Mufradat-ul-Quran - Al-Ankaboot : 46
اُتْلُ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنَ الْكِتٰبِ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ١ؕ اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لَذِكْرُ اللّٰهِ اَكْبَرُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تَصْنَعُوْنَ
اُتْلُ : آپ پڑھیں مَآ : جو اُوْحِيَ : وحی کی گئی اِلَيْكَ : آپ کی طرف مِنَ الْكِتٰبِ : کتاب سے وَاَقِمِ : اور قائم کریں الصَّلٰوةَ ۭ : نماز اِنَّ : بیشک الصَّلٰوةَ : نماز تَنْهٰى : روکتی ہے عَنِ الْفَحْشَآءِ : بےحیائی سے وَالْمُنْكَرِ ۭ : اور برائی وَلَذِكْرُ اللّٰهِ : اور البتہ اللہ کی یاد اَكْبَرُ ۭ : سب سے بڑی بات وَاللّٰهُ : اور اللہ يَعْلَمُ : جانتا ہے مَا تَصْنَعُوْنَ : جو تم کرتے ہو
اور ویسی ہی39 ہم نے اتاری تجھ پر کتاب سو جن کو40 ہم نے کتاب دی ہے وہ اس کو مانتے ہیں اور ان مکہ والوں میں بھی بعضے ہیں کہ اس کو مانتے ہیں اور منکر وہی ہیں ہماری باتوں سے جو نافرمان ہیں
39:۔ کاف بیان کمال کے لیے ہے اور یہ الکتاب یعنی قرآن کو ماننے کی ترغیب ہے۔ ایسی عظیم الشان، مدلل اور محکم کتاب نازل کرنا ہمارا ہی کمال ہے۔ اب تمہیں اس کتاب پر عمل کرنا چاہیے۔ 40:۔ یہ دعوی توحید پر نقلی دلیل ہے مؤمنین اہل کتاب سے۔ یعنی اہل کتاب میں سے جو حق پسند اور منصف مزاج ہیں وہ قرآن پر ایمان لا چکے ہیں یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن اور اس کا بیان کردہ مسئلہ توحید ہے۔ ومن ھؤلاء سے اہل عرب یا اہل مکہ مراد ہیں۔ یعنی اہل کتاب کے علاوہ خود ان مشرکین میں سے بھی بہت سے لوگ ایمان لا چکے ہیں۔ وما یجحد، یہ زجر ہے۔ اہل کتاب اور مشرکین میں سے جو لوگ انصاف پسند تھے وہ تو ایمان لا چکے ہیں اور ہماری آیتوں کا انکار صرف وہی لوگ کرتے ہیں جو ضدی اور معاند ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ اہل کتاب اور مشرکین میں سے بہت سے لوگ حق کو سمجھنے کے باوجود محض ضد وعناد کی وجہ سے ایمان نہیں لاتے۔
Top