Taiseer-ul-Quran - Al-Ankaboot : 43
وَ لَا تُجَادِلُوْۤا اَهْلَ الْكِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ١ۖۗ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ وَ قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِالَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ وَ اِلٰهُنَا وَ اِلٰهُكُمْ وَاحِدٌ وَّ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ
وَلَا تُجَادِلُوْٓا : اور تم نہ جھگڑو اَهْلَ الْكِتٰبِ : اہل کتاب اِلَّا : مگر بِالَّتِيْ : اس طریقہ سے جو ھِىَ اَحْسَنُ ڰ : وہ بہتر اِلَّا : بجز الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا : جن لوگوں نے ظلم کیا مِنْهُمْ : ان (میں) سے وَقُوْلُوْٓا : اور تم کہو اٰمَنَّا بالَّذِيْٓ : ہم ایمان لائے اس پر جو اُنْزِلَ : نازل کیا گیا اِلَيْنَا : ہماری طرف وَاُنْزِلَ : اور نازل کیا گیا اِلَيْكُمْ : تمہاری طرف وَاِلٰهُنَا : اور ہمارا معبود وَاِلٰهُكُمْ : اور تمہارا معبود وَاحِدٌ : ایک وَّنَحْنُ : اور ہم لَهٗ : اس کے مُسْلِمُوْنَ : فرمانبردار (جمع)
ہم یہ مثالیں لوگوں 69 (کو سمجھانے) کے لیے بیان کرتے ہیں۔ مگر انھیں سمجھتے وہی ہیں جو اہل علم ہے
69 اس آیت کے بھی دو مطلب ہیں ایک یہ کہ اقوام عالم کے یہ واقعات اس لئے بیان کرتے ہیں کہ لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ انبیاء کی تکذیب اور اللہ کی نافرمانی کرنے والوں کا کیا انجام ہوتا ہے۔ اور اللہ اپنے فرمانبرداروں کو ظالموں سے نجات دینے کی کیسی کیسی صورتیں پیدا کردیتا ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ کفار مکہ کو ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ اللہ کی شان اس بات سے بہت بلند تر ہے کہ مکھی، مچھر اور مکڑی جیسی حقیر مخلوق کی مثالیں بیان کرے۔ ایسا اعتراض جاہل قسم کے لوگ ہی کرسکتے ہیں اہل علم نہیں کرسکتے۔ اہل علم تو صرف یہ دیکھتے ہیں کہ آیا ممنل اور ممنل لہ جو شبیہ بیان کی جارہی ہے وہ درست ہے ؟ اگر وہ درست ہے تو پھر مثال بھی درست ہے وہ یہ نہیں دیکھتے کہ مثال بیان کرنے والی ہستی کوئی بڑی ہستی ہے یا چھوٹی۔
Top