Tafheem-ul-Quran - Al-Kahf : 49
وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ مُّحِیْطًا۠   ۧ
وَلِلّٰهِ : اور اللہ کے لیے مَا : جو فِي السَّمٰوٰتِ : آسمانوں میں وَمَا : اور جو فِي : میں الْاَرْضِ : زمین وَكَانَ : اور ہے اللّٰهُ : اللہ بِكُلِّ : ہر شَيْءٍ : چیز مُّحِيْطًا : احاطہ کیے ہوئے
بیویوں کے درمیان پورا پورا عدل کرنا تمہارے بس میں نہیں ہے تم چاہو بھی تو اس پر قادر نہیں ہوسکتے لہٰذا (قانون الٰہی کا منشا پورا کرنے کے لیے یہ کافی ہے کہ) ایک بیوی کی طرف اِس طرح نہ جھک جاؤ کہ دوسری کو ادھر لٹکتا چھوڑ دو اگر تم اپنا طرز عمل درست رکھو اور اللہ سے ڈرتے رہو تو اللہ چشم پوشی کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے
[ وَلَنْ تَسْتَطِیْعُوْٓا : اور تم ہرگز استطاعت نہیں رکھتے ] [ اَنْ : کہ ] [ تَعْدِلُوْا : عدل کرو ] [ بَیْنَ النِّسَآئِ : عورتوں ] [ بیویوں) کے مابین ] [ وَلَوْ : اور اگر (یعنی خواہ) ] [ حَرَصْتُمْ : تم خواہش کرو ] [ فَلاَ تَمِیْلُوْا : تو پھر تم ایک (ہی) کے مت ہو رہو ] [ کُلَّ الْمَیْلِ : بالکل ایک طرف کا ہونا ] [ فَتَذَرُوْہَا : کہ چھوڑدو اس کو (یعنی دوسری بیوی کو) ] [ کَالْمُعَلَّقَۃِ : لٹکائی ہوئی کی مانند ] [ وَاِنْ : اور اگر ] [ تُصْلِحُوْا : تم اصلاح کرو ] [ وَتَـتَّـقُوْا : اور تقویٰ کرو ] [ فَاِنَّ اللّٰہَ : تو یقینا اللہ ] [ کَانَ : ہے ] [ غَفُوْرًا : بےانتہا بخشنے والا ] [ رَّحِیْمًا : ہر حال میں رحم کرنے والا ] ع ل ق عَلِقَ یَعْلَقُ (س) عُلُوْقًا : کسی چیز کا کسی چیز میں پھنس کر اس میں الجھ جانا ‘ چمٹ جانا ‘ لٹک جانا۔ عَلَقٌ : چمٹی ہوئی یا لٹکی ہوئی چیز ‘ جمے ہوئے خون کا لوتھڑا۔ { فَاِنَّا خَلَقْنٰـکُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَۃٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَۃٍ } (الحج :5) ” تو ہم نے پیدا کیا تم کو ایک مٹی سے ‘ پھر پانی کی ایک بوند سے ‘ پھر خون کے ایک لوتھڑے سے۔ “ عَلَّقَ (تفعیل) تَعْلِیْقًا : چمٹانا ‘ لٹکانا۔ مُعَلَّـقٌ (اسم المفعول) : لٹکایا ہوا ‘ آیت زیر مطالعہ۔
Top