Tadabbur-e-Quran - Saad : 28
اَمْ نَجْعَلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالْمُفْسِدِیْنَ فِی الْاَرْضِ١٘ اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِیْنَ كَالْفُجَّارِ
اَمْ : کیا نَجْعَلُ : ہم کردیں گے الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا : جو لوگ ایمان لائے وَعَمِلُوا : اور انہوں نے عمل کیے الصّٰلِحٰتِ : اچھے كَالْمُفْسِدِيْنَ : ان کی طرح جو فساد پھیلاتے ہیں فِي الْاَرْضِ ۡ : زمین میں اَمْ : کیا نَجْعَلُ : ہم کردیں گے الْمُتَّقِيْنَ : پرہیزگاروں كَالْفُجَّارِ : فاجروں (بدکرداروں) کی طرح
کیا ہم ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کئے زمین میں فساد مچانے والوں کی طرح کردیں گے، یا ہم متقیوں کو فاجروں کی طرح بنا دیں گے ! !
ام نجعل الذین امنوا و عملوا الصلحت کا لمفسدین فی الارض ام نجعل المتقین کا لفجار (28) یہ سوال بانداز تعجب ہے کہ جو لوگ آخرت اور جزا و سزا کو نہیں مانتے ہیں کیا ان کا گمان یہ ہے کہ ہم ایمان و عمل صالح کی روش اختیار کرنے والوں اور زمین میں فساد برپا کرنے الوں کو برابر کردیں گے یا خدا سے ڈرنے والوں اور نافرمانوں کے ساتھ ہمارا معاملہ یکساں ہوگا ؟ یعنی آخرت کو نہ ماننے کا بدیہی نتیجہ یہی سامنے آتا ہے اور یہ ایک ایسی بات ہے جس کا ایک حکیم و رحیم اور قادر و عزیز خدا کے متعلق تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ یہی حقیقت سیدنا مسیح ؑ نے تاکستان والی تمثیلوں میں مختلف اسلوبوں سے سمجھائی ہے کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ ایک آقا اپنے تاکستان کی نگرانی پر اپنے غلاموں کو مقرر کرے جن میں سے بعض تو اس کے تاکستان کے اندر دھاندلی مچائیں اور کچھ ایمانداری کے ساتھ اپنے فرائض بجا لائیں اور آقا دونوں کے ساتھ یکساں سلوک کرے ؟ اگر کوئی آقا ایسا کرے تو ماننا پڑے گا کہ وہ یا تو بالکل بےبس اور بیخبر ہے یا نہایت ہی احمق اور ناانصاف … اور یہ دونوں ہی باتیں ایسی ہیں جن سے اللہ جل شانہ بالکل پاک ہے۔
Top