Mutaliya-e-Quran - An-Nisaa : 93
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا ضَرَبْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَتَبَیَّنُوْا وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰۤى اِلَیْكُمُ السَّلٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا١ۚ تَبْتَغُوْنَ عَرَضَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١٘ فَعِنْدَ اللّٰهِ مَغَانِمُ كَثِیْرَةٌ١ؕ كَذٰلِكَ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ فَتَبَیَّنُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا
يٰٓاَيُّھَا : اے الَّذِيْنَ : جو لوگ اٰمَنُوْٓا : ایمان لائے اِذَا : جب ضَرَبْتُمْ : تم سفر کرو فِيْ : میں سَبِيْلِ اللّٰهِ : اللہ کی راہ فَتَبَيَّنُوْا : تو تحقیق کرلو وَلَا : اور نہ تَقُوْلُوْا : تم کہو لِمَنْ : جو کوئی اَلْقٰٓى : دالے (کرے) اِلَيْكُمُ : تمہاری طرف السَّلٰمَ : سلام لَسْتَ : تو نہیں ہے مُؤْمِنًا : مسلمان تَبْتَغُوْنَ : تم چاہتے ہو عَرَضَ : اسباب (سامان) الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا : دنیا کی زندگی فَعِنْدَ : پھر پاس اللّٰهِ : اللہ مَغَانِمُ : غنیمتیں كَثِيْرَةٌ : بہت كَذٰلِكَ : اسی طرح كُنْتُمْ : تم تھے مِّنْ قَبْلُ : اس سے پہلے فَمَنَّ : تو احسان کیا اللّٰهُ : اللہ عَلَيْكُمْ : تم پر فَتَبَيَّنُوْا : سو تحقیق کرلو اِنَّ : بیشک اللّٰهَ : اللہ كَانَ : ہے بِمَا : اس سے جو تَعْمَلُوْنَ : تم کرتے ہو خَبِيْرًا :خوب باخبر
اُن کے لیے اللہ کی طرف سے بڑے درجے ہیں اور مغفرت اور رحمت ہے، اور اللہ بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے
[ دَرَجٰتٍ : درجات ہوتے ہوئے ] [ مِّنْہُ : اس (کی طرف) سے ] [ وَمَغْفِرَۃً : اور مغفرت ہوتے ہوئے ] [ وَّرَحْمَۃً : اور رحمت ہوتے ہوئے ] [ وَکَانَ : اور ہے ] [ اللّٰہُ : اللہ ] [ غَفُوْرًا : بےانتہا بخشنے والا ] [ رَّحِیْمًا : ہر حال میں رحم کرنے والا ] نوٹ 1: جو شخص اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہو ‘ تو مسلمانوں پر لازم ہے کہ اس کو مسلمان سمجھیں۔ اگر وہ نماز نہیں پڑھتا ‘ روزہ نہیں رکھتا اور ہر قسم کے گناہوں میں ملوث ہے ‘ پھر بھی اس کو اسلام سے خارج کہنے یا اس کے ساتھ کافروں کا معاملہ کرنے کا کسی کو حق نہیں ہے جب تک اس سے کسی ایسے قول و فعل کا صدور نہ ہو جو کفر کی یقینی علامت ہے ۔ (معارف القرآن) نوٹ 2 : اگر ایک مسلمان حقوق اللہ اور حقوق العباد کی حتی المقدور ادائیگی کرتا ہے لیکن اللہ کے دین کی نشرواشاعت ‘ دعوت و تبلیغ اور سربلندی کی جدوجہد میں حصہ نہیں لیتا ‘ تو اس کوتاہی کی وجہ سے وہ دنیا میں فاسق یا مردود نہیں ہوجاتا بلکہ ایک اچھا مومن ہی رہتا ہے۔ البتہ جنت کی سوسائٹی میں ‘ مذکورہ جدوجہد میں حصہ لینے والوں کے مقابلہ میں اس کا رتبہ (status) کمتر ہوگا۔ اس سے معلوم ہوگیا کہ جہاد (قتال) فرض کفایہ ہے ‘ فرض عین نہیں ہے۔ یعنی اگر مسلمانوں کی کافی تعداد وقت کی ضرورت کے مطابق جہاد کرتی رہے ‘ تو جہاد نہ کرنے والوں پر کوئی گناہ نہیں ورنہ سب گنہگار ہوں گے ۔ (تفسیر عثمانی (رح) )
Top