولا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ امواتا بل احیاء عندربھم یرزقون۔ جس طرح آل عمران پہلے گزر چکا ہے۔ قال یلیت قومی یعلمون۔ سائل کے سوال کی وجہ سے کلام ذکر کی گئی ہے جو سوال اتنی بری کامیابی کی وجہ سے پیدا ہوا تھا جو بخشش اور تکریم کی صورت میں متحقق ہوئی اسے من مکرمین بھی پڑھا جاتا ہے۔ اتمنی میں دو قول ہیں : (
1
) اس نے تمنا کی کہ وہ اس کے حال سے آگاہی حاصل کریں تاکہ اس کے حسن انجام اور پسندیدہ عاقبت سے آگہی حاصل کریں (
2
) اس نے تمنا کی کہ وہ اس کے ایمان کی مچل ایمان لائین اور اس کی ہالت جیسی حالت والے ہوجائیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس نے اپنی قوم کو زندہ اور مردہ حالت میں نصیحت کی (
2
) انہوں نے آنکھ جھپکنے کے برابر بھی اللہ تعالیٰ کا انکار نہیں کیا۔ حضرت علی بنابی طالب ؓ یہ ان میں سے افضل ہیں ‘ آل فرعون کا مون اور صاحب یٰس یہ صدیق ہیں ‘ زمحشری نے اسے مرفوع نقل کیا ہے۔ اس آیت کریمہ میں عظیم تنبیہ ہے (
3
) اور غصہ پی جانے ‘ جہلاء سے حلم کرنے ‘ جو آدمی اپنے آپ کو شریر اور باغیوں کی آبادی میں پھنسالے اس پر شفقت کرنے ‘ اس کو چھٹکارا دلانے میں کوشش کرنے ‘ اس کا فدیہ دینے میں مہربانی کرنے ‘ اس کے دشمنوں کو خوش کرنے والے عمل سے اور اسے بددعا دینے سے اغراض کرنے کے وجوب پر دلالت موجود ہے کیا تم دیکھنے نہیں اس نے اپنے قاتلوں کے لئے ‘ اس کے لئے ہلاکت چاہنے والوں کے لئے خیر کی تمنا کی جب کہ وہ کافر تھے اور بتوں کی پوجا کرتے تھے۔ جب حبیب کو قتل کردیا گیا۔ تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے غضبناک ہوگیا اور قوم پر جلد عذاب کو مسلط کردیا ‘ جبرایل امین کو حکم دیا اس نے ان پر ایک چیخ ماری تو وہ سب کے سب مر گئے اللہ تعالیٰ کا فرمان : وما انزلنا علی قومہ من بعدہ من جند من السماء وما کنا منزلین۔ کا یہی مفہوم ہے ‘ یعنی ہم نے اس کے قتل کے بعد ان پر کوئی نبی اور رسول مبعوث نہ کیا ‘ یہ قتادہ ‘ مجاہد اور حسن کا قول ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : جند سے مراد لشکر ہیں (
4
) یعنی ان کو ہلاک کرنے کے لئے لشکروں کو بھینے کا محتاج نہیں بلکہ میں انہیں ایک چیخ کے ساتھ ہلاک کردوں گا ‘ یہ حضرت ابن مسعود اور دوسرے علماء کے معنی بیان کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان : وما کنا منزلین ان کے امر کو حقیر قرار دینا ہے یعنی ہم نے اس کے قتل کو بعدیا آسمان کی طرف اٹھانے کے بعد ایک چیخ کے ساتھ ہلاک کردیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ہم ان کے پہلوئو پر اسے نازل کرنے والے نہ تھے۔ زمحشری نے کہا : اگر تو یہ کہے : یوم بدر اور یوم خندق کو کیوں لشکر نازل کیے گئے ؟ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : فارسلنا علیھم ریحا و جنود الم تروھا) الاحزاب (
9
: میں جواب دونگا : ایک فرشتہ ہی کافی تھا قوم لوط کے شہر حضرت جبریل امین کے ایک پر سے ہلاک کردیئے گئے (
5
) ‘ قوم ثمود کے شہر اور قوم صالح کے شہر ایک چیخ سے برباد کردیئے گئے لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو تمام انبیاء اور اولی العزم رسولوں پر فضیلت دی۔ حبیب نجار کی کیا حیثیت ہے آپ ﷺ کو کرامت اور اعزاز کے اسباب عطا فرمائے جیسے اسباب کسی اور کو عطا نہ فرمائے اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے لئے آسمان سے لشکر نازل فرمائے گویا اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے ساتھ اس کی طرف اشارہ کیا وما انزلنا۔۔۔۔ وما کنا منزلین۔ کیونکہ لشکروں کو نازل کرنا عظیم امور میں سے ہے جن کا تیرے سوا کوئی اہل نہیں اور ہم تیرے سوا کسی اور کے لئے کچھ بھی کرنے والے نہیں۔ ان کا نت الا صیحۃ واحدۃ عام قرأت واحدژ نصب کے ساتھ ہے تقدیر کلام یوں ہوگی ماکانت عقوبتھم الاصیحۃ واحدۃ۔ ابو جعفر بن قعقاع ‘ شیبہ اور اعرج نے صیحۃ) مرفوع ( پڑھا ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان : ان کا نت الا صیحۃ الا صیحۃ واحدۃ میں کون کو وقوع اور حدوث کے معنی میں لیا ہے گویا یوں کلام کی : ما وقعت علیھم الا صیحہ واحدۃ۔ ابو حاتم اور دوسرے بہت سے نحویوں نے تانیث کے سبب اس قرائت کو ناپسند کیا ہے جب کہ یہ قول ضعیف ہے جس طرح ما قامت الا ھند ضعیف ہے اس کی وجہ یہ ہے معنی ہے ما قام احد الاھند۔ ابو حاتم نے کہا : اگر بات اس طرح ہو جس طرح ابو جعفر نے قرأت کی ہے تو کلام یوں ہوتی ان کان الا صیۃ نحاس نے کہا : ان میں سے کوئی شے بھی ممتنع نہیں یہ جملہ کہا جاتا ہے : ما جائتنی الا جاریتک تو اس معنی میں ہے ما جائتنی امراۃ او جاریۃ الا جاریتک۔ رفع کی صورت میں قرأت میں تقدیر کلام یوں ہوگی جو ابو اسحاق نے کہا ہے کہا : اس کا معنی ہے ان کا نت علیھم صیحۃ الا صیحۃ واحدۃ۔ دوسرے علماء نے اس کی یوں تقدیر کلام ذکر کی ہے ما وقعت علیھم صیحۃ واحدۃ۔ کان کا لفظ وقع کے معنی میں کلام عرب میں اکثر واقع ہوتا ہے ‘ عبدالرحمن ابن اسود نے اس کی یوں قرأت کی۔ یو بھی قول کیا جاتا ہے : حضرت عبداللہ کی قرأت میں بھی اس طرح ہے ان کا نت الازقیۃ واحدۃ یہ مصحف کی مخالف ہے نیز یہ بھی کہ معروف لغت زقا یزقو ہے جس کا معنی ہے چیخنا اس معنی میں ضرب المثل ہے : اثقل من الزواقی۔ اس صورت میں نقیۃ کی جگہ یزقوزقوۃ کا لفظ ہوگا ‘ یہ نحاس نے زکر کیا ہے۔ میں کہا ہوں : جوہر نے کہا الزقو اور الزقی مصدر ہیں قدزقا الصدی یزقوزقاء اس نے چیخ ماری ہر چیخ مارنے والے کو زاق کہتے ہیں اور زاقیۃ کا معنی چیخ ہے۔ میں کہتا ہوں : اسی وجہ سے کہا جاتا ہے زقوۃ اور زقیۃ دور لغتیں ہیں قراءت صحیح ہے اس پر کوئی اعتراض نہیں۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ فاذاھم خمدون۔ تو اچانک وہ مردہ تھے۔ انہیں ٹھنڈی راکھ کے ساتھ تشبیہ دی قتادہ نے کہا : خمدون کا معنی ہلاک ہونے والے ہیں۔ معنی سب کا ایک ہے۔
Top