Ruh-ul-Quran - Saad : 17
اِصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ اذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوٗدَ ذَا الْاَیْدِ١ۚ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ
اِصْبِرْ : آپ صبر کریں عَلٰي : اس پر مَا يَقُوْلُوْنَ : جو وہ کہتے ہیں وَاذْكُرْ : اور یاد کریں عَبْدَنَا : ہمارے بندے دَاوٗدَ : داؤد ذَا الْاَيْدِ ۚ : قوت والا اِنَّهٗٓ : بیشک وہ اَوَّابٌ : خوب رجوع کرنے والا
اے پیغمبر ان باتوں پر صبر کیجیے جو یہ لوگ کہتے ہیں اور ان کے سامنے ہمارے بندے دائود زور و قوت والے کا حال بیان کیجیے، بیشک وہ اللہ کی طرف بڑا ہی رجوع کرنے والا تھا
اِصْبِرْ عَلٰی مَا یَقُوْلُوْنَ وَاذْکُرْ عَبْدَنَا دَاوٗدَ ذَا الْاَیْدِ ج اِنَّـہٗٓ اَوَّابٌ۔ (صٓ: 17) (اے پیغمبر ان باتوں پر صبر کیجیے جو یہ لوگ کہتے ہیں اور ان کے سامنے ہمارے بندے دائود زور و قوت والے کا حال بیان کیجیے، بیشک وہ اللہ کی طرف بڑا ہی رجوع کرنے والا تھا۔ ) حضرت دائود (علیہ السلام) کی زندگی کا نمونہ آنحضرت ﷺ کے لیے بھی اور قریش کے لیے بھی اس سے پہلے سورة الانبیاء، نمل اور سبا میں حضرت دائود اور حضرت سلیمان (علیہما السلام) کے واقعات کسی حد تک تفصیل کے ساتھ گزر چکے ہیں۔ لیکن قرآن کریم کا اسلوب یہ ہے کہ وہ کسی بھی بڑی شخصیت کے واقعات کو واقعات کے طور پر یا تاریخ کے انداز میں بیان نہیں کرتا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کے نبی اور اس کے مقرب بندے چونکہ انسانی زندگی کے لیے نمونہ کی حیثیت رکھتے ہیں، اس لیے بطور نمونہ اور بطورہدایت ان کی زندگی کے واقعات میں سے ان واقعات کو ذکر کیا جاتا ہے جو سلسلہ کلام میں جاری بحث کی ضرورت کا تقاضا ہوں۔ حضرت دائود (علیہ السلام) کی زندگی کے واقعات کے سلسلے میں بھی دیگر انبیاء کی طرح یہی اسلوب اختیار کیا گیا ہے۔ پیش نظر سلسلہ ٔ بیان میں دکھایا گیا ہے کہ قریش تکبر اور نخوت میں مبتلاء ہو کر اللہ تعالیٰ کے آخری رسول کی دعوت کو قبول کرنے کی بجائے انتہائی تعنت اور نخوت کا ثبوت دیتے ہوئے آپ پر طرح طرح کے الزامات لگا رہے ہیں اور آپ کی دعوت کو روکنے کے لیے ہر طرح کی اذیت رسانی سے کام لیا جارہا ہے۔ آپ اور صحابہ کرام ان کی اس یا وہ گوئی سے سخت انقباض میں ہیں۔ چناچہ حضرت دائود (علیہ السلام) کے واقعات سے ایک طرف نبی کریم ﷺ کو تسلی دینا مقصود ہے کہ دیکھئے حضرت دائود (علیہ السلام) باوجود اس کے کہ انتہائی طاقت اور قوت رکھنے والے تھے لیکن وہ اپنے مخالفوں کی دلآزار باتوں پر برہم یا پریشان ہونے کی بجائے انتہائی صبر اور بردباری سے کام لیتے تھے۔ اور جب کبھی فیصلہ کرنے کا وقت آتا تو لوگوں کے حددرجہ ناگوار رویئے کے باوجود نہایت عدل اور ہمدردی کے ساتھ ان کے معاملات کا فیصلہ فرماتے تھے۔ بلکہ دوسروں کے واقعات سے اپنے لیے سبق حاصل کرنا اور نصیحت اخذ کرنا ان کی طبیعت کا حیرت انگیز واقعہ تھا۔ آپ بھی ان کی زندگی کے ان واقعات سے تسلی حاصل کریں۔ اور آپ کے صحابہ کو بھی اس بات کو ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ یہی وہ رویہ ہے جو بالآخر کامیابیوں کی ضمانت بنتا ہے۔ دوسری طرف قریش کو بھی ان واقعات سے سبق دینا مقصود ہے کہ تم ہمارے بندے دائود کو دیکھو، وہ کس قدر دولت و حشمت کے مالک اور کس قدر مناصب و اقتدار پر فائز تھے۔ باایں ہمہ غرور و استکبار انھیں چھو کر بھی نہ گیا تھا۔ وہ ہر معاملے میں اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتے تھے۔ ایک تم ہو کہ ان کے مقابلے میں تمہاری دولت و حشمت اور تمہارا اقتدار نہ ہونے کے برابر ہے۔ لیکن اس معمولی حیثیت میں تمہیں غرور و استکبار نے اندھا کردیا ہے۔ تم بھی اگر اپنے لیے عافیت چاہتے ہو تو حضرت دائود (علیہ السلام) کے رویئے سے سبق سیکھو۔ آیتِ کریمہ میں ” اُذْکُرْ “ کے لفظ سے شاید متذکرہ بالا دونوں مفہوموں کی طرف اشارہ ہے کہ آپ ان لوگوں کو بھی حضرت دائود (علیہ السلام) کے حالات پڑھ کر سنایئے اور خود بھی ان کو یاد کیجیے تاکہ آپ بھی ان واقعات کو دیکھ کر تسلی حاصل کریں اور قریش ان واقعات کو پڑھ کر اگر چاہیں تو سبق حاصل کریں۔ ذَا الْاَیْدِ اس کا لفظی معنی تو ہاتھوں والا ہے، لیکن عربی زبان میں ہی نہیں بلکہ دیگر زبانوں میں بھی اسے قوت وقدرت کے لیے استعارے کے طور پر بولا جاتا ہے۔ آیت کریمہ میں بھی یہی معنی مقصود معلوم ہوتا ہے کہ حضرت دائود (علیہ السلام) بڑی قوتوں کے مالک تھے اور جتنی بھی انسانی خیال میں قوتیں قابل قدر ہوسکتی ہیں ان میں سے کوئی ایسی نہ تھی جو ان کو عطا نہ کی گئی ہو۔ مثلاً آپ جسمانی طاقت میں بھی بےمثال تھے اور اس کا مظاہرہ انھوں نے جالوت سے جنگ کے موقع پر کیا تھا۔ حالانکہ جالوت غیرمعمولی قدآور جنگجو اور بہادر شخص تھا اور حضرت دائود (علیہ السلام) اس وقت بکریاں چرانے والے ایک نوعمر چرواہے تھے۔ لیکن اس کے باوجود انھوں نے جالوت کو بری طرح شکست دی اور قتل کردیا۔ آپ فوجی اور سیاسی طاقت کے مالک تھے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ آپ نے اس وقت کی مخالف مشرک قوموں کو شکست دے کر ایک مضبوط اسلامی سلطنت قائم کردی۔ اخلاقی طاقت میں بھی آپ کا کوئی ہمسر نہ تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بادشاہی عطا کی، لیکن آپ ہمیشہ فقیر بن کر رہے، ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے اور اس کے حدود کی پابندی کرنے والے تھے۔ حضرت ابوالدردا سے امام بخاری نے اپنی تاریخ میں یہ روایت بیان کی ہے کہ جب حضرت دائود (علیہ السلام) کا ذکر آتا تو آنحضرت ﷺ فرمایا کرتے کَانَ اَعْبَدَالْبَشَرِ ” وہ سب سے زیادہ عبادت گزار آدمی تھے۔ “ اِنَّـہٗٓ اَوَّابٌ وہ اپنے رب کی طرف بہت رجوع ہونے والے بندے تھے۔ اس سے حضرت دائود (علیہ السلام) کی خشیت وانابت کا اندازہ ہوتا ہے کہ معاملہ انفرادی ہو یا اجتماعی، حالت سکون کا ہو یا حالت اشتعال کا، معاملہ غم کا ہو یا خوشی کا، ہرحال میں اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنے والے تھے۔ حالانکہ حکومت و اقتدار ہر صاحب اقتدار کو خودپرستی کی طرف مائل کردیتا ہے۔ بلکہ اقتدار اس وقت تک نامکمل سمجھا جاتا ہے جب تک اس کے سامنے بےاختیار سر جھکنے نہیں پاتے۔ گویا تکبر اور غرور اس جلنے والی آگ کا ایسا ایندھن ہے جس کے بغیر اقتدار کا چولھا روشن نہیں ہوتا۔ لیکن وہ ہرحال میں اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے اور اس کی طرف رجوع ہونے والے بندے تھے۔
Top